Monday , October 23 2017
Home / مذہبی صفحہ / اچھے اخلاق

اچھے اخلاق

سید انور حسین عاجز

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’تم میں بہترین شخص وہ ہے، جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں‘‘۔ ہمارے اخلاق ہمارے خالق و مالک کے ساتھ بھی اچھے ہونے چاہئے اور بندوں کے ساتھ بھی۔ خالق و مالک کے ساتھ اچھے اخلاق کا مطلب یہ ہے کہ اسے ایک جانیں، اس کا ہمسر کسی کو نہ بنائیں، جو مال اس نے دیا ہے اس میں سے اس کی راہ میں خرچ کریں، نماز کی پابندی کریں، یوم آخرت پر ایمان رکھیں، قرآن پاک اور دیگر آسمانی کتابوں پر ایمان رکھیں، اس کی حلال کردہ چیزوں کو حلال اور حرام کردہ چیزوں کو حرام جانیں، ہمیشہ اپنے خالق و مالک کا شکر ادا کرتے رہیں اور تکلیف پہنچنے پر صبر کریں۔ یہ اوصاف ہیں اچھے اخلاق والوں کا اپنے رب کے ساتھ۔
اسی طرح ہمارے اخلاق بندوں کے ساتھ بھی اچھے ہونے چاہئے۔ اچھے اخلاق کے لئے علم کا ہونا ضروری ہے، اس لئے علم حاصل کریں اور اس علم سے لوگوں کو فائدہ پہنچائیں۔ ماں باپ کی فرماں برداری کریں، انھیں کبھی جھڑکیں نہیں، ان کے ساتھ نرمی سے بات کریں، انھیں اف تک نہ کہیں، ان کی صحت کا خیال رکھیں، ان کو اپنے ساتھ رکھ کر ان کی خدمت کریں۔ بندوں کے ساتھ اچھے اخلاق میں یہ بھی ہے کہ رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی سے پیش آئیں، رشتوں کو نبھائیں، رشتوں کو جوڑیں۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’جو تمھیں محروم کرے، تم اسے عطا کرو‘‘۔ ایک اور جگہ آپﷺ نے فرمایا کہ ’’لمبی عمر چاہتے ہو تو اپنے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرو‘‘۔
اچھے اخلاق کے لئے حلیم و برد بار ہونا ضروری ہے، اپنے غصہ پر قابو رکھنا اور اَنا کو فنا کرنا چاہئے۔ جو انا کو فنا کرتا ہے، وہ اخلاق کے بلند درجوں پر فائز ہوتا ہے۔ پڑوسیوں کے ساتھ بھی ہمارے اخلاق اچھے ہونے چاہئے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’خدا کی قسم! وہ مسلمان نہیں، جس کے شر سے اس کے پڑوسی محفوظ نہیں‘‘۔ لہذا پڑوسیوں کا خیال رکھنا اور ملتے رہنا چاہئے۔ ان کے غم اور خوشی میں شریک ہونا چاہئے۔ اسی طرح پریشان حال لوگوں کی پریشانی دور کرنا بھی اچھے اخلاق ہیں۔
آج ہمارے معاشرہ میں غیبت عام ہو چکی ہے، اس گناہ میں ہر عام و خاص ملوث نظر آرہا ہے، جب کہ اللہ تعالی نے اس قبیح فعل کو اپنے مردار بھائی کے گوشت کھانے کے مماثل قرار دیا ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’جو شخص کسی کا عیب اس دنیا میں چھپائے گا، قیامت کے دن اللہ تعالی اس کے عیب کو چھپائے گا‘‘۔ اچھے اخلاق کا تقاضا یہ ہے کہ ہم لوگوں کے عیبوں کو چھپائیں اور اپنے اندر رحم کا مادہ پیدا کریں، تاکہ ہم لوگوں کی مدد کرسکیں۔ جب ہم لوگوں کی مدد کریں گے تو اللہ تعالی ہماری مدد فرمائے گا۔
اچھے اخلاق کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ ہم سلام میں پہل کریں، سلام کو عام کریں، ہر جاننے والے اور انجان مسلمان کو سلام کریں۔ جب کہ آج یہ بات عام ہوچکی ہے کہ ہم صرف اسی کو سلام کرتے ہیں، جس کو ہم جانتے ہیں۔ اچھے اخلاق میں یہ بھی ہے کہ بیوی شوہر کی فرماں بردار ہو اور شوہر اپنی بیوی کو چاہنے والا ہو۔ شوہر اپنی بیوی کو نہ مارے، نہ طعنہ دے اور نہ ہی بات بات پر غصہ کا اظہار کرے۔ یہاں تک کہ بیوی کے والدین کو بھی برا بھلا نہ کہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’پکا مؤمن وہ ہے، جس کے اخلاق اچھے ہوں اور جو اپنے بیویوں کے لئے بہتر ہو‘‘۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ بیوی کی ہر جائز ناجائز بات مان لی جائے۔
اچھے اخلاق والی عورت وہ ہے، جو اپنے شوہر کا احترام کرے، اس کی بات مانے، اس کے گھر اور مال کی حفاظت کرے۔ جب اس کا شوہر گھر آئے تو ہنستے ہوئے اس کا استقبال کرے،  صاف ستھری رہے اور بناؤ سنگھار صرف اپنے شوہر کے لئے کرے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو بلائے اور وہ نہ آئے تو رات بھر اس پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے‘‘ اوراگر خدا نخواستہ شوہر غلط راستہ اختیار کرلے تو بیوی بھی گنہگار ہوتی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہم سب کو اچھے اخلاق و کردار والا بنائے۔ (آمین)

TOPPOPULARRECENT