Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / اکبر اویسی کی ٹی شرٹ دواخانہ میں آپریشن تھیٹر سے لاپتہ ہوگیا تھا

اکبر اویسی کی ٹی شرٹ دواخانہ میں آپریشن تھیٹر سے لاپتہ ہوگیا تھا

رکن اسمبلی کے پاس تین اسلحہ ‘ صرف ایک پستول ضبط کی گئی ۔ تحقیقاتی عہدیدار پر جرح جاری
حیدرآباد /2 مئی ( سیاست نیوز ) چندرائن گٹہ حملہ کیس کی سماعت کے دوران آج تحقیقاتی عہدیدار مسٹر ایم سرینواس پر جراح جاری رہی ۔ وکیل دفاع ایڈوکیٹ اچوتا ریڈی کی جرح کے دوران گواہ سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا آپ نے یکم مئی 2011 کو اویسی ہاسپٹل سے اکبر اویسی کا ٹی شرٹ ضبط کیا ۔ گواہ نے بتایا کہ انہوں نے ٹی شرٹ حاصل کرنے دواخانہ انتظامیہ کو مکتوب روانہ کیا تھا ‘ دواخانہ انتظامیہ کی جانب سے انہیں یہ جواب موصول ہوا کہ اکبر اویسی کا ٹی شرٹ دواخانہ میں آپریشن تھیٹر سے لاپتہ ہوگیا تھا ۔ گواہ نے بتایا کہ حملہ کیس کے ملزم نمبر 3 عبداللہ بن یونس یافعی کی ٹی شرٹ بھی انہوں نے ضبط نہیں کی کیونکہ دیگر ملزمین نے محمد پہلوان کی ہدایت پر اس ٹی شرٹ کو تباہ کردیا ۔ انہوں نے بتایا کہ یکم مئی 2011 سے ملزمین کی گرفتاری عمل میں لائے جانے تک انہوں نے دو مرتبہ یشودھا ہاسپٹل پہونچکر تحقیقات کرنے کی کوشش کی لیکن ڈاکٹروں نے انہیں اجازت نہیں دی ۔ گواہ نے بتایا کہ یکم مئی 2011 سے 20 مئی 2011 تک کسی بھی گواہ نے اپنے بیان میں یہ ذکر نہیں کیا کہ اکبر اویسی نے اپنا اسلحہ اپنے دوست کے حوالے کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ اکبر اویسی کے اسلحہ لائیسنس پر تین آتشیں اسلحہ ہونے کا اندراج ہے لیکن انہوں نے محض ایک پستول ضبط کی اور دیگر دو کو ضبط نہیں کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ حملہ کیس کی ویڈیو ریکارڈنگ ضبط کرنے کے دوران انہوں نے یہ نہیں پایا کہ اکبر اویسی کے ہاتھ میں ہینڈ گن تھا لیکن انہوں نے دیکھا کہ ایک شخص ٹی شرٹ میں ملبوس بالاپور کی سمت جارہا تھا ‘ وہ معمول کے طور پر چلنے کے قابل نہیں تھا ، ویڈیو میں وہ شخص دوڑتا دیکھا گیا جو بعد ازاں گولی کے زخم سے ہلاک ہوگیا ۔ وکیل دفاع نے یہ سوال کیا کہ تحقیقات سے یہ ظاہر نہیں ہوتا ہے کہ کس نے کس آتشیں اسلحہ سے فائرنگ کی ہے ۔ گواہ نے جواب میں بتایا کہ ان کی تحقیقات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ گن مین جانی میاں نے اپنی 9 ایم ایم سرویس پستول سے اس نوجوان پر فائرنگ کی تھی جس کے سبب اس کی موت واقع ہوگئی اور اس کے جسم پر گولی لگنے کے نشان بھی موجود تھے ۔ ایک اور وکیل دفاع مسٹر راجوردھن ریڈی ایڈوکیٹ نے یہ سوال کیا کہ کیا تحقیقات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اکبر اویسی اور محمد پہلوان کے افراد خاندان کے درمیان سیاسی رقابت ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ تحقیقات میں یہ معلوم ہوا ہے کہ ایم آئی ایم اور ایم بی ٹی جس سے محمد پہلوان جڑے تھے کی سیاسی رقابت ہے ۔ چارج شیٹ داخل کرنے سے قبل انہوں نے رکن اسمبلی احمد بلعلہ کا قلمبند کیا جس میں معلوم ہوا ہے کہ انتخابات میں محمد پہلوان نے اکبر اویسی کے حریف امیدوار کو مدد کی تھی ۔

TOPPOPULARRECENT