Thursday , April 27 2017
Home / جرائم و حادثات / اکبر اویسی کے جسم پر 6 زخم تھے، بے ہوشی کی حالت میں ہاسپٹل لایا گیا

اکبر اویسی کے جسم پر 6 زخم تھے، بے ہوشی کی حالت میں ہاسپٹل لایا گیا

میں نے 6زخمیوں کا علاج کیا، سابق ڈی ایم او اویسی ہاسپٹل ڈاکٹر عبدالباری کا بیان قلمبند

حیدرآباد 4 جنوری (سیاست نیوز) نامپلی کریمنل کورٹ میں رکن اسمبلی چندرائن گٹہ کے حملہ کیس کی سماعت کے دوران  اویسی ہاسپٹل کے سابقہ ڈیوٹی میڈیکل آفیسر (ڈی ایم او)نے عدالت میں اپنا بیان قلمبند کروایا اور وکیل دفاع نے اُن پر 3 گھنٹے طویل جرح کیا۔ ڈاکٹر عبدالباری آرتھوپیڈک اسپیشلسٹ نے جو فی الحال سعودی عرب میں ملازمت کررہے ہیں، آج عدالت میں دیئے گئے بیان میں بتایا کہ 30 اپریل 2011 ء کو اکبرالدین اویسی کو اویسی ہاسپٹل لایا گیا تھا اور اُن کے جسم پر 6 زخم پائے گئے جس میں بندوق کی گولی کا زخم بھی شامل ہے اور وہ بے ہوشی کی حالت میں تھے۔اُنھوں نے کہاکہ اکبراویسی پر  ایک گروپ نے مرحبا ہوٹل بارکس علاقہ میں حملہ کرکے زخمی کردیا تھا۔ ایمرجنسی ڈیوٹی پر متعین ڈاکٹر عبدالباری نے اپنے بیان میں مزید بتایا کہ 6 زخموں میں دو گولیوں کے زخم موجود تھے جس میں زیر ناف زخم بھی شامل ہے۔ اِس سلسلہ میں وکیل دفاع ایڈوکیٹ جی گرومورتی کی جرح میں اُنھوں نے بتایا کہ زخم  کا رُخ ناف کی بائیں جانب سے دائیں جانب تھا۔ اگر ناف کے نیچے کے مقام پر کوئی اسلحہ رکھا جائے تو دو افراد کے درمیان ہاتھا پائی کے دوران حادثاتی / اتفاقی طور پر گولی چل سکتی ہے۔  ڈاکٹر عبدالباری نے جرح کے دوران یہ بھی بتایا کہ ناف کے نیچے کے زخم کے علاج کے لئے انھوں نے پتلون کھولا لیکن پتلون پر گولی سے ہونے والا چھید موجود نہیں تھا۔ یہاں اِس بات کا ذکر بیجا نہ ہوگا کہ حملے کے دن اکبر اویسی نے بھی اپنی پستول ناف کے قریب لگا رکھی تھی۔ اُنھوں نے بتایا کہ مریض کے جسم پر موجود گولی کے زخم سے انھوں نے کسی بھی قسم کا بارود یا دھماکو پاؤڈر کا نمونہ حاصل نہیں کیا کیونکہ مریض کا جسم خون میں لت پت تھا اور خون بہنے کا سلسلہ جاری تھا۔ جب اکبرالدین اویسی کو دواخانہ لایا گیا تھا اُن کے جسم پر ملبوسات موجود تھے اور اُنھوں نے ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد آپریشن تھیٹر منتقل کیا۔ اُنھوں نے اِس بات سے لاعلمی کا اظہار کیاکہ گولی لگنے کے واقعات میں متاثرہ شخص کے ملبوسات کا معائنہ لازم ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اکبرالدین اویسی کے علاوہ اُنھوں نے 6 زخمیوں بشمول ایم آئی ایم کارپوریٹر کا علاج کیا اور اِس ضمن میں میڈیکو لیگل سرٹیفکٹ بھی جاری کیا۔ اُنھوں نے اِس بات کی تصدیق کی کہ میڈیکل دستاویزات پر اکبرالدین اویسی کی اہلیہ مسز سبینہ اویسی نے دستخط کئے۔ ڈاکٹر باری نے جرح کے دوران گولی جسم کے اندر جانے اور نکلنے کے زخم کے درمیان فرق ظاہر کیا۔ عدالت نے آج بیان اور جرح کے بعد کیس کی سماعت کو کل تک کے لئے ملتوی کردیا جہاں پر کل دوبارہ اِس گواہ پر دیگر وکلائے دفاع جرح کریں گے۔ عدالت میں پیشی کے موقع پر محمد بن عمر یافعی المعروف محمد پہلوان اور اُن کے دیگر ارکان خاندان کو سکیوریٹی کے درمیان عدالت میں لایا گیا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT