Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / اکبر اویسی پر حملے کرنے والے تمام ملزمین کو میں نے گرفتار کیا

اکبر اویسی پر حملے کرنے والے تمام ملزمین کو میں نے گرفتار کیا

ہتھیار ، موبائیل فون وغیرہ برآمد کرنے کا ادعا ، عدالت میں دوسرے دن بھی سی سی ایس کے سابق عہدیدار کا بیان
حیدرآباد ۔ /13 اپریل (سیاست نیوز) چندرائن گٹہ حملہ کیس کی سماعت کے دوران آج کیس کے تحقیقاتی عہدیدار مسٹر ایم سرینواس راؤ دوسرے دن حاضر عدالت ہوکر اپنا بیان قلمبند کروایا ۔ انہوں نے بتایا کہ /30 اپریل 2011 ء کو چندرائن گٹہ بارکس علاقہ میں پیش آئے حملے کے واقعہ میں ملوث تمام ملزمین کو انہوں نے گرفتار کیا تھا اور ان کے قبضے سے ہتھیار موبائیل فونس وغیرہ برآمد کئے ۔ گواہ نے بتایا کہ /3 مئی 2011 ء کو سی سی ایس کی ٹیم نے محمد بن عمر یافعی کو گرفتار کیا اور ان کا اقبالیہ بیان بھی ریکارڈ کیا جبکہ نوکیا کمپنی کا ایک موبائیل فون بھی ضبط کیا گیا تھا ۔ اسی طرح حسن بن عمر یافعی کے قبضے سے انہوں نے قصائی کی ایک چاقو بھی برآمد کی تھی ۔ انہوں نے بتایا کہ حملے میں استعمال کئے گئے کرکٹ بیاٹس بھی برآمد کیا ۔ انہوں نے انسپکٹر نرسمہا ریڈی کو ہدایت دی تھی کہ وہ یحیی بن یافعی ، فیصل بن احمد یافعی اور فضل بن احمد یافعی کو یشودھا ہاسپٹل کے قریب سے گرفتار کیا جائے ۔ گرفتاری کے فوری بعد ان کے قبضے سے موبائیل فونس برآمد کئے گئے اور ان کی مدد سے عمر گلشن فنکشن ہال واقع چندرائن گٹہ فلائی اوور پہونچ کر وہاں سے کرکٹ بیاٹ بھی برآمد کیا تھا ۔ اسی دن ان کی ٹیم نے اس کیس کے ملزم نمبر 11 بہادر علی خاں عرف منور اقبال کو لکڑی کا پل میں واقع ان کے مکان سے گرفتار کرتے ہوئے ان کے قبضے سے بھی ایک موبائیل فون ضبط کیا گیا تھا ۔ گرفتار شدہ تمام ملزمین کو سی سی ایس منتقل کیا گیا اور بعد ازاں انہیں بارہویں ایڈیشنل میٹروپولیٹین مجسٹریٹ کے اجلاس پر پیش کیا گیا ۔/12 مئی 2011 ء کو انسپکٹر نرسمہا ریڈی نے محمد بن صالح واہلان ، عفیف بن یونس یافعی ، سیف بن یونس یافعی کو ایرہ گڈہ علاقہ سے گرفتار کرکے انہیں سی سی ایس منتقل کیا اور واہلان کے قبضے سے .32 ریوالور بھی برآمد کیا تھا ۔ گواہ نے بتایا کہ عمر گلشن فنکشن ہال چندرائن گٹہ سے ایک ریوالور برآمد کیا گیا اور اس ریوالور کے تفصیلات مٹادیئے گئے تاکہ اس ریوالور کو دیسی ساختہ ہتھیار ظاہر کیا جاسکے ۔ مسٹر سرینواس نے بتایا کہ /13 مئی 2011 ء کو ملک پیٹ یشودھا ہاسپٹل میں زیرعلاج عبداللہ بن یونس یافعی ڈسچارج ہونے پر انہیں گرفتار کرلیا گیا اور اسے سی سی ایس منتقل کیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT