Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / اکسائز انفورسمنٹ ڈائرکٹر اکون سبھروال رخصت پر

اکسائز انفورسمنٹ ڈائرکٹر اکون سبھروال رخصت پر

منشیات کیس سے دور رکھنے کی کوشش ، ایک منظم سازش ، ریونت ریڈی

حیدرآباد /14 جولائی ( سیاست نیوز ) اکثر فلموں میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک دیانتدار پولیس عہدیدار بدیانت اور معاشرے میں بے چینی پھیلانے والے غیر سماجی عناصر سے نہ صرف نمٹتا ہے بلکہ اس کو کامیابی حاصل ہوتی ہے ۔ ایسی بھی فلیمیں ہوتی ہیں جس میں بدعنوان سیاستدانوں ، عہدیداروں پر اثر شخصیتیں اور غنڈا عناصر کے دباؤ کو قبول کرتے ہوئے دیانتدار پولیس عہدیادروں کو راستے سے ہٹایا جاتا ہے ۔ یا پھر اس کا کسی دور دراز مقام پر تبادلہ کردیا جاتا ہے ۔ اسی تناظر میں ریاست تلنگانہ میں بھی دیانتداروں عہدیادر چاہے پولیس ہوکہ کوئی اور محکمہ کے ان کیلئے راستہ تنگ ہوتا جارہا ہے ۔ اگر کوئی پولیس عہدیدار غیر معمولی دیانتداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے منشیات کے خلاف جنگ چھیڑ دی ہے تو حکومت کے ساتھ ساتھ سماج کے تمام طبقات کی تائید ملنی چاہئے ۔ اگر منشیات کی غلامی سے نوجوان نسل کو آزاد نہیں کردیا گیا تو ملک کا مستقبل روشن کے بجائے تاریک میں تبدیل ہوجائے گا ۔ مثال کے طور پر اکسائز انفورسمنٹ ڈائرکٹر اکون سبھروال نے ایک ہفتہ قبل یہ اعلان کیا تھا کہ وہ اندرون 2 سال دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کو منشیات کی لعنت سے پاک کردیں گے ۔ اپنے عزم کے مطابق انہوںنے عملی اقدامات شروع کردئے تھے ۔ جس کے نتیجہ میں تلنگانہ کی تاریخ کا سب سے بڑا منشیات کا اسکینڈل منظر عام پر آیا تھا ۔ یہ ایسا اسکینڈل تھا جو اسکولی اور کالجس کے طلبہ کو نشانہ بنایا جارہا تھا ۔ جیسے ہی اس اسکام کا رخ تلگو فلم انڈسٹری کی بعض باعزت شخصیتوں پر پڑا تو بدعنوان سیاستدانوں ، عہدیداروں اور ٹالی ووڈ میں بھونچال آگیا اور پھر فلموں ہی کی طرح ایک دیانتدار پولیس آفیسر کو منظر عام سے غائب کرنے کی سازش شروع ہوگئی ۔ پتہ چلا ہے کہ اکون سبھروال 10 یوم کی رخصت پر جارہے ہیں ۔ جس سے عوام میں بے چینی پیدا ہوگئی ہے اور چہ موگوئیاں شروع ہوگئی ہیں کہ ٹالی ووڈ کے دباؤ پر تحقیقات سے اکون سبھروال کو علحدہ رکھا جارہا ہے ۔ ٹالی وڈ کے جن ہیروز ، ہیروئین ڈائرکٹرس وغیرہ کو نوٹس دی گئی ہے انہیں 19 تا 27 جولائی تک پوچھ تاچھ کیلئے حاضر ہونے کی ہدایت دی گئی ہے اور انہیں دنوں میں اکون سبھروال رخصت پر جارہے ہیں ۔ واضح رہے کہ دو ماہ قبل اکون سبھروال کی والدہ کا انتقال ہوا تھا تب انہوں نے رخصت طلب کی تھی مگر ان کی رخصت منظور نہیں ہوئی تھی ۔ جب کسی دباؤ کے بارے میں اکون سبھروال سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کسی دباؤ کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ دو ماہ قبل جو رخصت کی درخواست دی تھی وہ اب منظور ہوئی ہے ۔ تلنگانہ تلگو دیشم کے ورکنگ پریسیڈنٹ و رکن اسمبلی ریونت ریڈی نے اکون سھبروال کو رخصت پر روانہ کرنے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک منظم سازش کے تحت اکون سبھروال کو منشیات کیس سے دور رکھا جارہا ہے ۔ حکومت کی جانب سے انہیں رخصت پر روانہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کی رخصت منسوخ کرتے ہوئے تحقیقات کی تکمیل تک اکون سھبروال کی خدمات سے قانون اندھرا ہوتا ہے جو چھوٹے بڑے امیر غریب طاقتور ، کمزور ادنی اور اعلی کو نہیں دیکھتا ، لیکن یہ محاورہ صرف محاورہ ہوکر رہ گیا ہے ۔ جب غریب آدمی اپنی بھوک مٹانے کیلئے روٹی چوری کرتا ہے تو قانون کے رکھوالے اس کا کیا حشرت کرتے ہیں سب کو معلوم ہے ۔ لیکن جب بااثر شخصیت ہزاروں کروڑ کا غبن کرتے ہوئے سرکاری خزانے کو چونا لگاتے ہیں یا کوئی غیر قانونی کاروبار کرتے ہیں تو قانون انہیں کیفر کردار تک پہونچانے کے بجائے انہیں راحت فراہم کرتے ہیں ۔ اس طرح جیسے کوئی سمندر اپنی مرضی کے مطابق اطراف و اکناف کے گاؤں ، دیہاتوں ندی نالو اور کھیتوں باغوں کو سیراب کرتے ہوئے آگے نکل جاتا ہے ۔ آج معاشرے میں غریب یہ سوال کر رہے ہیں کہ آیا قانون صرف ہمارے لئے ہی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT