Wednesday , October 18 2017
Home / ادبی ڈائری / اچھی کتاب کا مقدر تنہائی ہے

اچھی کتاب کا مقدر تنہائی ہے

سرور الہدیٰ
جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی
ہر اچھی کتاب کا مقدر تنہائی ہے۔ اس سچائی میں کتاب کی عظمت کا راز پوشیدہ ہے مگر اس سے فرار کی راہ بھی نکلتی ہے۔ اچھی کتاب کی تعریف اور شناخت کا عمل بعض اوقات پیچیدہ ہوجاتا ہے۔ اگر پیچیدگی کا تعلق کتاب کے موضوع اور زبان سے ہو تو بات سمجھ میں آتی ہے۔ اس بنیاد پر بھی اختلاف کیا جانا چاہیے کہ جناب مسائل اور تجزیے کی زبان مشکل ہوگئی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کسی کتاب کا اسلوب دوسرے کے لیے مشکل نہ ہو۔ لیکن بعض مسائل ایسے ضرور ہوتے ہیں جن کی بنیادی اور عمومی سچائی سے انکار مشکل ہے۔ جو لوگ مشکل زبان لکھ کر اپنے مسائل کو مزید مشکل بنانے کا ہنر جانتے ہیں انہیں لگتا ہے کہ مشکل پسندی سے تحریر کا وقار قائم ہوتا ہے۔ اصل میں پیچیدگی تو ذہن میں ہوتی ہے۔ اچھی تحریر کا اسلوب سادہ بھی ہوسکتا ہے اور پیچیدہ بھی۔ اچھی تحریر کی شناخت کا عمل اگر نفسیاتی مسئلہ بن جائے تو نقصان تحریر کا نہیں بلکہ نفسیات کے مریض کا  ہوتا ہے۔ زبان انکار کرتی ہے اور دل معترف ہوتا ہے۔ اندر اور باہر کے اس تضاد کی عمر اگر لمبی ہوجائے تو افسوس کی بات ہے۔کسی اچھی کتاب  کو پڑھنے کے بعد انسان اداس بھی ہوجاتا ہے۔ یہ اداسی اس سرشاری سے تعلق رکھتی ہے کہ آج کوئی اچھی تحریر مطالعہ میں آئی۔ کتاب کے ساتھ وقت اچھا گزرا۔ اچھی تحریر بار بار پڑھے جانے کا تقاضہ کرتی ہے، چاہے وہ تخلیق ہو یا تنقید۔ایک معنی میں فکر انگیز تحریر کی تنہائی اس کا مقدر اس لیے ہے کہ وہ قاری کے ذریعے پھیلتی تو ہے مگر فطری طور پر وہ سمٹتی بھی جاتی ہے۔ کتاب کا کم یا زیادہ پڑھا جانا کھیل تماشا نہیں ہے۔ اس سے ادبی معاشرے کی صحت اور خرابی جڑی ہوئی ہے۔ آپ کیسی اور کتنی کتابیں پڑھتے ہیں ،ظاہر ہے کہ کتابیں ایک جیسی نہیں ہوتیں لیکن کن کتابوں سے ہمارے ذہن نے گہرا اثر قبول کیا ۔کتابوں کے اثرات وقت کے ساتھ کم اور زیادہ ہوتے رہتے ہیں۔ مشکل یہ ہے کہ کتابوں کے سلسلے میں ہم نے سنجیدگی سے غور ہی نہیں کیا۔ ایسی صورت میں اچھی کتابوں اور تحریروں کی پہچان تو مشکل ہوگی۔ ادب کا جمہوری طریقہ ہے کہ کسی عہد میں شائع ہونے والی تمام کتابوں اور رسالوں سے باخبر رہا جائے۔ عملی سطح پرتویہ ممکن نہیں مگر جس حد تک ہو اس پر قابو پایا جائے تو اچھا ہے۔اس کی دو مثالیں بہت روشن ہیں۔ خلیل الرحمن اعظمی اور پھر مظہر امام، کتابوں اور رسالوں کو بلندی پر رکھنے سے پہلے انہیں ایک نظر دیکھتے ضرور تھے۔بعض حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ اچھی کتاب کا تعلق تخلیق سے ہے تنقید سے نہیں۔ اس تعصب سے اگر کسی تخلیقی کتاب کو قاری مل جائے تو بڑی بات ہے۔ تعصب کسی بھی صورت میں انسان کو خراب ہی کرتا ہے۔ تعصب کبھی کبھی داخلی صحت کاو سیلہ بھی بن جاتا ہے مگر اس کے لیے جو پڑھتا بہت ہے ،اور جس نے ادب کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا ہے۔ فکشن اور شاعری کو قارئین کی تعداد زیادہ مل جاتی ہے، تنقید اگر کم پڑھی جاتی ہے تو اس سے تنقید کا کوئی نقصان نہیں ہوتا، بلکہ یہ بات کسی بھی صنف کے لیے کہی جاسکتی ہے۔قاری کا احترام تو کیا ہی جانا چاہیے۔ قاری اور متن کا رشتہ خط مستقیم کی طرح نہیں ہوتا۔ مختلف متون کو پڑھنے والے مختلف لوگ ہوتے ہیں، ان مطالعات کے نتائج ایک کیسے ہوسکتے ہیں؟ پھر بھی یہ سوال باقی رہتا ہے کہ اچھی کتاب کا مقدر تنہائی کیوں ہے؟یہ بات بہت سامنے کی ہے کہ مختلف موضوعات اور اسالیب کے درمیان اگر قاری شعور سے کام نہ لے تو اچھی تحریر نگاہ سے اوجھل ہوجائے گی،کوئی تحریر ہمارے سامنے ہو کر بھی ہماری نہیں ہوتی وہ کسی اور اچھے قاری کی منتظر رہتی ہے۔اس وقت سے ڈرنا چاہیے جب ایک قاری کے طور پر ہماری پسند اور ناپسند گروی ہوجائے اور ایک شئے کی طرح ہماری پسند اور نا پسند استعمال ہونے لگے۔انکار اور اقرار دونوں کے درمیان بڑا فرق ہے۔ایک میں ایک کی گویائی کو فراق نے کسی اور سیاق میں دیکھا تھا۔

اقرار کی ٹھنڈک میں ہے انکار کی گرمی
سائے میں تری ہاں کے نہیں جاگ رہی ہے
اچھی تخلیق اور اچھی تنقید ایک دوسرے سے گریزاں نہیں ہے۔ دونوں کی خوبصورتی کی کچھ الگ الگ بنیادیں ہیں لیکن اپنے بہترین لمحات میں ان دونوں کا مقدر یکجائی بھی ہے اور تنہائی بھی۔ خلیل الرحمن اعظمی نے کہا تھا۔
کیا کہیں ہم کہ ازل سے ہی ملی تھی ہم کو
ایسی تنہائی کہ تم سے بھی مداوا نہ ہوا
جو تنہائی ازل سے انسان کا مقدر ہے اسے تنقید اور تخلیق میںمنقسم کرکے کیوں دیکھیں۔ تخلیق اور تنقید بغیر زبان کے وجود میں نہیں آتی۔ تنہائی اگر ایک بڑی سچائی ہے تو وہ تخلیق کی تنقید میں بھی داخل ہوسکتی ہے۔ کسی اچھی کتاب کا کرب تو قاری کی تلاش ہے۔ مصنف تو غائب ہوجاتا ہے، قاری مصنف کی جگہ لیتا جاتاہے۔ متن کو اسی صورت میں زندگی ملتی ہے، لیکن عجیب بات ہے کہ اس کی تنہائی اور خاموشی کا سلسلہ  دراز ہوتا جاتا ہے۔من موہن تلخ نے کیا بات کہی تھی۔

کسی کے ساتھ نہ ہونے کے دکھ بھی جھیلے ہیں
کسی کے ساتھ مگر اور بھی اکیلے ہیں
مشکل یہ ہے کہ مصنف کا ذکر زیادہ ہوتا ہے، تصنیف کا ذکر کم۔ مصنف کی زندگی میں تو مصنف کو گھٹا یا بڑھایاجا سکتا ہے ، مگر جب مصنف غائب ہو تو بالآخر اس کی تصنیف ہی موضوع گفتگو بنے گی۔شخصی باتیں کب تک اور کہاں تک ساتھ دیں گی ۔ مصنف کے غیاب میں بھی اگر مصنف کی شخصیت ہی گفتگو کا موضوع بن جائے تو یہ ایک طرح کی کمزوری ہے۔ادب میں خوف کا مطلب اور کچھ نہیں کہ آپ ادب کے نام پر کیا لکھ رہے ہیں۔ اگر اس خوف کو محسوس کیا جائے تو اچھی کتاب کی تنہائی کیا ہوتی ہے اس کی منطق بھی سمجھ آجائے گی۔ خوف تو داخلی چیز ہے۔ ادب میں خوف کا مطلب تو یہ نہیں ہوتا کہ آپ کتنے لمبے چوڑے شخص کی صدارت میں مقالہ پڑھ رہے ہیں اور جس سے آپ مخاطب ہیں اس کی آواز آپ کی آواز سے زیادہ اونچی ہے، وغیرہ۔ خوف کا مطلب علم اورذہانت ہے۔ علم اور ذہانت کا مقدر بھی تنہائی ہے۔ معلوم نہیں پر کسی نے کہا تھا کہ جہالت کی سب سے بڑی طاقت جہل میں ہوتی ہے اور حماقت ذہانت کو کبھی معاف نہیں کرتی۔لیکن یہ بھی تو سوچیے کہ کیوں کر ذہانت حماقت سے معافی کی خواستگار ہوتی ہے۔ تاریخ میں ایسی مثالیں مل جائیں گی کہ ذہانت نے حماقت کو کمزور لمحے میںگلے سے لگا لیا۔
دیکھیے اچھی کتاب کی تنہائی کے ساتھ ہم کہاں نکل آئے، اچھی کتابوں اور تحریروں کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہماری عجلت پسندی بھی ہے۔ کام پھیلتا بھی نہیں اور ہم اسے سمیٹنا چاہتے ہیں ۔ ادب میں ایسی بھی صورت پیدا ہوتی ہے کہ وقت کم ہوتا ہے اور کئی مصنفین کو خوش کرنا ہوتا ہے۔کبھی زبانی کبھی تحریری۔ جیسے کہ شیرنی تقسیم ہورہی ہو ۔ یہ عجیب و غریب صورت حال ہے۔جلدی جلدی کاموں کو نمٹانا عام زندگی کی ضرورت ہوسکتی ہے ادب کی نہیں۔ میر نے کہا تھا
کام تھے عشق میں بہت پر میر
ہم ہی فارغ ہوئے شتابی سے
یہ عشق کسی اور کا نہیں میر کا ہے۔ ’دل تڑپے ہے جان گھلے ہے، حال جگر کا کیا ہوگا‘ میر کا یہ مصرعہ کس کے لیے ہے اس سوال کے جواب میں ہر شخص دوسرے کی طرف دیکھنا چاہے گا۔کیا ادب کی تخلیق، ادب کی تنقیداور ادب کی قرأت کا تعلق ان کیفیات سے نہیں ہے جسے میر نے مندجہ بالا مصرعہ میں پیش کیا ہے ۔ عام زندگی میں ادب کا مطلب لطف و مسرت سے زندگی بسر کرنا ہے۔ عموما ادب کی قرأت میںہم اس کیفیت سے بچنا چاہتے ہیں جس سے پیشانی پر شکن پڑتی ہو۔ گویا لطف کا مطلب لطف ہی ہے۔ کم سے کم ذہن پر زور ڈالنا پڑے۔ دل لہو کرنا تو بڑی بات ہے۔ تو جناب ہم ادب کا کام بھی شتابی سے کرنا چاہتے ہیں۔ اب تو کسی تحریر یا تقریر کی جامعیت، تکمیلیت کا دعویٰ کا مطلب علم و فضل کے لحاظ سے خود کو مکمل  ثابت کرنا ہے ،ناتمامی تو بہت بڑی طاقت ہے۔اس موقع پرفیض کی نظم ’’ کچھ عشق کیا کچھ کام کیا ‘‘یاد آتی ہے۔
وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے؍جو عشق کو کام سمجھتے تھے؍یا کام سے عاشقی کرتے تھے؍ہم جیتے جی مصروف رہے؍کچھ عشق کیا کچھ کام کیا؍کام عشق کے آڑے آتا رہا؍اور عشق سے کام الجھتا رہا؍پھر آخر تنگ آکر ہم نے ؍دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا۔
اچھی کتاب فطری سطح پر مکمل نہیں ہوتی بلکہ ہر اچھی تحریر ناتمامی کے احساس کوجگاتی ہے، ناتمامی اور نا تمامی کی بھی تو ایک منطق ہے ۔اچھی تحریر غور و فکر کاایک سلسلہ سا قائم کردیتی ہے۔محمد حسن نے شہریار کی نظموں کے بارے میں کہا تھا کہ شہریار کی نظم آخری مصرعے سے شروع ہوتی ہے، یہ سفر تنہائی کا ہے، ایسی تحریروں کے ساتھ ہمارا سلوک ذمہ دارانہ ہونا چاہیے، ہوتا یہ ہے کہ بعض اچھی کتابوں کو توجہ سے پڑھے بغیر کسی اونچی جگہ رکھ دیا جاتا ہے ، کاش یہ آواز ہمیں سنائی دے کہ اس بلندی پہ بہت تنہا ہوں۔

TOPPOPULARRECENT