Thursday , September 21 2017
Home / دنیا / اڈانی گروپ کو زبردست ماحولیاتی و تکنیکی دھکّا

اڈانی گروپ کو زبردست ماحولیاتی و تکنیکی دھکّا

آسٹریلیا کی عدالت نے 16 بلین ڈالرس کے مائننگ پراجکٹ کی اجازت نہیں دی۔ عوام اور ماہرین ماحولیات کی شدید مخالفت کے بعد فیصلہ

ملبورن 6 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان میں کانکنی کے لئے سب سے بڑی کمپنی تصور کی جانے والی اڈانی کو اُس وقت ایک اور دھکا پہنچا جب آسٹریلیا کے ایک بینک نے اڈوانی کے مالیاتی مشیر کی حیثیت سے اپنا دامن جھاڑ لیا جو دراصل اڈانی گروپ متنازعہ 16 بلین ڈالر کوئلہ کی کان پراجکٹ موقوعہ وسطی کوئنس لینڈ کے تعلق سے تھا۔ صرف ایک روز قبل ہی وفاقی عدالت نے کانکنی پراجکٹ کے لئے ماحولیاتی منظوری کو مننسوخ کردیا۔ یاد رہے کہ اڈانی گروپ کا یہ منصوبہ تھا کہ وہ آسٹریلیا میں دنیا کی سب سے بڑی کوئلہ کی کان پراجکٹ شروع کرے۔ مقامی عوام اور گرین گروپس نے بھی اس پراجکٹ کی شدید مخالفت کی تھی۔ وفاقی عدالت کا یہ استدلال ہے کہ آسٹریلیا کے وزیر ماحولیات گریگ ہنٹ نے منظوری سے قبل حشرات الارض کی دو نایاب اقسام کے معدوم ہوجانے سے متعلق تجاویز پر غور نہیں کیا جو دراصل گیلیلی بیسن میں یکا اور سانپ کی ایک قسم کے بارے میں تھی۔ ماہرین ماحولیات نے وفاقی عدالت کے جس فیصلہ کی ستائش کی ہے وہ بھی اس پراجکٹ کے آغاز کی راہ میں حائل ہوگئی ہے جسے کارمائیل مائن کہا جاتا ہے۔ محکمہ ماحولیات کو یہ توقع ہے کہ مشاورتی کاغذات اور اُس سے ملحقہ دیگر کاغذات کی تیاری میں 6 تا 8 ہفتے درکار ہیں۔ اب اس سے آگے کیا ہونے والا ہے اس کا تصور کیا جاسکتا ہے۔

متعلقہ وزیر کو اپنے فیصلہ پر نظرثانی کرنی پڑے گی۔ یا قانونی ضابطوں کی تکمیل کے بعد اُنھیں دوبارہ مائننگ پراجکٹ کی منظوری دینی پڑے گی یا پھر وہ میرے سے انکار کرسکتے ہیں۔ میکے کنزرویشن گروپ کی جانب سے داخل کی گئی درخواست کے بعد عدالت نے اپنا فیصلہ سنایا ہے۔ گروپ کا استدلال ہے کہ متعلقہ وزیر نے پراجکٹ کی جو منظوری قبل ازیں دی تھی وہ ماحولیات کا تقاضہ پورا نہیں کرتی۔ بہ الفاظ دیگر وزیر موصوف نے مائننگ پراجکٹ کی منظوری کے بعد ماحولیات کو پہنچنے والے نقصانات کا تفصیلی جائزہ نہیں لیا لہذا اب کارمائیکل مائن قانونی کشاکش کا شکار ہوگئی ہے۔ بہرحال ابتدائی احتاج کے بعد وفاقی عدالت نے کارمائیکل مائن اور ریل پراجکٹ کو التواء میں ڈال دیا ہے۔ محکمہ ماحولیات کی جانب سے جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ایک تکنیکی اور انتظامی معاملہ ہے اور ان شکوک کو مٹانے کے لئے محکمہ نے فیصلہ پر نظرثانی کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ اس فیصلہ پر اڈانی گروپ نے جس نے کان کے مختلف حصوں میں حالیہ دنوں میں کام بند کردیا ہے، اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے عدالت کے حکم التواء کو ’’تکنیکی قانونی غلطی‘‘ سے تعبیر کیا اور اعتماد ظاہر کیاکہ اسے جلد سدھار لیا جائے گا۔ کمپنی کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ کوئنس لینڈ میں کوئلے کی کان، ریل اور بندرگاہی پراجکٹ کو کامن ویلتھ اور مملکتی قوانین و ضوابط بشمول شدید ماحولیاتی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے فروغ دینے اور اُنھیں قابل استعمال بنانے اپنے وعدہ کی پابند ہے۔

شام کے مستقر ہومز پر دولت اسلامیہ کا قبضہ
بیروت 6 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) دولت اسلامیہ کے جہادیوں نے وسطی شامی صوبہ کے ایک مستقر ہومز پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ قبل ازیں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے ساتھ اسے سخت جدوجہد کرنی پڑی تھی۔ برطانیہ کی سیرین آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے مطابق وفادار فوجیوں نے اُس وقت سے اپنی نگرانی میں اضافہ کردیا تھا جب تین خودکش بم حملہ آوروں نے حکومت کی تائید والے چیک پوائنٹس جو شہر میں داخلے کے مقام پر قائم کئے گئے تھے، کو نشانہ بنایا۔ دوبدو مقابلے میں وفادار فوجی اور جنگجوؤں کی بڑی تعداد ہلاک ہوئی جو 37 بتائی گئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT