Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / اڈیشنل ڈی آئی جی سی آر پی ایف سید سراج الدین کے قتل کا مقدمہ

اڈیشنل ڈی آئی جی سی آر پی ایف سید سراج الدین کے قتل کا مقدمہ

ملزم کانسٹیبل ہنمنت راؤ کی عمر قید کی سزا بالکل درست :ہائیکورٹ کی رولنگ
حیدرآباد۔ 5 مئی (سیاست نیوز) سی آر پی ایف کے ایڈیشنل ڈی آئی جی سید سراج الدین علی خاں کا قتل کرنے والے کانسٹبل کی درخواست کو ہائی کورٹ نے مسترد کردیا ہے اور ہائیکورٹ کو کی بینچ نے ٹرائل کورٹ کے فیصلہ کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹی ہنمنت راؤ کو عمر قید کی سزا درست ہے۔ یاد رہے کہ جنوری 2008 میں سید سراج الدین علی خاں کا قتل کردیا گیا تھا۔ چندرائن گٹہ کے سی آر پی ایف ہیڈکوارٹرس میں موجود خاں پر 20 راؤنڈ فائرنگ کرکے ہنمنت راؤ نے قتل کر دیا تھا۔ جسٹس سی ناگرجنا ریڈی اور جسٹس جیسوال پر مشتمل بینچ نے سی آر پی ایف کے کانسٹبل ٹی ہنمنت راؤ کو عمر قید کی سزا کے ٹرائل کورٹ کے فیصلہ کو درست قرار دیا۔ ہنمنت راؤ نے ٹرائل کورٹ کے فیصلہ کے خلاف ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ ہنمنت راؤ کے وکیل نے بحث کے دوران کہا کہ ہنمنت راؤ نے ذہنی تناؤ میں یہ اقدام کیا تھا، اس کی شادی کے 8 سال کا عرصہ گذرنے کے باوجود بھی اس کی کوئی والاد نہیں تھی اور اس کانسٹبل کو اس بات کی بھی تکلیف تھی کہ وہ ڈیوٹی کے سبب اپنی بیوی کا صحیح طور پر طبی معائنہ بھی نہیں کرواسکتا۔ اس کے علاوہ محکمہ جاتی سطح پر سی آر پی ایف سے گیاس کنکشن اور ٹیلی ویژن منظور ہونے کے باوجود اسے نہیں دیا جارہا تھا۔ ان سب حالات سے ذہنی تناؤ کا شکار ہوکر اس نے سید سراج الدین علی خاں پر فائرنگ کی تھی اور اس کے علاوہ ایک اور اعلیٰ عہدیدار ڈپٹی کمانڈنٹ کشور کمار آریہ پر حملہ کی کوشش کی تھی تاہم اس وقت سکیورٹی عملہ نے اس کو پکڑ لیا تھا۔ پولیس نے تعزیرات ہند کی دفعات قتل، اقدام قتل، عوامی املاک کو نقصان پہونچانا اور آرمس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرکے کارروائی کا آغاز کیا تھا اور ٹرائل کورٹ نے ہنمنت راؤ کو عمر قید کی سزا سنائی تھی اور ٹرائل کورٹ کے فیصلہ کے خلاف ملزم نے ہائی کورٹ سے اپیل کی تھی۔ ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے فیصلہ کو درست قرار دیا ہے تاہم آرمس ایکٹ کے دفعہ کو خارج کردیا ہے ۔ اس واقعہ نے سال 2008ء جنوری کے اختتام میں ہلچل مچادی تھی۔

TOPPOPULARRECENT