Sunday , August 20 2017
Home / مذہبی صفحہ / اچھی سفارش ثواب اور بُری سفارش گناہ ہے

اچھی سفارش ثواب اور بُری سفارش گناہ ہے

حافظ محمد ہاشم قادری صدیقی

جومسلمان کسی اچھی ،جائز نیک کاموںکی سفارش کرے یا کسی کو اچھا مشورہ دے تو اسے نیک سفارش اچھا مشورہ دینے کی وجہ سے اس کی نیکی میں یا اس  کے اجر میں حصہ ملے گا اور جو بری بات کی سفارش کرے یا کسی کو برا مشورہ دے یا فساد پھیلانے کی کوشش کرے تو اس کو برائی کے حصے کا عذاب ملے گا۔اللہ ہر چیز پر قادر ہے وہ ہر ایک کو اس کے ہر عمل کا ثواب و عذاب دے سکتا ہے اور ہر نیکی و گناہ میں ہر حقدار کو اس کے حق کے بقدر گناہ دے گا۔
آج دنیا میں نت نئے بگاڑ کی وجہ بری سفارش ہی ہے گھر ،محلہ،سماج سوسائٹی سے لیکر حکومتوں اور حد تو یہ ہوگئی کہ عدالتی نظام تک یہ وبا سرایت کر گئی ہے، اس سے ظلم کو بڑھاوا مل رہا ہے حالانکہ مذہب اسلام نے سفارش کی جتنی زور دار سفارش کی ہے اتنی کسی مذہب نے نہیں کی۔
ارشاد نبوی: مصطفی جان رحمت ﷺ کا فرمان عالیشان ہے ’’ سفارش کرو،ثواب ملے گا ‘‘  ارشاد ربی ہے’’ جو اچھی سفارش کرے اس کے لئے اس میں حصہ ہے جو بری سفارش کرے اس کے لئے اس میں حصہ ہے اور اللہ ہرچیز پر قادر ہے‘‘(پارہ ۴؍ رکوع ۷؍سورہ نساء آیت نمبر ۸۴)۔
کسی کو مصیبت سے چھُڑانے کے لئے سفارش کرنا ثواب ہے اور کسی ظالم کو چُھڑانے یا ظلم کرانے کے لئے سفارش کرنا حرام ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ گناہ کرنا بھی حرام ہے اور گناہ کا مشورہ دینا یہ سب حرام ہے۔معلوم یہ ہوا کہ اچھی سفارش کرنا ثواب ہے اور بری سفارش کرنا گناہ ہے۔یہی حال نیکی کا ہے نیکی کی سفارش ثواب ہے نیکی کرنا ثواب ہے(تفسیر نورالعرفان جلد اول)اس آیت کا یہ مفہوم بھی بیان کیا گیاہے کہ مشکل میں کسی بھائی کی امدادکرنا اس کے حقوق کی بازیابی کی سعی کرنا،اس کو نفع پہنچانا اور اس سے کسی تکلیف کو دور کرنے میں کوشاں ہونا بشرطیکہ اس سے کسی غیرکی حق تلفی نہ ہو تو یہ اچھی سفارش ہے اور اس پر سفارش کرنے والے کو اجر ملے گا۔اور اگر ایسی سفارش کی جس سے کسی کی حق تلفی ہوئی یا کسی پر ظلم ہوا تو بُری سفارش ہے اور سفارش کرنے والا گنہگار ہوگا۔ سرکار مدینہﷺ کا ارشاد عالی ہے  ’’سفارش کرو ثواب ملے گا‘‘  لیکن یہی اسلام سزاؤں کے معاملے میں سفارش کو بالکل برداشت نہیں کرتا۔

حضور کے زمانے میں قبیلۂ قریش کے بڑے خاندان کی مخزومی عورت نے چوری کی ،نبی پاک ﷺ کی عدالت میں معاملہ آیا،جرم ثابت ہوگیا حضور  ﷺ کی عدالت نے ہاتھ کاٹنے کی سزا سنادی،خاندان کے لوگ حرکت میں آگئے،کچھ کرو ورنہ خاندان کی ناک کٹ جائے گی،عزت خاک میں مل جائے گی،لوگ متفکر ہوئے اور کہنے لگے کہ، کوئی ایسا انسان تلاش کرو جو حضور ﷺ کا لاڈلا ہو ،چہیتا ہو کہ حضور ﷺ اس کی بات رکھ لیں،سزا معاف کر دیں سب کی زبان پر، حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کا نام آیا مجرم کے رشتے دار خوش ہو گئے آنکھوں میں چمک آگئی، معاملہ حل ہوتا ہوا نظر آیا ،حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ حضرت زید رضی اللہ عنہ کے بیٹے، حضور ﷺ کے بڑے چہیتے تھے،حضور ﷺ اپنے دونوں زانوں میں ایک پر ان کو (حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ ) بٹھاتے دوسرے پر لاڈلے نواسے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بٹھاتے اور فرماتے اے اللہ مجھے یہ دونوں بہت پیارے ہیں تو ان کو اپنا بنا لے۔ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو سب نے اپنا وکیل بنایا اسامہ ابن زید رضی اللہ عنھما حضور ﷺ کے محبوب ہیں،ان کے سوا ایسے کام (سفارش) کی جرات کون کرسکتا ہے چنانچہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺ  سے گفتگو کی ،تو آپ نے فرمایا ’’ اتشفع فی حدوداﷲ‘‘ کیا تم حدود اللہ میں سفارش کرتے ہو؟ پھر آپ غضبناک ہوئے اور خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا: ’’تم سے پہلے لوگ اس لیے ہلاک ہوئے کہ جب ان کا کوئی معزز چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور چوری کرتا اس پر حد قائم کرتے اللہ کی قسم اگر محمد (ﷺ) کی بیٹی فاطمہ(رضی اللہ عنھا) بھی چوری کرتیں ،میں ان کا بھی ہاتھ کاٹتا‘‘۔ ( سنن ابن ماجہ باب الشفاعۃ فی الحدود جلد اول۔ جامع ترمذی جلد اول)

دنیا کے نت نئے بگاڑ کو نئے نئے قوانین کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن قانون کے ذریعے بگاڑکو ختم نہیں کیا جا سکتا۔قانون محبت،ہمدردی اور اخلاص نہیں پیدا کر سکتا۔اس سے دل جوڑے نہیں جا سکتے،بہتر سے بہتر قانون انسان کے حقوق کی ایک حد تک ہی حفاظت کر سکتا ہے اس کے آگے وہ بے بس ہو جاتا ہے،قانون سے عدل و انصاف کے قیام میں مدد مل سکتی ہے لیکن اس سے ظلم و زیادتی کا خاتمہ ممکن نہیں۔صحیح بات تو یہ ہے کہ دنیا کے بگاڑ اور فساد کا حل اس کے سواکچھ نہیں ہے کہ انسان کے اندر آخرت کا پختہ یقین موجزن رہے وہ اس حقیت کو مانے کہ وہ خدا کا بندہ ہے اور اس کی اطاعت و فرماں برداری اس کے لئے لازم ہے۔ اگر اس نے اطاعت کی تو اللہ کی رحمت کا مستحق ہوگا۔اور اسکی نعمتوں سے نوازا جائے گا اور اگر نا فرمانی کی تو چاہے وہ دنیا میں گرفت سے بچ جائے آخرت کی جوابدہی اور پکڑ سے نہیں بچ سکتااس عقیدے کے جو اثرات مرتب ہوتے ہیں اس سے انسان کے روئیے میں زبردست انقلاب آتا ہے آخرت کی جوابدہی کے خوف سے انسان میں تبدیلی یقینی ہے۔اسلامی تاریخ میں حیرت انگیز واقعات دیکھے ،پڑھے جا سکتے ہیں۔جیسا کہ ایک واقعہ حدیث پاک کے حوالے سے پیش خدمت ہے۔

مرو بن سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ حضور کے خدمت میں آئے اور عرض کی یا رسول اللہ !میں نے فلاں شخص کا اونٹ چرایا ہے مجھے پاک کر دیجیے حضور ﷺ نے ان لوگوں کے پاس آدمی بھیجاپتہ لگانے اور گواہی کے لئے (یہاں صرف ایک بات نمونے کے طور پر عرض کر دوں کہ اسلامی شریعت (Court)میں کوئی گواہی دے کر جاتا ہے اپنے طرف سے مزکی کے ذریعے اطمینان نہ کر لے کہ اس شخص کے اندر گواہ بننے کی صلاحیت(Liability)ہے یا نہیں ۔ جب گواہی پوری ہوگئی اونٹ کے مالک نے کہا ہمارا اونٹ گم ہو گیا ہے۔تب حضور ﷺنے عمروکا ہاتھ کاٹ دینے کا حکم دیاان کا ہاتھ کاٹا گیا ،راوی حدیث حضرت ثعلبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ان کا ہاتھ کٹ کر گرا تو میں انہیں دیکھ رہا تھا وہ کہہ رہے تھے ،خدا کا شکر ہے اس نے مجھے تجھ سے پاک کردیا،تو چاہتا تھا کہ تو میرے پورے بدن کو جہنم میں لے جائے(سنن ابن ماجہ جلد اول )
گناہ کی مدد کرنا بھی گناہ ہے: سورہ مائدہ آیت۲ میں اںﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا: ’’اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو‘‘۔ اس سے معلوم ہوا گناہگار کی مدد کرنا بھی گناہ ہے چوری کرنا ،چور کی مدد کرنا،چوری کا مال گھر میں رکھنا سب جرم ہے ایسے ہی نیکی کرنااور کرانانیکی پر مدد کرنا سب میں ثواب ہے۔ اللہ سے دعا ہے اللہ ہم سب کو سفارش جیسے معاملے کو سمجھنے اور اسلامی شریعت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

TOPPOPULARRECENT