Monday , October 23 2017
Home / شہر کی خبریں / اچھے دنوں کا تیقن برے دنوں میں تبدیل

اچھے دنوں کا تیقن برے دنوں میں تبدیل

کرنسی کی منسوخی سے عوام پریشان حال، ایم اے خان رکن راجیہ سبھا کا ردعمل
حیدرآباد ۔ 12 نومبر (سیاست نیوز) کانگریس کے رکن راجیہ سبھا ایم اے خان نے بڑی کرنسی کی منسوخی کے بعد عوام میں پائی جانے والی بے چینی اور افراتفری پر تشویش کا اظہار کیا۔ اچھے دن کی امید میں برے دن دیکھنے کا دعویٰ کیا۔ ایم اے خان نے کہا کہ 500 اور 1000 روپئے کی نوٹوں کی منسوخی کے فیصلے سے قبل پیش آنے والے حالات کا جائزہ نہیں لیا گیا۔ عوام کے پاس پیسے ہے مگر وہ اشیائے ضروریہ خریدنے کیلئے محتاج ہے کیونکہ متبادل انتظامات کرے بغیر فیصلہ کیا گیا جس سے عام زندگی مفلوج ہوگئی۔ ہاسپٹلس میں منسوخ  کردہ کرنسی کا چلن بند ہوگیا۔ شادی والے گھروں میں پریشانیاں آ گئی ہیں۔ بچوں کو دودھ بھی دستیاب نہیں ہورہا ہے۔ بینکوں سے معمولی رقم دی جارہی ہے۔ تمام کاروبار ٹھپ ہوکر رہ گئے ہیں۔ نئی 2000 روپئے کی نوٹ دی جارہی ہے مگر چلر دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے اس کا چلن بھی مشکل ہوگیا ہے۔ ان کے درمیان رہ کر مسائل کو جنگی خطوط پر حل کرانے کے بجائے وزیراعظم نریندر مودی جاپان کے دورے پر روانہ ہوگئے۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے حامی صنعتکاروں بی جے پی زیرقیادت ریاستوں اور بی جے پی قائدین کو اس کی پہلے سے اطلاع دے چکے تھے اورسیاہ دھن کو ٹھکانے لگانے کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد بڑی نوٹوں پر امتناع عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کانگریس پارٹی بھی کالے دھن کی مخالف ہے مگر مرکزی حکومت نے جو طریقہ کار اختیار کیا ہے وہ غلط ہے ۔ 500 اور 1000 روپئے کی منسوخی کے بعد حکومت یا آر بی آئی کی جانب سے طلب کے مطابق بینکوں کو نئی کرنسی روانہ نہیں کی گئی ہے۔ بینکوں میں نئی کرنسی حاصل کرنے کیلئے لوگ لمبی لمبی قطاروں میں اپنی باری کا انتظار کررہے ہیں۔ بڑی نوٹوں کا چلن رک  جانے سے مارکٹ میں اشیائے ضروریہ کی قلت پیدا ہوگئی۔ نمک کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوگیا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے انتخابی مہم میں اچھے دن آئیں گے کا نعرہ دیتے ہوئے عوام کو خواب دکھایا تھا۔ اچھے دن تو بی جے پی کے اور بڑی بڑی کمپنیوں کے مالکین کے آئے ہیں۔ غریب عوام کے جو بھی اچھے دن تھے وہ بھی غائب ہوگئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT