Monday , September 25 2017
Home / مضامین / اڈوانی سے مودی سے یوگی تک ہندوتوا کی طئے شدہ کہانی

اڈوانی سے مودی سے یوگی تک ہندوتوا کی طئے شدہ کہانی

 

ودیا سبرامنیم
یوگی آدتیہ ناتھ کو اترپردیش کے چیف منسٹر بنے دو ماہ سے زیادہ کا وقت ہوگیا ہے ۔ اب اس بات کی کوششیں ہو رہی ہیں کہ یوگی آدتیہ ناتھ کو ایک سلجھا ہوا اور ترقی کو ترجیح دینے والا سیاستدان بنا کر پیش کیا جائے اور انہیں مخالف مسلم امیج سے باہر نکالا جاسکے۔ بی جے پی کا اصل مقصد یہی ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ کی کٹر پسند شبیہہ کو قدرے نرم کرتے ہوئے عوام کے سامنے پیش کیا جائے اور بی جے پی کی ان کوششوں کو میڈیا نے بھی قبول کرلیا ہے اور وہ اس کام میں اپنا رول بھی ادا کرنے میں جٹ گیا ہے ۔ جہاں تک بحیثیت مجموعی تاثر کا سوال ہے یوگی آدتیہ ناتھ کے تعلق سے کوئی بھی یہ جلدی یقین کرنے کو تیار نہیں ہوسکتا کہ وہ واقعتا اپنے موقف میں نرمی پیدا کرنے لگے ہیں ۔ یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آدتیہ ناتھ نے مسلمانوںکو اپنے مٹھ میں ملازمت پر رکھا ہے یا پھر مسلمان بھی انہیں قبول کرتے ہوئے اپنے مسائل کے حل کے تئیں ان سے رجوع ہونے لگے ہیں۔ یہ سوال کوئی معنی نہیں رکھتا کہ آیا یوگی اپنی نجی زندگی میں مسلمانوں کے تئیں نرم رویہ رکھتے ہیں یا نہیں کیونکہ یہ وسیع تر منظر نامہ ہی ہے جو ان کے دائیں بازو کے سیاسی نظریات کو پیش کرتا ہے اور اب تک کا ان کا سیاسی سفر ان ہی حالات کو پیش کرتا ہے ۔ ایسے وقت میں جبکہ قومی دھارے کے میڈیا کی جانب سے آدتیہ ناتھ کی شبیہہ کو بہتر بنانے کی ہر ممکن کوششیں شروع کردی گئی ہیں سوشیل اور ڈیجیٹل میڈیا پر ان کے ویڈیو سامنے آنے لگے ہیں جن میں انہوں نے نفرت انگیز تقاریر کی ہیں اور اقلیتی برادری کے خلاف زہر افشانی کی گئی ہے ۔ میڈیا یہ بھی واضح نہیں کرسکا ہے کہ اگر واقعی یوگی اپنے موقف میں نرمی لاچکے ہیں تو ان کی قائم کردہ خانگی عسکری تنظیم ہندو یوا واہنی کو کیوں کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے ۔ وہ اپنی من مانی پر اتر آئی ہے ۔ یوگی آدتیہ ناتھ کو جہاں ان کی کٹرپسندی اور نفرت انگیز مہم کا صلہ چیف منسٹر کے عہدہ کی شکل میں دیا گیا ہے تو ساتھ ہی یہ بھی سمجھا جا رہا ہے کہ ان کی قائم کردہ ہندو یوا واہنی کو بھی جو چاہے وہ کرنے کا لائسنس مل گیا ہے ۔ یوگی کے اقتدار سنبھالنے کے ساتھ ہی ہندو یوا واہنی کے لوگ سرگرم ہوگئے اور انہوں نے نوجوان جوڑوں کو نشانہ بنانا شروع کردیا تھا ۔ یہ لوگ لوگوں کے بیڈروم میں تک گھس گئے تھے اور قانونی طور پر چلائی جانے والی گوشت کی دوکانات کو بھی بند کرنے پر مجبور کردیا تھا ۔ انہوں نے گاؤ ذبیحہ کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ۔ سہارنپور سے آگرہ تک اور جموں سے دہلی تک مسلمانوں پر پرتشدد حملے کئے گئے ہیں اور بعض مقامات پر پولیس کو بھی بخشا نہیں گیا ہے ۔

یوگی آدتیہ ناتھ کو جو چیف منسٹر بنایا گیا ہے اس اقدام کو اس تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ یہ در اصل واقعات کا ایک تسلسل ہے ۔ یہ واقعات 1980 کے دہے میں ایل کے اڈوانی کی قیادت میں شروع کی گئی رام جنم بومی تحریک کے اثر کی لازمی اور منطقی تکمیل ہے ۔ اب یہ حالات ہوگئے ہیں کہ اڈوانی ۔ مودی اور یوگی کا ایک تکونی تسلسل اپنے اختتام کو پہونچا ہے اور اس میں اٹل بہاری واجپائی کے دور کو قدرے استثنی حاصل ہوگیا ہے اور یہ کہیں پس منظر میں چلا گیا ہے ۔ اڈوانی نے اس مہم میں اپنا رول ادا کیا اور اکثریتی غلبہ کے عمل کو تقویت بخشی تھی ۔ اس کے بعد کچھ وقفہ رہا اور پھر مودی نے اپنا رول نبھانا شروع کردیا ۔ نریندر مودی نے واضح اور کٹر ہندوتوا کو اختیار کیا اور انہوں نے اپنے اقدامات سے اعلی ذات کے او بی سی طبقات کو متحد کرنا شروع کیا ۔ دھیرے دھیرے انہوں نے ساری ہندو برادری کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کی اور سنگھ پریوار کی جانب سے اسے قوم پرستی کا لازمی حصہ قرار دیدیا گیا ہے ۔ جس وقت بی جے پی نے یہ سارا عمل شروع کیا تھا اس وقت بھی بی جے پی کو اقتدار حاصل ہوا تھا لیکن اس وقت اتحادی سیاست کی مجبوریاں اسے اپنے عزائم کی تکمیل میں رکاوٹ محسوس ہو رہی تھیں۔ اب حالات ویسے نہیں ہیں۔ اب بی جے پی کو تنہا اقتدار حاصل ہے ۔ اسے اپنی حلیفوں کی بھی ضرورت باقی نہیں رہ گئی ہے ۔ اب سب کچھ اس کے منصوبوں کے مطابق ہے ۔ اسے اپنے عزائم اور ایجنڈہ کی تکمیل میں کوئی رکاوٹ درپیش نہیں ہے ۔ کچھ اختلافات اگر بی جے پی اور آر ایس ایس میں ہیں بھی اور یوگی بھی کسی بات سے اتفاق نہیں کرتے ہیں تب بھی ان کی زیادہ اہمیت نہیں ہے کیونکہ یہ بات طئے ہے کہ یہ سب لوگ سنگھ پریوار کے فلسفہ کے حامی ہیں اور ان اختلافات کو کسی بھی وقت دور کیا جاسکتا ہے ۔ کلچرل قوم پرستی کو اہم جز بنادیا گیا ہے اور اس کے اثرات کئی شعبوں میں دیکھنے میں بھی آ رہے ہیں۔ اب جبکہ موہن بھاگوت آر ایس ایس کی قیادت کر رہے ہیں ۔ مرکز میں نریندر مودی اور امیت شاہ کو کمانڈ حاصل ہے اور اترپردیش جیسی ریاست میں یوگی آدتیہ ناتھ سنگھاسن پر بیٹھ گئے ہیں ایسے میں سنگھ کے مقاصد کی تکمیل کی سمت پیشرفت کو آسان سمجھا جار ہا ہے اور یہ تاثر مل رہا ہے اس کے عزائم اور مقاصد کو پورا کیا جاسکتا ہے ۔ اپوزیشن جماعتیں یا یوں کہا جائے کہ تمام غیر بی جے پی جماعتیں 1996 اور 2004 میں سخت جدوجہد کے واپسی کرنے میں کامیاب ہوگئی تھیں لیکن آج یہ جماعتیں احتجاج کرنے کے حوصلے سے بھی عاری ہوگئی ہیں۔ یہ لوگ اپنے آپ کو منظم کرنے اور جوابی مہم شروع کرنے کے موقف میں بھی نظر نہیں آتیں۔ یہ الجھن پائی جاتی ہے کہ بی جے پی کی پیشرفت کو کس طرح سے روکا جائے اور بعض گوشے تو یہ سوال بھی کر رہے ہیں کہ آیا بی جے پی کو روکنے کی کوشش کی جانی چاہئے بھی یا نہیں۔ ان گوشوں کو یہ اندیشہ لاحق ہے کہ مودی اور یوگی پر اگر شدت کے ساتھ حملے کئے جائیں تو اس کا الٹا اثر ہوسکتا ہے اور رائے دہندے ان دونوں سے مزید قریب ہوسکتے ہیں۔ ایک اور اہم پوائنٹ یہ بھی ہے کہ بی جے پی کو کامیابی اس لئے بھی حاصل ہو رہی ہے کیونکہ اس کے حق میں جو پروپگنڈہ کیا جا رہا ہے وہ اس پر ہونے والی تنقیدوں سے زیادہ ہے ۔ بی جے پی کے ساتھ میڈیا ہے اور موجودہ ماحول میں متبادل کو قبول کرنے کو بھی تیار نہیں ہے ۔

انتخابات میں مقابلہ کرنا ‘ کامیابی حاصل کرنا ‘ آخر تک جدوجہد کرنا در اصل جمہوری عمل کا حصہ ہے ۔ لیکن جب اس مقابلہ کی زبان طاقتور ہو بلکہ تقریبا پر تشدد ہو اور خاص طور پر مخالف بہت کمزور ہو اور اسے مسلسل دبایا اور کچلا جاچکا ہو تو پھر بات صرف کامیابی حاصل کرنے کی نہیں رہ جاتی بلکہ یہ فتح کا ایسا منظر پیش کرتی ہے کہ اس سے نہ صرف مخالفین کو بلکہ اپنے ممکنہ ساتھیوں اور خود رائے دہندوں کو بھی ایک پیام دیا جاسکتا ہے ۔ بی جے پی صدر امیت شاہ نے کانگریس مکت بھارت کا نعرہ دیا تھا ۔ اب یہ نعرہ دھیرے دھیرے دوسری جماعتوں کو پر بھی لاگو کیا جا رہا ہے ۔ بی جے پی نے شمال مشرق میں ‘ اوڈیشہ میں اور مغربی بنگال میں قدرے جگہ حاصل کرلی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ وہ ٹاملناڈو میں بھی اپنے قدم جمانے کی کوشش میں ہے اور اس کیلئے ایک متحد آل انڈیا انا ڈی ایم کے کا سہارا لیا جا رہا ہے ۔ یہ بات بھی ذہن نشین رکھنے کی ضرورت ہے کہ اوڈیشہ میں نوین پٹنائک کی قیادت والی بیجو جنتادل اور مغربی بنگال میں ممتابنرجی کی قیادت والی ترنمول کانگریس بھی کسی وقت این ڈی اے کا حصہ رہی تھی ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی کسی ریاست میں قدم جمانے کیلئے ایک حلیف جماعت کا استعمال کرتی ہے اور بعد میں وہ اپنی حلیف سے زیادہ مقبولیت حاصل کرکے اسے پچھاڑنے سے گریز نہیں کرتی ۔ 2019 تک بی جے پی ٹاملناڈو میں ملنے والی تائید کو استعمال کرسکتی ہے اور ریاست میں ایک طاقت بن کر ابھرنے کی کوشش کریگی ۔ بی جے پی کے یہ توسیع پسندانہ عزائم اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک وہ اسے اپنے منقطی اختتام تک نہیں پہونچائیگی ۔ اس کا مقصد یہی ہے کہ ہندوستان کو ایک واحد حکمران کی مملکت میں تبدیل کردیا جائے ۔ یہ بات بھی طئے ہے کہ انتہائی آمرانہ اقتدار میں بھی کچھ گوشوں سے مزاحمت کا سلسلہ جاری رہے گا ۔ تاہم اگر ہندوستان کا بیشتر حصہ بی جے پی کے اقتدار میں آجائے تو پھر ہم غیر معلنہ ہندو ریاست میں شمار ہونے لگیں گے اور اس کیلئے دستور کو بدلنے کی ضرورت بھی باقی نہیں رہے گی ۔ بی جے پی کی ان کامیابیوں میں اس کی 25 سالہ طویل جدوجہد کا اہم حصہ رہا ہے ۔ اس سفر میں اسے جتنی کامیابیاں ملی ہیں ‘ جتنی امیدیں بندھی ہیں اتنی ہی اسے شکستوں کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے اور اتنی ہی مایوسیاں بھی اس کے حصے میں آئی ہیں۔ لیکن ان تمام اتار اور چڑھاؤ کے درمیان بی جے پی اور آر ایس ایس دونوں ہی اپنے ہندو ایجنڈہ کو آگے بڑھانے کے عمل میں جٹے رہے تھے ۔ بی جے پی کو اس جدوجہد میں پہلی کامیابی اس وقت ملی جب 1980 میں ایل کے اڈوانی کی قیادت میں رام جنم بھومی تحریک شروع ہوئی اور اس کی ہم قبیل تنظیم وشوا ہندو پریشد نے بھی اس میں شمولیت اختیار کرلی ۔ ان دونوں نے ہندووں کی اکثریت کو یہ یقین دہانی کروانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی کہ جس مقام پر بابری مسجد تھی اسی مقام پر رام مندر بہرصورت بنائی جانی چاہئے ۔ اس کے بعد 2002 میں نریندر مودی ہندووں کیلئے ایک نئے ہیرو کے طور پر ابھرے ۔ وہ طویل عرصہ سے آر ایس ایس کے پرچارک رہے تھے ۔ وہ چیف منسٹر کے عہدہ کیلئے غیر متوقع انتخاب تھے ۔ لیکن اس انتخاب سے زیادہ سے زیادہ ہندوتوا حامیوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور اس کام کیلئے مودی سے بہتر انتخاب کوئی نہیں ہوسکتا تھا ۔ 2002 کے مسلم کش فسادات نے مودی کو ہندو ہردئے سمراٹ کا رتبہ دلادیا ۔ جب فسادات کے جذبات ٹھنڈے ہوگئے اور یہ سمجھ لیا گیا کہ مسلمانوں کو ایک سبق سکھا دیا گیا ہے تو انہوں نے گجرات ماڈل تیار کیا اور اس میں ہندوتوا کو شامل کرلیا ۔ اس کو انہوں نے وکاس ( ترقی ) کا نام دیا ۔ یہ فارمولا بھی کامیاب رہا اور گجرات میں منعقد ہوئے ہر انتخاب میں انہیں کامیابی حاصل ہوئی ۔ ان کی انہیں کامیابیوں نے بی جے پی اور سنگھ پریوار کو انہیں ایک قومی لیڈر کے طور پر قبول کرنے پر مجبور کردیا ۔ حالانکہ ابتداء میں اس مسئلہ پر اختلافات بھی تھے ۔ حالانکہ انہیں اڈوانی کا جانشین سمجھا جانے لگا تھا لیکن ان میں ایک اور قابلیت بھی تھی اور وہ قابلیت وہی ہذیان پیدا کرنے کی تھی جس نے اڈوانی کو بلندیوں تک پہونچا دیا تھا ۔ اس تناظر میں یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ بھی مودی کی طرح ہی کام کرینگے اور تقسیم کا شکار اترپردیش کے سماج میں وہ گجرات کا طرز ہی اختیار کرتے ہوئے ہندوتوا ایجنڈہ کو آگے بڑھائیں گے ۔

آج کی جو بی جے پی ہے وہ صرف مودی اور میڈیا پر مشتمل ہے ۔ غیر بی جے پی جماعتیں بلکہ یہ کہا جائے تو بھی غلط نہیں ہوگا کہ بی جے پی کی حلیف جماعتیں بھی اس صورتحال کو قبول کرچکی ہیں اور وہ خاموشی اختیار کرنے ہی کو ترجیح دے رہی ہیں۔ انہیں یہ احساس ہوگیا ہے کہ نریندر مودی حلیف جماعتوں کے بغیر بھی کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ وہ مسلمانوں کی تائید کے بغیر بھی کامیاب ہوسکتے ہیں۔ نریندر مودی ہر سال کروڑوں روزگار فراہم کرنے کا وعدہ پورا کئے بغیر بھی اس ملک کے عوام میں مقبولیت کی بلندی کو پہونچ سکتے ہیں۔ نریندر مودی نے میڈیا کی مدد سے در اصل جیت ہار کے سابقہ جو اصول تھے وہی بدل کر رکھ دئے ہیں اور بی جے پی کی حلیف جماعتیں بھی اس صورتحال کو سمجھنے لگی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ بھی اپنی بقا کیلئے یہ سب کچھ خاموشی سے دیکھ رہی ہیں۔ جو سلسلہ اڈوانی سے شروع ہوا تھا اسے مودی نے آگے بڑھایا اور اب یوگی اس کا حصہ بن گئے ہیں۔ یہ تکون جو کیفیت پیدا کر رہا ہے اسے ترقی اور امیدوں کی سیاست کا نام دیا جارہا ہے ۔ اس سارے عمل میں جہاں کہیں انتخابات منعقد ہوئے وہاں بی جے پی کے تقریبا تمام اہم قائدین نے ترقی اور ملازمتوں اور مواقع کا وعدہ کیا تھا لیکن یہ وعدے پورے ہوں یا نہ ہوں تشدد ان سب انتخابات کا لازمی حصہ رہا ہے ۔ چاہے وہ رام مندر تحریک کے دوران ہوا تشدد ہو یا پھر گجرات میں ہوئے مسلم کش فسادات ہوں۔ چاہے یہ مظفر نگر کے 2013 کے فسادات ہوں یا کوئی اور مقام ہو ہر جگ ہفرقہ وارانہ منافرت کو ہوادیتے ہوئے بی جے پی کے ووٹوں میں اضافہ کیا گیا ہے ۔ جو آگ مظفر نگر میں جلی تھی اس کی گرمی آج تک محسوس کی جا رہی ہے ۔ یہ تو سب جانتے ہیں کہ یو پی انتخابات کے ابتدائی ایام میں قدرے سکون تھا لیکن جب وزیر اعظم نے ایک تقریر میں شمشان اور قبرستان کے تعلق سے ریمارکس کئے اور پھر امیت شاہ نے ریاست کا دورہ کرتے ہوئے ہندووں کے حقوق کی بات کی تو صورتحال یکسر بدل گئی ۔ ہندوتوا ‘ بی جے پی کیلئے ہمیشہ ہی ایک سہارا رہا ہے اور اب اسی کو مزید آگے بڑھانے کی مہم پوری شدت کے ساتھ چلائی جا رہی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT