Tuesday , August 22 2017
Home / اداریہ / اکھلیش کی امیدواری سے گریز!ز

اکھلیش کی امیدواری سے گریز!ز

ہم تری بزم کے آداب سے گھبراتے ہیں
دشمنوں سے نہیں احباب سے گھبراتے ہیں
اکھلیش کی امیدواری سے گریز!ز
ملک کی سب سے بڑی اور سیاسی اعتبار سے حساس ریاست اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات کیلئے ماحول بتدریج گرم ہوتا جا رہا ہے ۔ کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے اپنی تیاریوں کا پہلا مرحلہ کسان یاترا کی صورت میں مکمل کرلیا ہے ۔ وہ اب اس کے نتائج کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں۔ مابعد حکمت عملی پر بھی غور کیا جا رہا ہے ۔ وہیں بہوجن سماج پارٹی سربراہ مایاوتی بھی انتخابی تیاریوں کیلئے کمر کس چکی ہیں۔ وہ اپنے طور پر مہم شروع کرچکی ہیں۔ ان کی ریلیاں اور جلسے شروع ہوچکے ہیں۔ سیاسی تقاریر بڑھ گئی ہیں۔ بی جے پی نے بھی اپنے طور پر کافی وقت پہلے ہی تیاریوں کا آغاز کردیا تھا اور وزیر اعظم مودی کی لکھنو میں دسہرہ ریلی میں شرکت کے بھی سیاسی مقاصد سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ ریاست میں برسر اقتدار سماجوادی پارٹی اپنے اقتدار کو بچانے کی فکر میں مصروف ہے ۔ پارٹی میں داخلی اختلافات اور ان میں شدت سے پارٹی کے امکانات متاثر ہونے کے اندیشے ہیں۔ حکومت کی کارکردگی پر پہلے ہی ریاست کے عوام میں اطمینان نہیں ہے ایسے میں پارٹی میں اختلافات سے اس کی مشکلات میں اضافہ ہی ہوا ہے ۔ اب پارٹی سربراہ ملائم سنگھ یادو نے وزارت اعلی امیدوار کے تعلق سے موجودہ چیف منسٹر اکھیلیش کو برقرار رکھنے کا اعلان نہیں کیا ۔ جب صحافیوں نے اس تعلق سے سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ پارٹی کے ارکان اسمبلی اس تعلق سے فیصلہ کرینگے ۔ یہ ایک طرح سے اکھیلیش سنگھ یادو کی کارکردگی پر عدم اطمینان ہی کا اظہار ہے ۔ اس سے ریاست کے عوام کو یہی پیغام ملے گا کہ خود ملائم سنگھ بھی اکھیلیش کو برقرار رکھنے کے حامی نہیں ہیں۔ حالیہ رپورٹس میں یہ دعوی کیا گیا تھا کہ سماجوادی پارٹی کا جہاں تک تعلق ہے اکھیلیش ہی عوام میں پسند کئے جانے والے واحد لیڈر ہیں ۔ دوسرے قائدین کو عوامی تائید و حمایت نہیں مل پائی ہے ۔ اس کے باوجود اکھیلیش کو چیف منسٹری کے امیدوار کے طور پر پیش کرنے سے فی الحال گریز خود پارٹی کیلئے نقصان کا باعث ہوسکتا ہے ۔ چونکہ خود ملائم سنگھ یادو نے اکھیلیش کی برقراری کا اشارہ نہیں دیا ہے ایسے میں دوسرے اور اکھیلیش مخالف قائدین کو بھی اس سے موقع مل سکتا ہے اور وہ اس تعلق سے سر عام لب کشائی کرسکتے ہیں۔
ملائم سنگھ یادو اتر پردیش کے منجھے ہوئے اور تجربہ کار سیاستدانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا سیاسی کیرئیر کئی دہوں پر محیط ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ انہوں نے پارٹی میں مزید اختلافات کو ہوا دینے اور دوسرے قائدین کی ناراضگیاں مول لینے سے بچنے کے مقصد سے اکھیلیش کو باضابطہ وزارت اعلی امیدوار قرار دینے سے گریز کیا ہو لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ان کے اس بیان سے عوام میں منفی تاثر جائیگا ۔ جس وقت اکھیلیش نے اتر پردیش میں ذمہ داری سنبھالی تھی اس وقت یہ امید کی جا رہی تھی کہ وہ چونکہ نوجوان ہیں اس لئے نئے جوش و جذبہ کے ساتھ کام کرتے ہوئے پسماندگی کا شکار ریاست کو ترقی دینے کیلئے انتھک جدوجہد کرینگے ۔ ان کے پانچ سال کے دور اقتدار میں ریاست کی صورتحال میں تبدیلی آئیگی اور نوجوانوں کو روزگار کے مواقع دستیاب ہونگے ۔ ریاست کے عوام کی فلاح و بہبود کے نئے دور کا آغاز ہوگا ۔ تاہم اکھیلیش کے پانچ سال اب مکمل ہونے کو ہیں اور اتر پردیش میں ایسا لگتا ہے کہ عوام کی ساری توقعات پوری نہیں ہوئی ہیں۔ اس پر عوام میں عدم اطمینان کی کیفیت کا پیدا ہونا بھی فطری بات ہے ۔ پارٹی میں داخلی اختلافات کی وجہ سے پہلے ہی سے مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ خود اکھیلیش کو پارٹی اور حکومت میں بھی میں اپنے بعض فیصلوں کو واپس لینا پڑا تھا ۔ ان کے مخالفین کو اس صورتحال سے اپنی گرفت بنانے کا موقع ملا ہے ۔ اب اکھیلیش کو وزارت اعلی امیدوار کے طور پر پیش کرنے سے گریز سے ان قائدین کو اور بھی موقع مل جائیگا کہ وہ اکھیلیش کے خلاف دوسروں کو بھی ہمنوا بنالیں۔
حالانکہ سماجوادی پارٹی میں موجودہ چیف منسٹر سے زیادہ مقبولیت رکھنے والا دوسرا کوئی لیڈر نہیں ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ بحیثیت چیف منسٹر خود ملائم سنگھ یادو کو ریاست کے عوام نے قبول نہ کرنے کا اشارہ دیا ہے ۔ ایسے میں اگر پارٹی کو انتخابات میں ہزیمت سے بچنا ہے تو اسے اکھیلیش پر تکیہ کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں رہ گیا تھا ۔ ملائم سنگھ یادو کے تبصرے سے ایسا لگتا ہے کہ پارٹی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے اور عوام میں اس کا جو منفی تاثر پیدا ہوگا وہ پارٹی کو شائد قبل از وقت محسوس نہ ہو لیکن یہ بات طئے ہے کہ انتخابات کے نتائج جب سامنے آئیں گے تو اس کے اثرات پارٹی کی تمام صفوں میں یکساں محسوس کئے جاسکیں گے ۔

TOPPOPULARRECENT