Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / اکبر اویسی حملہ کیس : اسلحہ گولہ بارود دوکان کے مالک پر جرح

اکبر اویسی حملہ کیس : اسلحہ گولہ بارود دوکان کے مالک پر جرح

اصل کاروباری رجسٹر پولیس کے حوالہ نہیں کیا گیا تھا، گواہ کا بیان
حیدرآباد ۔ /17 اگست (سیاست نیوز) اکبر الدین اویسی حملہ کیس کی سماعت کے دوران اسلحہ و گولہ بارود دکان کے پروپرائیٹر پر وکیل دفاع نے آج جرح کیا جس میں یہ بات کا انکشاف ہوا کہ اسلحہ و گولہ بارود سے متعلق اصلی رجسٹر پولیس کے حوالے نہیں کیا گیا ۔ آرمری کے پروپرائیٹر مسٹر غلام عبدالقادر جو اس کیس کے گواہ نمبر 25 ہیں نے سابق میں اپنا بیان ساتویں ایڈیشنل میٹرو پولیٹین سیشن جج کے اجلاس پر قلمبند کروایا تھا جس کے نتیجہ میں آج وکلاء دفاع ایڈوکیٹ جی گرومورتی ، ایڈوکیٹ راج وردھن ریڈی اور ایڈوکیٹ احمد علی نے ان پر جرح کیا ۔ سماعت کے دوران ایڈوکیٹ گرومورتی نے گواہ سے سوال کیا کہ عبداللہ بن یونس یافعی جو اس کیس کے ملزم نمبر 3 ہیں نے ان کی دوکان سے اسلحہ خریدا تھا جس کا ایک رجسٹر موجود ہوتا ہے، جس میں اسلحہ خریدنے والے کی دستخط موجود ہوتی ہے ۔  کیا اس رجسٹر کی اصلی کاپی پولیس کے حوالے کی گئی ۔ گواہ نے بتایا کہ انہوں نے صرف رجسٹر کی نقل پولیس کے حوالے کی ہے اور اصلی رجسٹر ان کے قبضے میں موجود ہے ۔ وکیل دفاع نے یہ سوال کیا کہ حملے کے بعد کس نے ان کا بیان قلمبند کیا تھا جس کے جواب میں گواہ نے بتایا کہ سادہ لباس میں ملبوس بعض پولیس عہدیداروں نے ان کا بیان قلمبند کیا تھا اور اس دوران پولیس نے ان سے اصلی رجسٹر حوالے کرنے کیلئے نہیں کہا ۔ گواہ نے جرح کے دوران یہ بھی بتایا کہ اسلحہ کے ہتھیاروں  سے متعلق انہیں کچھ خاص تجربہ نہیں ہے چونکہ انہوں نے صرف بی کام کی ڈگری حاصل کی ہے ۔ وکیل دفاع نے گواہ سے یہ دعویٰ کیا کہ وہ عدالت میں جھوٹا بیان دے رہے ہیں اور اصلی ریکارڈ پولیس کے حوالے نہ کرنے کا کوئی ٹھوس جواب موجود نہیں ہے ۔ سماعت کے موقع پر محمد بن عمر یافعی المعروف محمد پہلوان اور ان کے دیگر ارکان خاندان کو سخت سکیورٹی کے درمیان نامپلی کریمنل کورٹ لایا گیا اور اس کیس کی اگلی سماعت /19 اپریل کو مقرر کی گئی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT