Monday , September 25 2017
Home / شہر کی خبریں / اپوزیشن کی گروپ بندیوں سے حکمراں جماعت کو فائدہ؟

اپوزیشن کی گروپ بندیوں سے حکمراں جماعت کو فائدہ؟

عوامی ناراضگی دور کرنے ٹی آر ایس چوکس،ورنگل میں کانگریس اور دیگر پارٹیوں میں حکمت عملی کا فقدان

محمد نعیم وجاہت
حیدرآباد /18 نومبر۔ حلقہ لوک سبھا ورنگل کے ضمنی انتخاب میں عوام ٹی آر ایس پر اپنی ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں، تاہم اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کے درمیان گروپ بندی اور اختلافات حکمراں جماعت کے لئے سود مند ثابت ہو رہے ہیں۔ کل شام 5 بجے انتخابی مہم کا اختتام ہوگا، 21 نومبر کو 15 لاکھ سے زائد رائے دہندے 23 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کریں گے اور 24 نومبر کی دوپہر تک جیت ہار کا فیصلہ ہوجائے گا۔ ورنگل میں انتخابی مہم عروج پر ہے، مقابلہ کرنے والے امیدوار اور ان کے حق میں مہم چلانے والے سیاسی قائدین گھر گھر پہنچ کر عوام سے ملاقات کر رہے ہیں۔ حکمراں ٹی آر ایس کے قائدین کو عوامی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری پر کمریا نامی ایک کسان نے چپل پھینک کر اپنی ناراضگی ظاہر کی۔ کئی مقامات پر وزراء اور ٹی آر ایس کے منتخب عوامی نمائندوں کو عوامی غیظ و غضب کا سامنا کرنا پڑا۔ پہلی مرتبہ چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ کے سامنے عوام نے جلسہ عام میں احتجاج کرتے ہوئے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ اسی طرح مسلم خواتین نے پوسٹر دکھاکر مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے، ایم آر پی ایس کے کارکنوں نے ایس سی زمرہ بندی اور آشا ورکرس نے انصاف کا مطالبہ کیا۰ ورنگل میں انتخابی مہم چلانے والے وزراء اور ٹی آر ایس کے منتخب عوامی نمائندوں سے مسلمانوں نے ملاقات کرتے ہوئے 12 فیصد مسلم تحفظات کے بارے میں استفسار کیا۔ اس طرح نوجوان، خواتین، کسان، کنٹراکٹ ملازمین، مسلمان اور دیگر طبقات اپنی ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں ٹی آر ایس قائدین اور کارکنوں میں نامزد، بورڈ اور کارپوریشن کے عہدوں پر نامزدگی نہ کرنے پر ناراضگی پائی جاتی ہے، اس کے باوجود 9 وزراء حلقہ لوک سبھا ورنگل میں کیمپ کرکے عوامی ناراضگی دور کرنے اور ٹی آر ایس کے حق میں ان کی تائید حاصل کرنے میں مصروف ہیں۔ ٹی آر ایس قائدین حکومت کی تمام خامیوں پر قابو پانے اور رائے دہندوں سے ملاقات کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

کانگریس قائدین کے چہروں پر بظاہر مسکراہٹ ہے، مگر اندرونی طورپر کوئی بھی ذمہ داری قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ حلقہ لوک سبھا ورنگل کے 7 کے منجملہ 4 حلقوں کے سابق وزراء اور سابق ارکان اسمبلی ناراض ہیں۔ پارٹی امیدوار کی کامیابی کے لئے کوئی خاص حکمت عملی نظر نہیں آر رہی ہے، جس کی وجہ سے حکومت کے خلاف عوامی ناراضگی کا فائدہ کانگریس قائدین کو نہیں ہو رہا ہے۔ پارٹی کے اہم قائدین اتم کمار ریڈی، کے جانا ریڈی، محمد علی شبیر، بٹی ملو وکرامارک اور پنالہ لکشمیا ورنگل میں کیمپ کرتے ہوئے عوام کے درمیان پہنچ رہے ہیں، تاہم اب تک عوام کی صحیح نباضی نہیں کرسکے۔ دراصل کانگریس کیڈر میں خود اعتمادی کا فقدان ہے، جسے دور کرنے کے لئے کوئی سامنے نہیں آرہا ہے۔ کانگریس ہائی کمان نے پارٹی قائدین میں اتحاد اور پارٹی کیڈر میں جوش و خروش پیدا کرنے کے لئے قومی قائدین کو ورنگل روانہ کیا ہے۔ تلگودیشم نے اس حلقہ میں بی جے پی امیدوار کی تائید کا فیصلہ کیا ہے، مگر دونوں جماعتوں کے قائدین کے درمیان صحیح تال میل نہیں ہے۔ اس حلقہ میں بی جے پی کا کوئی اثر نہیں ہے، ماضی میں تلگودیشم کی تائید سے دو اسمبلی حلقوں میں بی جے پی امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔ تلگودیشم کا ووٹ بینک ضرور ہے، مگر اس کا بی جے پی کے حق میں تبدیل ہونا مشکل ہے۔ تلنگانہ کے ضمنی انتخاب میں کونڈا سریکھا کے علاوہ وائی ایس آر کانگریس نے کبھی مقابلہ نہیں کیا، تاہم صدر وائی ایس آر کانگریس جگن موہن ریڈی طوفانی انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ کمیونسٹ جماعتوں کا متحدہ امیدوار میدان میں ہے۔ آزاد امیدوار بھی میدان میں ہیں، لیکن ورنگل کے عوام کس پر بھروسہ کرتے ہیں؟، اس سوال کا جواب 24 نومبر کو معلوم ہو جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT