Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / اپوزیشن کے اشاروں پر کودنڈا رام کی حکومت پر تنقیدیں

اپوزیشن کے اشاروں پر کودنڈا رام کی حکومت پر تنقیدیں

تلنگانہ کی ترقی میں رکاوٹ کا الزام ، ٹی آر ایس قائدین کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔24 اگست (سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے رکن پارلیمنٹ بی سمن اور رکن قانون ساز کونسل بھانو پرساد نے تلنگانہ جے اے سی کے صدرنشین پروفیسر کودنڈارام کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کودنڈارام ایک طرف تلنگانہ میں جمہوریت نہ ہونے کا الزام عائد کررہے ہیں تو دوسری طرف وہ کھلے عام کسی رکاوٹ کے بغیر یاترائوں میں مصروف ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ٹی آر ایس قائدین نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے اشاروں پر کودنڈارام حکومت کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔ ان کا مقصد تلنگانہ کی ترقی نہیں بلکہ ترقی میں رکاوٹ پیدا کرنا ہے۔ رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ تلنگانہکی ترقی میں رکاوٹ پیدا کرنے والے دراصل تلنگانہ کے غدار ہیں۔ کودنڈارام کو اپنے رویہ میں تبدیلی لاتے ہوئے حکومت پر تنقیدوں کا سلسلہ بند کرنا چاہئے۔ رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران جن طاقتوں نے علیحدہ ریاست کی مخالفت کی تھی کودنڈارام آج ان سے ہاتھ ملاچکے ہیں۔ کانگریس قائدین نے اپنی کرسیوں کے تحفظ کے لیے تلنگانہ تحریک سے خود کو دور رکھا تھا لیکن آج تلنگانہ کے حق میں بلند بانگ دعوے کررہے ہیں۔ سمن نے ریمارک کیا کہ کودنڈارام دراصل کودنڈارانگ ہیں اور ان کا ہر قدم غلط راستے پر چل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبپاشی پراجیکٹس کے سلسلہ میں حکومت نے عوام سے رائے حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اور جہاں کہیں بھی عوامی رائے حاصل کرنے کا پروگرام منعقد کیا جائے اپوزیشن قائدین رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ سمن نے کہا کہ پدا پلی ضلع میں کل کالیشورم پراجیکٹ کے سلسلہ میں عوامی سماعت کا اہتمام کیا گیا تھا اور کانگریس کے قائد اور سابق وزیر سریدھر بابو نے رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کانگریس اس پراجیکٹ کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنا چاہتی ہے۔ سمن نے کہا کہ کلکٹر پربھاکر ریڈی نے سریدھر بابو سے بارہا درخواست کی کہ وہ احتجاج سے دستبردار ہوجائیں لیکن وہ اپنے حامیوں کے ساتھ چیف منسٹر کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ کانگریس قائدین کے رویہ کی مذمت کرتے ہوئے ٹی آر ایس عوامی نمائندوں نے کہا کہ دراصل کانگریس نہیں چاہتی کہ تلنگانہ کے کسان خوش حال ہوجائیں۔ کانگریس دور حکومت میں کریم نگر سے بڑی تعداد میں نوجوانوں نے خلیجی ممالک کا رخ کرلیا کیوں کہ انہیں ضلع میں روزگار کے مواقع فراہم نہیں کیئے گئے۔ کانگریس کے قائدین نے اس وقت عوام کی بھلائی پر کوئی توجہ نہیں دی لیکن آج تلنگانہ کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT