Tuesday , September 26 2017
Home / جرائم و حادثات / اکبر الدین اویسی پر حملہ کس نے کیا

اکبر الدین اویسی پر حملہ کس نے کیا

Mohammed Pahalwan alias Mohammed Bin Omar Al-Yafayee, along with others arrives amidst tight security to appearing before VII Additional Metropolitan Sessions Judge, Nampally Criminal Court in Akbaruddin Owaisi attack case in Hyderabad on Wednesday. .Pic: Style photo service.

ہم نے نہیں دیکھا، دو گواہ اپنے بیان سے منحرف
حیدرآباد۔ 6 اپریل (سیاست نیوز) رکن اسمبلی چندرائن گٹہ اکبرالدین اویسی حملہ کیس کے دو عینی شاہدین ، پولیس کو دیئے گئے اپنے بیان سے آج منحرف ہوگئے۔ عدالت نے محمد غوث اور محسن بن احمد الکثیری کو منحرف گواہ قرار دیتے ہوئے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر اوما مہیشور راؤ کو منحرف گواہوں پر جرح کرنے کی اجازت دی۔ گواہ استغاثہ نمبر 9 محمد غوث نے جو مرحبا ہوٹل، بارکس کے مالک ہے، روزانہ کی اساس پر چلائے جارہے مقدمہ کی سماعت کے دوران عدالت میں یہ بیان دیتے ہوئے اس بات سے لاعلمی کا اظہار کیا کہ 30 اپریل 2011ء کو انہوں نے اکبرالدین اویسی یا کوئی بھی مجلس پارٹی کے قائدین پر حسن بن عمر یافعی، عبداللہ بن یونس یافعی، عود بن یونس یافعی، محمد بن صالح واہلان اور ابراہیم بن یونس یافعی کی جانب سے خنجر اور ریوالور سے حملہ کیا تھا۔ محمد غوث نے اپنے بیان میں یہ واضح طور پر بتایا کہ 30 اپریل سال 2011ء کو ان کی ہوٹل کے روبرو ایک واقعہ پیش آیا لیکن اس واقعہ کی انہیں اطلاع نہیں ہے کیونکہ وہ ہوٹل کے اندر تھے۔ گواہ نے عدالت کو یہ بتایا کہ اس نے پولیس کو کوئی بیان نہیں دیا ہے اور نہ ہی اس نے یہ کہا کہ محسن بن احمدالکثیری اور احمد بن عبداللہ بلعلہ نے اکبرالدین اویسی کو بچایا ہے۔ گواہ نے اس بات کی بھی تردید کی ہے کہ بلعلہ کے گن مین نے اکبرالدین اویسی کے حملہ آوروں پر فائرنگ کی تھی اور اکبرالدین اویسی اس حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے۔ محمد غوث نے عدالت میں اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر کی جانب سے کئے گئے جرح کے دوران یہ بتایا کہ حملہ کے دن وہ ہوٹل مرحبا کو بند کرنے کیلئے شٹر ڈال رہے تھے کہ گُھٹنے پر گولی لگی جس کے سبب وہ بے ہوش ہوگئے اور بعدازاں ان کا دواخانہ عثمانیہ میں علاج کروایا گیا۔

 

گواہ نے اس بات سے بھی اِنکار کردیا کہ اکبراویسی حملہ کیس کے 9 ملزمین کی چندرائن گٹہ پولیس اسٹیشن میں روڈی شیٹ ہے اور وہ ان کے خوف سے جھوٹا بیان دے رہے ہیں۔ استغاثہ نے محمد پہلوان کے خلاف محمد غوث کو عینی شاہد بناتے ہوئے حملے کی منظرکشی کرنے اور گواہی کیلئے سی آر پی سی کی دفعہ 161 کے تحت بیان قلمبند کیا تھا لیکن گواہ نے اپنے بیان سے مکمل طور پر لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ مقدمہ کی سماعت کے دوران کیس کے ایک اور گواہ نمبر 11 محسن بن احمد الکثیری نے بھی پولیس کو دیئے گئے اپنے بیان کے کئی حصوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔ گواہ محسن بن احمد الکثیری پر بھی اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر نے عدالت کی اجازت کے بعد جرح کا آغاز کیا جس کے دوران گواہ نے آج اپنے بیان میں بتایا کہ حملہ کے دن وہ اکبر اویسی کے ایک پروگرام میں شرکت کے بعد وہاں سے روانہ ہوگئے تھے لیکن حملہ کی اطلاع ملنے پر وہ دوبارہ بارکس لوٹ آئے اور دیکھا کہ ابراہیم بن یونس یافعی ، اکبر اویسی پر حملہ کررہے تھے اور انہوں نے نوجوان کو وہاں سے ہٹاکر اکبر اویسی کو اویسی ہاسپٹل منتقل کیا تھا۔ اس گواہ نے ابراہیم بن یونس یافعی پر بلعلہ کے گن مین کی جانب سے فائرنگ سے لاتعلقی ظاہر کی ۔ اس گواہ پر جرح جاری ہے اور کل مقدمہ کی دوبارہ سماعت کے دوران اسپیشل پراسیکیوٹر جرح کریں گے۔ واضح رہے کہ حملہ کیس کی سماعت میں اب تک جملہ تین گواہ منحرف ہوچکے ہیں جن میں سابق میں عبدالقادر صالح بلیشرم نے بھی محمد پہلوان کے خلاف پولیس کی جانب سے قلمبند کئے گئے بیان سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا اور حملہ کے دن محمد پہلوان کی جانب سے اس کے ریلائینس فون کے استعمال کی وضاحت کی تھی ۔

TOPPOPULARRECENT