Wednesday , September 27 2017
Home / اداریہ / اکھنڈ بھارت کا راگ

اکھنڈ بھارت کا راگ

دفعتاً جب کبھی حالات بگڑ جاتے ہیں
آپ کی شکل بھی آئینہ دکھاتی ہے مجھے
اکھنڈ بھارت کا راگ
وزیراعظم نریندر مودی کے روس اور افغانستان کے دورہ سے وطن واپس ہوتے ہوئے لاہور میں اچانک توقف اور وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات اور بات چیت کے بعد دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں جو خوشگوار فضاء بنی تھی اسے آر ایس ایس کے لیڈر رام مادھو اور لوک جن شکتی لیڈر اور مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان کے غیر ذمہ دارانہ بیانات سے دھکا لگا ہے ۔ رام مادھو نے اکھنڈ بھارت اور پاسوان نے وفاق کے قیام کی باتیں کی ہیں جو پڑوسی ممالک کی علاقائی یکجہتی اور اقتدار اعلیٰ کی خلاف ورزی ہے۔بدبختی کی بات یہ ہیکہ اس وقت مالدیپ جیسے چھوٹے ملک سے لے کر چین جیسے بڑے ملک تک ہندوستان کے تعلقات علاقہ کے کسی بھی ملک سے دوستانہ اورخوشگوار نہیں ہیں۔ جہاں تک پاکستان کے ساتھ حالیہ عرصہ میں غیررسمی مذاکرات کا جو سلسلہ چل پڑا ہے اس میں سنجیدگی کم اور ڈرامہ بازی زیادہ نظر آرہی ہے ۔ اس ڈرامہ کی شروعات نریندر مودی کی زیرقیادت این ڈی اے حکومت کی حلف برداری تقریب میں وزیراعظم پاکستان نواز شریف کی شرکت سے ہوئی تھی اس کے بعد دونوں ممالک کے معتمدین خارجہ کی ملاقات گزشتہ سال اگست میں طئے کی گئی تھی اس ملاقات سے عین قبل دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کی کٹر علحدگی پسند کشمیری قائدین سے ملاقات پر احتجاج کرتے ہوئے ہندوستان نے منسوخ کردی ۔ بیرون ملک نریندر مودی اور نواز شریف کی ملاقاتوں کے بعد کسی اعلان کے بغیر بنکاک میں دونوں ممالک کے مشیران قومی سلامتی نے مذاکرات کئے اور یہ بات چیت دہشت گردی کے علاوہ تنازعہ کشمیر پر بھی ہوئی اور اس بات کا اظہار ملاقات کے بعد جاری کردہ مشترکہ بیان میں بھی کیا گیا ۔ اب جنوری میں دونوں ممالک کے خارجہ سکریٹریز مذاکرات کرنے والے ہیں ۔ اس دوران دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر نے حریت گیلانی گروپ کے وفد کو ملاقات کا موقع دے کر پھر شرانگیزی کی ہے اور اکھنڈ بھارت اور وفاق سے متعلق رام مادھو اور رام ولاس پاسوان کے بیانات سے فضاء بگڑسکتی ہے ۔ ہندوستان کی تقسیم کے بعد پاکستان کا قیام اور پھر پاکستان کی تقسیم کے ساتھ بنگلہ دیش کا قیام ایک تاریخی حقیقت ہے ۔ وقت کے پہیے کو پیچھے کی سمت گھمانا ناعاقبت اندیشی ہے اس سے گریز کیا جانا چاہئے ۔ رام مادھو نے جو برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کے جنرل سکریٹری بھی ہیں اکھنڈ بھارت یا پاکستان اور بنگلہ دیش کے ساتھ عظیم بھارت کا نظریہ پیش کرتے ہوئے اس خیرسگالی کو متاثر کیا ہے جو حالیہ ہند پاک رابطوں سے پیدا ہوئی ہے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور این ڈی اے حکومت نے رام مادھو کے بیان سے بے تعلقی کا اظہار کیا اور بی جے پی ترجمان ایم جے اکبر نے و ضاحت کی کہ ہندوستان اور پاکستان مقتدر ممالک ہیں اور ہندوستان کے موقف کا 1999 ء میں سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی لاہور میں دو ٹوک انداز میں اظہار کرچکے ہیں جبکہ انھوں نے یہ کہا تھا کہ انھیں پاکستان کی قومی یادگار مینارہ پاکستان پر جانے سے روکنے کی کوشش کی گئی تھی اور یہ کہا تھا کہ مینارہ پاکستان پر جانے کا مطلب ہندوستان کی تقسیم کی توثیق ہوگی ۔ واجپائی نے اس وقت دو ٹوک انداز میں یہ کہا تھا کہ میں مینارہ پاکستان جانے پر اس لئے مصر ہوں کہ میں اس بات کا دو ٹوک انداز میں یہ اعلان کرنا اور واضح کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستان کو اپنی شناخت کے لئے میرے اسٹامپ کی ضرورت نہیں ہے ، پاکستان کے وجود کی اپنی مہر موجود ہے ۔ سی پی آئی ایم لیڈر ڈی راجہ نے بجا طورپر یہ تاثر ظاہر کیا ہے کہ رام مادھو کے اس بیان سے کہ ہندوستان پاکستان بنگلہ دیش پھر سے ایک ہوجائیں گے اور اکھنڈ بھارت تشکیل پائے گا، ذیلی براعظم میں امن کی کوششوں کو دھکا لگے گا ۔ رام مادھو کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ آر ایس ایس بی جے پی حکومت کے لئے ایجنڈا طئے کرنا چاہتی ہے کیونکہ رام مادھو نے یہ کہا کہ وہ یہ بیان جنرل سکریٹری بی جے پی کی حیثیت سے نہیں بلکہ آر ایس ایس کارکن کی حیثیت سے دے رہے ہیں۔ ہندوستان میں بعض گوشوں کی طرف سے اکھنڈ بھارت یا ہند پاک بنگلہ دیش کے وفاق کے قیام کی باتوں سے غلط اشارے جارہے ہیں ۔ اگر ان پر روک نہیں لگائی گئی تو بنکاک سے دو پڑوسی ممالک کے مابین تعلقات کو خوشگوار بنانے کی کوشش کا آغاز ہوا ہے اسے شدید صدمہ پہونچنے کا ڈر ہے ۔ ہند پاک معتمدین خارجہ کی مجوزہ ملاقات اور بات چیت سے قبل فضا سازگار رہنی چاہئے ، غیرذمہ دارانہ بیانات سے گریز کیا جانا چاہئے ۔ پاکستان میں حافظ سعید اور ہندوستان میں رام مادھو جیسے لوگ ہرگز یہ نہیں چاہیں گے کہ پڑوسی ممالک ایک دوسرے کے قریب ہوں حالانکہ پورے علاقہ کے بنیادی مسائل ، بے روزگاری اور غربت کے خاتمہ ، روزگار کی فراہمی ، حفظان صحت تعلیم اور انفراسٹرکچر کے فروغ کیلئے عام طورپر سارک کے تمام ممالک اور خاص کر ہندوستان اور پاکستان میں دوستانہ تعلقات اور بہتر تال میل ناگزیر ہے۔ پاکستان سے تعلق کو حوشگوار بنانے کیلئے نریندر مودی جس تیزی سے اقدامات کررہے ہیں کانگریس اس پر سیاسی طورپر بے چین ہے کیونکہ کانگریس مسلسل دس سال اقتدار پر رہتے ہوئے اہم پڑوسی ملک سے دوستانہ تعلقات استوار کرنے کیلئے بنیادی طورپر رسنجیدگی کے ساتھ کوئی اقدام نہیں کیا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کانگریس نے اپنے دور حکومت میں اس وقت کی اپوزیشن بی جے پی کے خوف سے پاکستان سے تعلقات کو خوشگوار بنانے کیلئے کوئی بڑا قدم نہیں اُٹھایا لیکن اب نریندر مودی کی نواز شریف سے قربت کانگریس کو کھٹک رہی ہے ۔ دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی برسوں سے جاری ہے اگر بات چیت سے اس میں کمی ہوتی ہے تو ہر گوشہ سے اس کا خیرمقدم ہونا چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT