Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / اکبر اویسی حملہ کیس : احمد بلعلہ کے بیان کی قلمبندی کا آغاز

اکبر اویسی حملہ کیس : احمد بلعلہ کے بیان کی قلمبندی کا آغاز

دو افراد نے اکبر اویسی کی کار روک کر بیاٹ اور ہتھیاروں سے حملہ کیا تھا‘رکن اسمبلی کا ادعا
حیدرآباد۔ 18 اپریل (سیاست نیوز) اکبرالدین اویسی حملہ کیس کی سماعت کے دوران مجلسی رکن اسمبلی حلقہ ملک پیٹ احمد بلعلہ نے عدالت میں اپنا بیان قلمبند کروایا۔ بلعلہ نے ساتویں ایڈیشنل میٹروپولیٹن سیشن جج کے اجلاس پر اپنا بیان قلمبند کروایا جس میں اکبر اویسی پر 30 اپریل 2011ء میں ہوئے حملے اور اس کی تفصیلات سے واقف کرایا۔ انہوں نے اپنے بیان میں بتایا کہ حملے کے دن وہ چندرائن گٹہ رکن اسمبلی کے پروگرام شرکت کیلئے وہاں پہونچے تھے، اور بارکس میں واقع پارٹی کے مقامی دفتر پر ریفریشمنٹ لیا اور بعدازاں وہاں سے روانہ ہوگئے۔ کچھ ہی دیر میں دو افراد نے اکبر اویسی کی گاڑی روک کر ان پر اچانک بیاٹ اور دیگر ہتھیاروں سے حملہ کردیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حملہ کے بعد شدید زخمی حالت میں اکبر اویسی کو دواخانہ منتقل کیا گیا۔ احمد بلعلہ نے آج دو گھنٹے اپنا بیان قلمبند کروایا اور کل بھی وہ اپنا بیان قلمبند کروائیں گے اور وکلائے دفاع ان پر جرح کریں گے۔ قبل ازیں اس حملے کے عینی شاہد محسن الکثیری نے عدالت میں اپنا بیان قلمبند کروایا جس کے نتیجہ میں وکیل دفاع گرو مورتی ایڈوکیٹ نے ان پر جرح کیا۔ محسن الکثیری نے جرح کے دوران تمام سوالات کا نفی میں جواب دیا۔ جرح کے دوران ان سے یہ پوچھا گیا کہ آیا محمد پہلوان اور اکبر اویسی کے درمیان دشمنی ہے، انہوں نے عدالت کو جواب دیتے ہوئے اتنا کہا کہ ان دونوں میں صرف اختلافات تھے۔ محمد پہلوان اور مقدمہ میں ماخوذ دیگر افراد کو سخت سیکیورٹی انتظامات کے درمیان عدالت میں لایا گیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT