Tuesday , June 27 2017
Home / شہر کی خبریں / اکبراویسی کی بندوق کی گولی سے ابراہیم یافعی کی موت کا دعویٰ

اکبراویسی کی بندوق کی گولی سے ابراہیم یافعی کی موت کا دعویٰ

رکن اسمبلی نے مقتول کو کئی مرتبہ دھمکی بھی دی تھی ‘ وکیل دفاع کا استدلال

حیدرآباد /19 جون ( سیاست نیوز ) چندرائن گٹہ حملہ کیس کی سماعت آخری مرحلے میں پہونچ چکی ہے اور آج وکیل دفاع نے عدالت میں اپنی بحث میں واقعہ سے متعلق کئی حقائق سے عدالت کو واقف کروایا ۔ ایڈوکیٹ جی گرومورتی نے اپنے موکلین کے حق میں یہ استدلال پیش کیا کہ 30 اپریل سال 2011 کو پیش آئے واقعہ میں اکبرالدین اویسی کے ہاتھ پر بایاں ہاتھ پر جملہ چھ زخم ہوئے تھے اور اس بات کو کیس کے گواہ ڈاکٹر باری نے اپنے بیان میں بتایا تھا ۔ وکیل دفاع نے بتایا کہ اکبر الدین اویسی کو مذکورہ زخم ان کے موکلین پر کئے گئے حملہ کے دوران پیش آئے ۔ انہوں نے بتایا کہ حملہ کیس کے کئی گواہوں اور مشہور انگریزی اخبات دی ہندو نے یہ دعوی کیا تھا کہ اکبر اویسی کی بندوق کی گولی سے ابراہیم بن یونس یافعی کی موت واقع ہوئی تھی ۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے موکل محمد پہلوان اور اکبر الدین اویسی کے درمیان مخاصمتمیں اضافہ اس وقت ہوا جب رکن اسمبلی انہیں مسلسل جان سے مارنے کی دھمکی دے رہے تھے اور ان کے خلاف نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا تھا ۔ مسٹر گرو مورتی نے واضح طور پر یہ بتایا کہ محمد پہلوان لینڈ گرابنگ کے واقعات میں ملوث نہیں ہے اور یہ الزام بے بنیاد ہے جبکہ اویسی فیملی لینڈ گرابنگ میں ملوث ہے اور وکیل دفاع نے لینڈ گرابنگ کورٹ کے فیصلے کی کاپی عدالت میں بتائی جس میں اویسی فیملی کے ایک اہم شخص کو سزا ہوئی تھی ۔ محمد پہلوان پر مجرمانہ سازش کے الزامات بے بنیاد ہیں اور اس کیس کے گواہ نمبر 14 رحمت اللہ طیب نے عدالت کو گمراہ کرتے ہوئے یہ دعوی کیا تھا کہ اس نے اپنی شادی کی سالگرہ کے موقع پر عمر فنکشن ہال واقع چندرائن گٹہ کو بکنگ کیلئے گیا تھا جہاں پر انہیں سازش کا پتہ چلا تھا ۔ ایڈوکیٹ گرومورتی نے بتایا کہ رحمت اللہ طیب ایک سرگرم مجلسی کارکن ہے اور اس نے حلقہ اسمبلی چندرائن گٹہ کے علاوہ چینائی کے میونسپل انتخابات میں مجلسی امیدواروں کے حق میں زبردست مہم چلائی تھی ۔ اپنے اس دعوی کو ثابت کرنے کیلئے وکیل دفاعنے گواہ کے بعض تصاویر عدالت میں پیش کئے جس میں اس کا تعلق مجلس پارٹی سے بتایا جاتا ہے ۔ وکیل دفاع نے ابراہیم یافعی کے پوسٹ مارٹم سے متعلق اپنا استدلال پیش کیا اور بتایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس نوجوان پر قریبی فاصلے سے فائرنگ کی گئی تھی جس کے نتیجہ میں موت واقع ہوگئی تھی ۔ اکبر اویسی اور ابراہیم یافعی کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی تھی ۔ وکیل دفاع کی جانب سے 7 ویں ایڈیشنل میٹرو پولیٹن سیشن جج کے اجلاس پر حملہ کے واقعہ کی ویڈیو بھی دکھائی گئی ۔ عدالت نے اس کیس کی سماعت کو کل تک کیلئے ملتوی کردیا ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT