Saturday , October 21 2017
Home / جرائم و حادثات / اکبر اویسی حملہ کیس میں نیا موڑ ، عدالت میں اہم گواہ کی تضاد بیانی

اکبر اویسی حملہ کیس میں نیا موڑ ، عدالت میں اہم گواہ کی تضاد بیانی

وکیل دفاع گندم گرومورتی کی مضبوط جرح سے گواہ بے بسی کا شکار
حیدرآباد ۔ /3 اگست (سیاست نیوز) اکبر اویسی حملہ کیس کی روزانہ کی اساس پر جاری سماعت کے دوران ایک گواہ کی تضاد بیانی کے باعث کیس میں نیا موڑ آیا ۔ رکن اسمبلی پر حملہ کی سازش شادی خانہ میں رچائے جانے کا دعویٰ کرنے والا ایک اہم گواہ آج وکیل دفاع کی مضبوط جرح کے سامنے بے بس نظر آیا ۔ گواہ محمد رحمت اللہ طیب ساکن سعیدآباد  نے اس کیس کی گزشتہ سماعت کے دوران عدالت میں دیئے گئے اپنے بیان میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس نے /14 اپریل 2011 ء کو شادی کی سالگرہ کیلئے عمر فنکشن ہال بک کرانے کیلئے پہونچا تھا جہاں پر ایک کمرے میں 10 سے 12 افراد بشمول محمد پہلوان اکبر الدین اویسی پر حملہ کرنے کی سازش رچ رہے تھے ۔ وکیل دفاع مسٹر گندم گرومورتی ایڈوکیٹ نے اپنی جرح میں گواہ سے سوال کیا کہ عمر فنکشن ہال میں جس کمرے میں اس نے بعض افراد کو سازش سے متعلق گفتگو کرنے کا دعویٰ کیا ہے وہ کمرہ کس سمت موجود تھا ۔ گواہ کو شادی خانے کے تصاویر اور نقشہ بھی بتایا گیا جس کے دوران گواہ نے غلط بیانی کرتے ہوئیبتایا کہ پہاڑی شریف کی سمت واقع شادی خانے کے داخلے کے داہنے ہاتھ پر فنکشن ہال کا آفس واقع ہے جبکہ یہ داخلہ محض پردہ نشین خواتین کیلئے مختص کیا گیا ۔ وکیل دفاع نے گواہ کی تضاد بیانی پر یہ دعویٰ کیا کہ اسے عمداً محمد پہلوان کے خلاف گواہی دینے کیلئے گواہ بنایا گیا ہے اور وہ جھوٹا بیان دے رہے ہیں ۔ وکیل دفاع نے گواہ رحمت اللہ طیب سے یہ سوال کیا کہ وہ سعیدآباد کا ساکن ہونے کے باوجود کیا وجہ ہے کہ اس نے چندرائن گٹہ میں واقع عمر فنکشن ہال کرایہ پر حاصل کرنے کی کوشش کی ۔

 

جبکہ علاقہ سعیدآباد تا چندرائن گٹہ 200 فنکشن ہالس موجود ہیں ۔ گواہ نے بتایا کہ اسے صرف چند فنکشن ہالس سے متعلق معلومات ہیں اور اس کے سسرالی رشتہ دار علاقہ جنگم میٹ اور فلک نما میں مقیم ہونے کے سبب اس نے عمر فنکشن ہال بک کرانے کا ارادہ کیا تھا ۔ ایڈوکیٹ جی گرومورتی نے جرح کے دوران گواہ سے یہ پوچھا کہ /14 اپریل  2011 ء میں مجرمانہ سازش کے واقعہ کی اطلاع پولیس چندرائن گٹہ ، سی سی ایس یا پولیس کمشنر کو کیوں نہیں دی ۔ گواہ نے بتایا کہ خوف کے سبب اس نے یہ واقعہ کسی کے سامنے بیان نہیں کیا حتی کہ اسد الدین اویسی اور اکبر الدین اویسی کے علم میں بھی نہیں لایا ۔ گواہ نے یہ بھی دعویٰ کیا اسے اسد الدین اویسی سے واقفیت نہیں ہے اور وہ ایم آئی ایم پارٹی کا کارکن نہیں ہے ۔ وکیل دفاع نے فوری عدالت میں ایسے تصاویر پیش کئے جس میں طیب کو اسد الدین اویسی کے ہمراہ تاملناڈو میںانتخابی مہم میں حصہ لیتے ہوئے بتایا گیا ۔ وکیل دفاع نے تاملناڈو کے ویلور علاقہ کے مجلسی امیدوار وکیل احمد کے تصاویر دکھاکر ان سے یہ سوال کیا کہ وہ انتخابی مہم میں کیوں شرکت کی تھی ۔ گواہ نے جواب دیا کہ وکیل احمد اس کا دوست ہونے کے سبب مدد کیلئے گیا تھا ۔ جبکہ وکیل دفاع نے ایسے تصاویر عدالت میں پیش کئے جس میں اسد الدین اویسی ، وکیل احمد اور دیگر کئی تصاویر میں شامل ہے ۔ بعض تصاویر میں ایم آئی ایم پارٹی کی جانب سے ٹاملناڈو کے شہر چینائی کو امداد روانہ کرتے ہوئے بھی دکھایا گیا ۔

جبکہ مدراس رپورٹرس گلڈ کی جانب سے منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں گواہ کی موجودگی پر بھی سوال کیا گیا ۔ ایم آئی ایم پارٹی کارکن نہ ہونے کا دعویٰ کرنے والے اس گواہ کو اعتماد اخبار کے شائع کردہ خبروں کے تراشوں کو بتایا گیا جس میں ایم آئی ایم پارٹی سے اس کے تعلق کا واضح ثبوت موجود ہے ۔ گواہ کی جانب سے سابق میں دیئے گئے بیان میں یہ بتایا گیا تھا کہ وہ اکبر الدین اویسی حملہ کیس کے کسی ملزم سے وقفیت نہیں ہے ۔گواہ نے اسی طرح کا بیان ملزمین کی شناختی پریڈ کروانے والے مجسٹریٹ کے روبرودیاتھا ۔  لیکن جرح میں اسی گواہ نے یہ بیان کیا ہے کہ وہ محمد پہلوان نامی شخص سے واقف ہے ۔ پولیس محمد پہلوان کو رکن اسمبلی پر حملہ کی مجرمانہ سازش تیار کرنے کے الزام میںانہیں گرفتار کیا تھا اور بعد ازاں کیس میں ماخوذ کرتے ہوئے چارج شیٹ بھی داخل کی تھی ۔ جرح کے دوران مسلسل تضاد بیانی کے سبب وکیل دفاع نے یہ دعویٰ کیا کہ پولیس کو دیئے گئے اپنے بیان میں عمر فنکشن ہال کے آفس سے متصل کمرے کا کوئی ذکر نہیں کیا ۔

TOPPOPULARRECENT