Saturday , September 23 2017
Home / مضامین / اچھے دن ابھی دُورہی دُور کم از کم بُرے دن لوٹا دو

اچھے دن ابھی دُورہی دُور کم از کم بُرے دن لوٹا دو

 

آر جگناتھن
اٹل بہاری واجپائی کی حکومت کو عام انتخابات سے دو سال قبل درپیش چیلنجوں اور ابھی نریندر مودی کے اقتدار کے سامنے مسائل میں کے درمیان نمایاں تقابل کیا جاسکتا ہے۔ دونوں معاملوں میں ترقی سست ہوئی، ویسے مودی کے معاملے میں شرح ترقی کے اعداد و شمار کچھ بڑھ کر رہے ہیں، جس کا سبب ممکنہ طور پر جی ڈی پی (مجموعی دیسی پیداوار) کا تخمینہ لگانے کے طریقۂ کار میں تبدیلی ہے۔ واجپائی دور میں شرح ترقی متاثر ہونے کا جزوی سبب وہ سیاسی فیصلہ رہا جو انھوں نے 1998ء میں نیوکلیر تجربات کے انعقاد سے متعلق کیا تھا۔ اس کے نتیجے میں عالمی تحدیدات عائد ہوئے اور معیشت کو عواقب بھگتنے پڑے۔ مودی کے معاملے میں ترقی کو متاثر کرنے والے سیاسی اقدامات میں ٹیکس چوری کرنے والوں کو نشانہ بنانا شامل ہے۔ انھوں نے نومبر 2016ء میں بڑی قدر کے نوٹوں کو چلن سے ہٹا دیا۔ ہم نہیں جانتے آیا ٹیکس چوری کرنے والے سدھر گئے یا نہیں، لیکن اول الذکر اقدام نے پہلے سے سست رو معیشت کو مزید دھیما کردیا۔
جی ایس ٹی پر جاری عمل آوری کے بارے میں عوام کا موڈ تو ظاہر ہوچکا لیکن اس میں کم شبہ ہے کہ یہ بہت بڑا خلل رہے گا جس کے نتائج و عواقب مختصر مدتی ترقی پر مرتب ہوں گے۔ اگر ہم فرض کرلیں کہ نئے ٹیکس سسٹم کو عمدہ ردھم میں آنے کیلئے مالی سال 2017-18ء کے بقیہ نو ماہ کا زیادہ تر حصہ لگ جائے گا اور ہم یہ بھی فرض کررہے ہیں کہ یہ سیاسی یا معاشی طور پر نہیں بکھر جائے گا، تو ہمارے پاس محض ایک سال رہ جاتا ہے جس کے بعد 2019ء میں عام انتخابات منعقد ہونے ہیں۔ بڑا سوال ہے کہ آیا شرح ترقی کا 2018-19ء میں تک احیاء کیا جاسکتا ہے۔ اس سے کہیں بڑا سوال ہے کہ آیا کسی حکومت کی میعاد کے آخری سال میں ترقی کا احیاء کرنا ووٹروں کی یاددہانی کیلئے کافی ہیں کہ ’’اچھے دن‘‘ آخرکار آگئے ہیں؟
یہ واجپائی دَور کے ساتھ ایک اور تقابل ہے۔ 1998ء سے 2003ء تک ترقی کے معاملے میں جدوجہد سے دوچار رہنے کے بعد ترقی کی عموداً شروعات 2003-04ء میں ہی ہوسکی، لیکن رائے دہندوں کو اُس وقت فائدے ملنا شروع نہیں ہوئے۔ اس کے نتیجہ میں ’انڈیا شائننگ‘ کی بات ہضم نہ ہوئی۔ کیا یہی کچھ مودی کے ساتھ ہوگا کہ ترقی کے فوائد محسوس نہیں کئے جائیں یہاں تک کہ ووٹر کیلئے اس کو تسلیم کرنے میں بہت دیر ہوجائے؟
مودی لہر نے سارے ہندوستان میں زیادہ تر سیاسی ساکھ اور خود وزیراعظم کے سیاسی قد کے بل بوتے پر دھوم مچائی ہے جس میں ایک دو جھٹکے 2015ء میں لگے جب بی جے پی کو دہلی اور بہار میں ناکامی ہوئی۔ لیکن واجپائی برانڈ 2004ء میں بھی اتنا ہی طاقتور تھا جتنا 1998ء میں رہا تھا۔ اُن کا ہر دیگر لیڈر سے سیاسی قد بڑھ کر ہونا کچھ کام نہ آیا جب معیشت چار سال تک اُچھال لینے میں ناکام ہوئی۔ کیا مودی کا کرشمہ جو اَب واجپائی کے مقابل کہیں بڑھ کر معلوم ہورہا ہے، وہاں کامیاب ہوگا جہاں واجپائی ناکام ہوئے؟
ووٹر کے حس و ادراک اور اس کے حالات میں بہتری آرہی ہے اور یہ سوال کہ عام انتخابات میں اس کا ووٹ کس طرف جائے گا یہ دونوں باتوں میں ہمیشہ گہرا رابطہ ہوتا ہے۔ مودی اور پارٹی سربراہ امیت شاہ کیلئے بُری خبر ہے کہ 2018-19ء سے قبل معاشی بہتری کا امکان تھوڑا ہے، اور ایسا ہونے پر بھی کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ یہ عام ووٹر کو نظر آئے گا۔ مودی اقتدار سنبھالنے کے تین سال بعد بھی معاشی منظر دھندلا کیوں معلوم ہوتا ہے، اس کی وجوہات جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
اول یہ کہ این ڈی اے حکومت کی کالے دھن کو نشانہ بنانے پر سیاسی توجہ نے ترقی پر اَثر ڈالا۔ رضاکارانہ انکشاف کی دو اسکیمات … ایک غیرقانونی بیرونی اثاثہ جات کیلئے اور دیگر دیسی پوشیدہ آمدنی جس سے ٹیکس کا کوئی بڑا فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ اور نا ہی نوٹ بندی سے ایسا کچھ ہوا ہے۔ مزید یہ کہ حکومت نے ماریشس، قبرص اور سنگاپور کے ساتھ معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات کرتے ہوئے ٹیکس خامیوں کو دور کردیا۔ اس کا کالے دھن کے خفیہ بہاؤ پر خالص اثر ہوا۔ ویسے تو یہ اقدام اُصولی طور پر قابل ستائش ہے لیکن اس نے معاشی بحالی کو سست تر کیا۔ کالے دھن کے خلاف سخت عمل کے منفی اثرات نمایاں ہوتے ہیں، جب کہ زیادہ ٹیکس وصولیات کی شکل میں فوائد پس منظر میں رہتے ہیں۔ کالے دھن کے خلاف بہت زیادہ توجہ کی قیمت سست تر مختصر مدتی شرح ترقی ہے۔
دوم یہ کہ مودی میں گجرات سے اب تک تبدیلی آئی ہے۔ چیف منسٹر کی حیثیت سے اپنے سابقہ اقتدار میں وہ بزنس کے ساتھ جُڑے رہ کر اور بزنس کیلئے سازگار لیڈر قرار دیئے جانے پر مطمئن و خوش نظر آتے تھے ۔ اب ایسا نہیں رہا۔ یہ شاید اس لئے کہ راہول گاندھی نے ’’سوٹ بوٹ کی سرکار‘‘ کا طنز کیا اور اس کا اثر پڑا۔ اس کے نتائج ترقی پر پڑے ہیں۔
حکومت ناقابل وصول قرضوں کو ختم کرتے ہوئے بینکوں کو دوبارہ سرمایہ فراہم کرکے بینک کے ذریعہ قرض کو بحال کرنے سے خائف نظر آئی ہے، کیونکہ اسے بڑے بزنس کے حق میں اقدام کے طور پر دیکھے جانے کا اندیشہ ہے۔ اگر تقریباً 1 لاکھ کروڑ روپئے بینکوں کیلئے ابتدائی دو برسوں میں فراہم کردیئے جاتے تو اب تک بینک کا قرض دینا شاندار سطح پر پہنچ چکا ہوتا، جس سے انڈیا اِنکارپوریشن کے فطری جذبات کی بحالی ہوجاتی۔ اس کے بجائے حکومت خراب کاروباروں کو بند کرا دینے اور خراب قرضوں کی سست تر یکسوئی چاہنے کے طویل تر میعادی راہ کو اختیار کیا ہے۔ خراب قرضے موجودہ طور پر 7 لاکھ کروڑ روپئے سے متجاوز ہیں اور 2017-18ء میں مزید بڑھنے والے ہیں۔
چونکہ مکرر سرمایہ مہیا کرنے کا زیادہ تر کام اسی سال انجام دینا ہوگا، اس کا مطلب ہے حکومت کے پاس انفراسٹرکچر اور سماجی مصارف میں سرمایہ لگانے کیلئے کم مالی مدت رہے گی۔ اور اگر ہم یہ ملحوظ رکھیں کہ جی ایس ٹی کا پہلے سال میں ریاستوں کو آمدنی کے نقصانات کا ازالہ کرنے کی سعی بھی ہوگی، تو پھر ارون جیٹلی کے مالی اعداد و شمار میں اتھل پتھل ہونے والی ہے۔ کسی امدادی اقدام کیلئے بہت کم گنجائش رہے گی۔
سوم یہ کہ مرکزی حکومت خود تو زرعی قرض معافیوں کا اعلان نہ کرنے کے موقف پر سختی سے قائم ہے، لیکن ریاستوں پر اس طرح کی کوئی تحدید نہیں۔ پہلے ہی یو پی، پنجاب، کرناٹک اور مہاراشٹرا دباؤ کا شکار ہوچکے ہیں۔ چھتیس گڑھ نے زرعی قرضوں پر سود کو معاف کردیا ہے، اور 2018ء (ایک اور بڑا انتخابی سال) میں مدھیہ پردیش اور راجستھان سے مزید رعایتوں کی توقع رکھی جاسکتی ہے۔ ان سب تبدیلیوں کو مربوط کریں تو مرکز۔ ریاست مالی اعداد و شمار کا پھر ایک بار بے قابو ہونا یقینی ہے سوائے اس کے کہ جی ایس ٹی کوئی غیرمتوقع کرشمہ کردکھائے۔ اس طرح کسانوں کیلئے اقل ترین امدادی قیمتوں کو بڑھانے کی بہت کم گنجائش رہ جاتی ہے، جس سے 2018-19ء میں محدود زرعی امدادی پیاکیج تک مشکل بن جاتا ہے۔ کوئی معاشی کرشمہ ہی درکار ہوگا کہ معیشت کو 2019ء میں مودی لہر کے حق میں بحال کردے۔ ترقی کے اتنی جلد احیاء کا امکان تو نہیں ہے کہ وہ ووٹروں کو راغب کرسکیں۔

TOPPOPULARRECENT