Sunday , October 22 2017
Home / اضلاع کی خبریں / اپوزیشن ۔ حکومت ٹکراؤ

اپوزیشن ۔ حکومت ٹکراؤ

برسر عام لڑتے ہیں لیکن
جب بھی ملتے ہیں مسکراتے ہیں
اپوزیشن ۔ حکومت ٹکراؤ
کسی بھی جمہوری ڈھانچہ میں اپوزیشن اور حکومت کے مابین مختلف مسائل پر ٹکراو عام بات ہے ۔ حکومت کسی بھی پالیسی فیصلے کا اعلان کرتی ہے یا نئی قانون سازی کرتی ہے تو اپوزیشن کی جانب سے اس کے اثرات کا جائزہ لیا جاتا ہے اور اپنے نقطہ نظر کو پیش کرتے ہوئے حکومت کی تجاویز سے اختلاف کیا جاتا ہے ۔ پھر حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں میں تبادلہ خیال ہوتا ہے ۔ حکومت کی کچھ تجاویز کو اپوزیشن تسلیم کرتی ہے اور اپوزیشن کی پیش کردہ کچھ ترامیم کو حکومت بھی تسلیم کرتی ہے ۔ یہ جمہوری عمل کا تسلسل ہے اور اس پر اب تک عمل ہوتا آیا ہے ۔ تاہم اب ہندوستان میں این ڈی اے حکومت اور کانگریس زیر قیادت اپوزیشن کے مابین اختلافات نے عملا ٹکراو کی کیفیت اختیار کرلی ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ اپوزیشن اور حکومت دونوں ہی ملک میں جمہوری انداز میں حکومت نہیں چلا رہے ہیں بلکہ یہ سیاسی میدان میںٹکراو کیلئے ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں۔ اپوزیشن ہو یا حکومت ہو دونوں ہی ایسا تاثر دے رہے ہیں کہ وہ اپنے اپنے موقف سے ایک انچ بھی ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔ جہاں اپوزیشن اپنے مطالبات پر اٹل ہے وہیں حکومت بھی اپنے موقف میں کوئی لچک یا نرمی پیدا کرنے کو تیار نظر نہیں آتی ۔ اس صورتحال میں پارلیمنٹ کا انتہائی قیمتی وقت ضائع ہوتا جا رہا ہے اور عوامی مسائل دھرے کے دھرے ہیں۔ یہاں کوئی مسائل حل نہیں ہو رہے ہیں اور نہ ہی عوامی اہمیت کے مسائل پر کوئی پیشرفت ہو رہی ہے ۔ نریندر مودی کی قیادت میں این ڈی اے حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے مسلسل ایسے حالات پیدا ہوتے رہے ہیں جن کے نتیجہ میں اپوزیشن اور حکومت کے مابین ٹکراو کا سلسلہ چلتا ہی جا رہا ہے ۔ جہاں اپوزیشن جماعتیں عوام کے سامنے اپنے موقف کو رکھتے ہوئے اسے درست قرار دینے میں مصروف ہیں وہیں حکومت بھی اپوزیشن کوتنقیدوں کا نشانہ بنانے اور اس پر ترقیاتی عمل اور اہم پالیسی فیصلوں میں رکاوٹ پیدا کرنے کا الزام عائد کر رہی ہیں۔ اپوزیشن اپنے مطالبات کو پیش کرتے ہوئے خود کو بری الذمہ سمجھ رہی ہے تو حکومت بھی محض اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے خود کو بری سمجھ رہی ہے ۔ یہ صورتحال ملک کیلئے اور ملک کی جمہوریت کیلئے اچھی نہیں ہے ۔
اپوزیشن اور حکومت کا جو رویہ ہے اس کے نتیجہ میں جمہوری عمل کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے اور جمہوری عمل کی افادیت پر سوال پیدا ہو رہے ہیں۔ جمہوری عمل کی اہمیت ‘ افادیت اور اس کی ساکھ کا تحفظ کرنا ہر گوشہ کی ذمہ داری ہے ۔ چاہے اپوزیشن ہو یا حکومت ہو ‘ غیر سرکاری تنظیمیں ہوں یا قومی مفاد میں کام کرنے والی تنظیمیں ہوں سبھی کیلئے ضروری ہے کہ وہ سیاسی اختلافات اور اپنے نقطہ نظر سے قطع نظر جمہوریت کی اہمیت اور افادیت کو اور اس کی ساکھ کو بچانے کیلئے کام کریں۔ اپوزیشن جماعتیں ہوں یا حکومت کو سب کو اپنے موقف میں نرمی اور لچک پیدا کرتے ہوئے عوامی مسائل پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے ۔ ملک میں ماہرین قانون و دستور موجود ہیں ۔مختلف امور اور مسائل پر گہری نظر رکھنے والے موجود ہیں ان کی خدمات حاصل کرتے ہوئے اپوزیشن اور حکومت اپنے اپنے موقف کو پیش کرسکتی ہیںاور پھر ان سے کوئی رائے طلب کی جاسکتی ہے ۔ اس طرح سے مختلف مسائل پر جو تعطل پیدا ہوا ہے اس کو ختم کرنے کیلئے کم از کم سنجیدہ کوششیں ہوسکتی ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ابھی تک کسی بھی گوشے سے اس سلسلہ میںکوئی سنجیدہ کوشش ہی نہیں ہوئی ہے ۔ ایسی غفلت یا تغافل کسی کیلئے بھی ٹھیک نہیں ہے اور محض ہٹ دھرمی کے ذریعہ نہ ملک چلایا جاسکتا ہے نہ کوئی اچھا کام ہوسکتا ہے ۔ محض زبانی بلند بانگ دعوے کرلینے سے مسائل حل نہیں ہوسکتے اور نہ ملک کا کوئی بھلا ہوسکتا ہے ۔ ملک اور قوم کو بے طرح مسائل کا سامنا ہے اور ان مسائل پر ہر گوشے کو اپنی اپنی حیثیت میں توجہ کرنے کی ضرورت ہے ۔
اب تک پارلیمنٹ دو تین سشن ہنگامہ آرائی اور گڑبڑ کی نذر ہوچکے ہیں۔ ان سشنس میں کوئی کارروائی یا قانونی کام کاج نہیں ہوسکا ہے ۔ کروڑ ہا روپئے عوامی ٹیکس اس کی وجہ سے ضائع ہوگیا ہے ۔ اس کی ذمہ داری جہاں اپوزیشن پر عائد ہوتی ہے وہیں حکومت بھی اس سے خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی ۔حکومت اور اپوزیشن کے مابین ٹکراو کی جو موجودہ صورتحال ہے اس کو دیکھتے ہوئے دونوں ہی فریقین کو اپنے اپنے موقف میں نرمی پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ جب تک حکومت اور اپوزیشن اختلافات کو حل کرنے اور ٹکراو کی کیفیت کو ختم کرنے کیلئے سنجیدگی سے کوشش نہیں کرینگے اس وقت تک مسئلہ کا کوئی حل دریافت نہیں ہوسکتا اور  جب تک ٹکراو کی کیفیت ختم نہیں ہوسکتی ملک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہوسکتا ۔ ٹکراو کی کیفیت کو ختم کرتے ہوئے حالات کو بہتر بنانا ہر دو کی ذمہ داری ہے اور یہ ذمہ داری انہیں بہرصورت پوری کرنی چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT