Friday , August 18 2017
Home / جرائم و حادثات / اکبر اویسی حملہ کیس : صمد بن ابداد سے جرح

اکبر اویسی حملہ کیس : صمد بن ابداد سے جرح

مقام واردات پر ملازمین پولیس اور مجلسی کارکن موجود ہونے کا ادعا
حیدرآباد ۔ 27 اپریل (سیاست نیوز) چندرائن گٹہ رکن اسمبلی حملہ کیس کی روزانہ کی اساس پر سماعت جاری ہے اور گواہوں کے بیانات قلمبند کرتے ہوئے ان پر جرح بھی کی جارہی ہے۔ آج اپوگوڑہ کے سابق کارپوریٹر صمد بن ابداد پر وکیل دفاع راج وردھن ریڈی نے جرح کی۔ ان سے کئی سوالات کئے گئے۔ وکیل دفاع نے سابق کارپوریٹر سے یہ سوال کیا کہ 30 اپریل سال 2011ء کو اکبر الدین اویسی پر ہوا حملہ کتنی دیر تک جاری رہا۔ صمد بن ابداد نے بتایا کہ انہوں نے اس وقت گھڑی نہیں دیکھی لیکن انہیں یہ اندازہ ہیکہ حملہ چند منٹ تک جاری رہا۔ ان سے یہ پوچھا گیا کہ حملہ کے دن مقام واردات پر کتنے پولیس عہدیدار موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ حملہ کے دوران وہاں پر صرف چار تا پانچ پولیس ملازمین بشمول ایک سب انسپکٹر ان کی گاڑی کے ساتھ موجود تھے۔ سابق کارپوریٹر سے یہ بھی سوال کیا گیا کہ حملہ سے قبل اس علاقہ میں وہ کتنی مرتبہ وہاں گئے تھے۔

 

اس کے جواب میں بتایا کہ وہ حملہ سے قبل تین مرتبہ اس علاقہ میں گئے تھے۔ حملہ کی واردات کے دوران کیا مقام واردات پر مقامی عوام موجود تھے، جس کے جواب میں صمد بن ابداد نے بتایا کہ مقامی عوام موجود نہیں تھے بلکہ ایم آئی ایم کے کارکن موجود تھے۔ حملہ کے مقام کے اطراف دکانات اور مکانات موجود ہیں، کیا اس وقت دکانیں کھلی تھیں۔ سابق کارپوریٹر نے بتایا کہ حملہ کے وقت دکانیں کھلی نہیں تھیں۔ کیا اس علاقہ میں موجود مکینوں کی شناخت کرسکتے ہیں۔ اپوگوڑہ کے سابق کارپوریٹر نے کہا کہ وہ مکینوں کی شناخت نہیں کرسکتے۔ وکیل دفاع  راج وردھن ریڈی نے اپنی جرح میں یہ سوال کیا کہ وہ عدالت کو جھوٹا بیان دے رہے ہیں اور وہ حملہ کے دن مقام واردات پر موجود نہیں تھے اور محض اکبرالدین اویسی اور پولیس کو اس کیس میں مدد کرنے کیلئے وہ عدالت میں بیان دے رہے ہیں؟ اس کے جواب میں سابق کارپوریٹر نے بتایا کہ وہ عدالت میں حقائق پر مبنی بیان دے رہے ہیں۔ ساتویں ایڈیشنل میٹرو پولیٹن سیشن جج کے اجلاس پر روزانہ کی اساس پر جاری سماعت کے دوران آج محمد بن عمر یافعی اور ان کے دیگر افراد خاندان کو چرلہ پلی جیل سے عدالت میں لایا گیا تھا اور سماعت کے بعد دوبارہ جیل منتقل کردیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT