Tuesday , June 27 2017
Home / Top Stories / اچار ، انسولین ، کمپیوٹر پرنٹرس پر جی ایس ٹی شرحوں میں کمی

اچار ، انسولین ، کمپیوٹر پرنٹرس پر جی ایس ٹی شرحوں میں کمی

NEW DELHI, JUNE 11 (UNI):- Union Minister for Finance, Corporate Affairs and Defence Arun Jaitley chairing the 16th Meeting of the GST Council, in New Delhi on Sunday. Minister of State for Finance Santosh Kumar Gangwar and Revenue Secretary Hasmukh Adhia are also seen. UNI PHOTO-72U

جملہ 66 اشیاء اور ورکرس کے سرویس ٹیکس پر نظرثانی ، چھوٹے تاجرین کو راحت
نئی دہلی ۔ /11 جون (سیاست ڈاٹ کام) ملک بھر میں جی ایس ٹی متعارف کرنے کیلئے اب جبکہ 3 ہفتہ باقی رہ گئے ہیں ، جی ایس ٹی کونسل نے تقریباً 66 اشیاء بشمول کچن میں استعمال ہونے والی اشیاء جیسے اچار اور مسٹرڈ ساؤس کی ٹیکس شرحوں میں کمی کی ہے اس کے علاوہ چھوٹے تاجرین کو راحت فراہم کی ۔ جی ایس ٹی کونسل نے اب تک 1200 اشیاء کو ٹیکس کے چار مختلف زمروں ، 5 ، 12 ، 18 اور 28 فیصد میں شامل کیا ہے ۔ اس کے بعد مختلف گوشوں سے شکایات موصول ہونے لگی ۔ جی ایس ٹی کونسل نے آج 16 ویں مرتبہ اپنا اجلاس منعقد کرتے ہوئے ان مطالبات کا جائزہ لیا اور 133 اشیاء کی ٹیکس شرحوں پر نظرثانی کی لیکن ان میں صرف 66 اشیاء بشمول اگربتی ، کمپیوٹر پرنٹر ، کاجو ، بچوں کے ڈرائینگ بکس اور اسکول بیاگس پر ٹیکس شرحوں میں کمی کی ہے ۔ کونسل نے چھوٹے تاجرین کو بھی راحت فراہم کرتے ہوئے جی ایس ٹی میں شامل ہونے کیلئے مجوزہ 50 لاکھ روپئے کی حد کو بڑھا کو 75 لاکھ روپئے کیا ہے ۔ چنانچہ اب تاجرین ، مینوفیکچررس اور رسٹورنٹ مالکین جن کا ٹرن اوور 75 لاکھ سے کم ہو وہ اجتماعی اسکیم اختیار کرتے ہوئے بالترتیب 1 ، 2 اور 5 فیصد شرحوں سے ٹیکس ادا کرسکتے ہیں ۔

ارون جیٹلی نے کہا کہ ان ٹیکس شرحوں میں کمی کے دو مقاصد ہیں ۔ ہم نے ممکنہ حد تک ریونیو کا چلن برقرار رکھنے کی کوشش کی جس سے ہمیں مالی نقصان ہوگا لیکن چھوٹے تاجرین پر بوجھ کم ہوگا ۔ اس کے ساتھ ساتھ ان تین زمروں میں چونکہ روزگار کی فراہمی کے زیادہ مواقع ہیں اس میں بھی سہولت ہوگی ۔ جی ایس ٹی کونسل کی جانب سے نظرثانی شدہ شرحوں کے مطابق فلم ٹکٹس جو 100 روپئے تک ہوں ان پر 18 فیصد ٹیکس عائد ہوگا جب کہ اس سے پہلے 28 فیصد کی تجویز تھی ۔ 100 روپئے سے زائد کے ٹکٹ پر 28 فیصد جی ایس ٹی برقرار رہے گا ۔ پیاکیج فوڈ ایٹمس جیسے میوے اور ترکاری کے پراڈکٹس ، آچار ، مربہ ، کیچ اپ ، مسٹرڈ ساؤس ، انسٹینٹ فوڈ مکس اور چٹنی پر 12 فیصد جی ایس ٹی عائد ہوگا جبکہ پہلے 18 فیصد کی تجویز تھی ۔ کاجو پر بھی ٹیکس شرحیں 12 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کی گئی ہے ۔ جی ایس ٹی نے انسولین اور اگربتی پر بھی 12 فیصد ٹیکس کو کم کرکے 5 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ کمپیوٹر پرنٹرس اور اسکول بیاگس پر 18 فیصد شرح سے ٹیکس عائد ہوگا ۔ اس سے پہلے ان پر 28 فیصد ٹیکس کی تجویز تھی ۔ اس کے علاوہ بچوں کے پکچر ، کلرنگ ، ڈرائینگ بکس کو جی ایس ٹی سے استثنیٰ دیا گیا ہے جبکہ اس سے پہلے 12 فیصد ٹیکس کی تجویز تھی ۔ کاجل پر 28 فیصد ٹیکس کی تجویز واپس لیتے ہوئے اسے 18 فیصد کیا گیا ہے ۔ ٹیکسٹائیل ، ڈائمنڈ پراسسنگ ، لیدر ، جیولری اور پرنٹنگ شعبہ میں ملازمت کرنے والوں کیلئے ٹیکس شرحیں 5 فیصد رکھی گئی ہے جبکہ اس سے پہلے ان سرویسیس کیلئے 18 فیصد ٹیکس شرحیں مقرر کی گئی تھی ۔ حکومت یکم جولائی سے جی ایس ٹی نافذ کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے اور ارون جیٹلی نے کہا کہ جی ایس ٹی کونسل نے کئی امور پر بحث مکمل کرلی ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT