Thursday , August 24 2017
Home / Top Stories / اکھیلیش گروپ کو سائیکل کا نشان ‘ انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوسکتا ہے

اکھیلیش گروپ کو سائیکل کا نشان ‘ انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوسکتا ہے

بی ایس پی اور بی جے پی کو انتخابی حکمت عملی پر نظرثانی کی ضرورت ۔ اکھیلیش ۔ کانگریس اتحاد مسلم رائے دہندوں کی ترجیح ہونے کا امکان
لکھنو 17 جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) الیکشن کمیشن کی جانب سے اترپردیش میں اکھیلیش یادو کے گروپ کو سماجوادی پارٹی تسلیم کرنے اور سائیکل کا امتیازی نشان الاٹ کئے جانے کا ریاست کے اسمبلی انتخابی نتائج پر اثر ہوسکتا ہے اور اب شائد بی ایس پی اور بی جے پی دونوں کو اپنی اپنی انتخابی حکمت عملی پر نظرثانی کرنی پڑیگی ۔ دونوں ہی جماعتیں ریاست میں برسر اقتدار خاندان کے اختلافات پر زیادہ انحصار کر رہی تھیں جبکہ مایاوتی نے اپنی پارٹی کو بی جے پی سے مقابلہ کی اہلیت رکھنے والی واحد جماعت قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ سماجوادی پارٹی کمزور ہوگئی ہے ۔ بی جے پی بھی ریاست میں ترقی اور لا اینڈ آرڈر کو مسئلہ بنانے کوشاں تھی ۔ اکھیلیش یادو کی قیادت والی سماجوادی پارٹی امکان ہے کہ جاریہ ہفتے کے اواخر تک کانگریس کے ساتھ اپنے اتحاد کا اعلان کردے ۔ دونوں جماعتیں اگر اتحاد کرلیتی ہیں تو پھر یہ ریاست میں دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کی خواہاں بی جے پی کے خلاف ایک طاقتور اتحاد ہوگا ۔ سماجوادی پارٹی اور کانگریس مشترکہ طور پر مسلمان رائے دہندوں کو ایک مستحکم اور واضح متبادل پیش کرنے کی کوشش کرینگی ۔ ریاست کے مسلم رائے دہندے ایسی جماعت کا ساتھ دے سکتے ہیں جو انتخابات میں بی جے پی کو شکست دے سکے ۔ اترپردیش کی آبادی میں مسلم رائے دہندوں کا تناسب 20 فیصد کے قریب ہے ۔

ریاست میں اقتدار کے حصول کی خواہاں جماعتوں کیلئے ان کے ووٹ بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ اگر مسلمان رائے دہندے منقسم ہوجاتے ہیں تو اس سے بی جے پی کو فائدہ ہوسکتا ہے لیکن اگر یہ لوگ متحدہ ووٹ استعمال کرتے ہیں تو پھر انتخابی حساب کتاب بدل کر رہ جائیگا ۔ ریاست کے 403 حلقوں میں کم از کم 125 حلقوں میں مسلمان رائے دہندے اہم رول نبھاسکتے ہیں۔ مسلمان ریاست میں اکثر ایسی جماعت اور اتحاد کے ساتھ جاتے ہیں جو بی جے پی کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں اور اکھیلیش کی قیادت والی ایس پی اور کانگریس ‘ مسلم رائے دہندوں کو یہ متبادل فراہم کرسکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ بی ایس پی کیلئے مسلمانوں کی تائید اتنی نہیں ہوگی جتنی اسے امید ہے ۔ حالات کو دیکھتے ہوئے بی ایس پی نے ریاست میں 97 مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دئے ہیں لیکن ماضی میں اقتدار کیلئے بی جے پی سے اتحاد کا ان کا ریکارڈ اب بھی ان کے تعاقب میں ہے ۔ سماجوادی پارٹی میں داخلی اختلافات کو دیکھتے ہوئے بی ایس پی سربراہ نے خود کو مسلمانوں کی ہمدرد کے طور پر پیش کرنے میں کوئی کسر نہیں رکھی تھی ۔ مسلمان ریاست میں برسر اقتدار سماجوادی پارٹی کا روایتی ووٹ بینک سمجھے جاتے ہیں اور ملائم خاندان میں اختلافات پر کئی مسلم لیڈروں اور اسکالرس نے تشویش ظاہر کی ہے ۔ ان میں دہلی کی جامع مسجد کے شاہی امام سید احمد بخاری اور دارالعلوم ندوۃ العلما کے مولانا سلمان ندوی بھی شامل ہیں۔ ان قائدین نے ملائم سنگھ یادو سے کہا تھا کہ وہ اگر پارٹی میں اختلافات کو دور نہیں کرلیتے تو مسلمان ووٹ بی ایس پی کی سمت جاسکتے ہیں۔ بی جے پی بھی ریاست میں اپنے موقف کو بہتر بنانے سماجوادی پارٹی کے اختلافات کو ہوا دے رہی تھی اور اس نے ریاست میں ترقی اور غلط حکمرانی کے علاوہ لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ اٹھایا تھا ۔ اس نے رائے دہندوں سے کہا کہ اگر اسے اقتدار مل جاتا ہے تو ریاست کو اتر پردیش سے ترقی دے کر اتم پردیش بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جائیگی ۔

TOPPOPULARRECENT