Friday , October 20 2017
Home / شہر کی خبریں / اکیڈیمی کی شروعات IAS سلور جوبلی کے موقع پر ایم یس کی طرف سے

اکیڈیمی کی شروعات IAS سلور جوبلی کے موقع پر ایم یس کی طرف سے

مسلم طلباء کو ملک کا Asset   بنانے کی طرف پہلا قدم
حیدرآباد  ،  24؍ دسمبر : (پریس نوٹ)   ایم ایس ایجوکیشن ا کیڈیمی کی سلور جوبلی تقریبات کے موقع پر آج  ایم ایس نے  IAS  اکیڈیمی لانچ کرنے کا اعلان کیا۔ ایم ایس IAS   اکیڈیمی کے نام سے شروع کیے جانے والے اس ادارے میں داخلہ جنوری 2017ء سے ہی شروع ہو جائے گا۔ ایم ایس اکیڈیمی نے ملت کے تیئں سماجی ذمے داری کے تحت یہ قدم اٹھایا ہے تاکہ ملت کے بچے بچیوں کو ملک کے نظام چلانے کے لیے تیار کیا جا سکے۔ آج ایک پریس کانفرنس میں ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی کے چیرمین محمد عبدالطیف خان نے  IAS  اکیڈیمی  شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں مسلم نوجوانوں کو ملک کا اثاثہ Asset)  ( بنانا ہے تاکہ وہ بردارانِ وطن کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر ملک کی ترقی میں اپنی خدمات فراہم کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایم ایس کو اپنی سماجی ذمہ داری کا احساس ہے اور اسی احساس کے جذبے کے تحت MSکی 25ویں سالگرہ کے موقع پر   IAS  اکیڈیمی کا قیام عمل میں لایاگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایم ایس کی یہ نئی پیش رفت سماجی ذمہ داری  Social Responsibility  کا حصّہ ہے۔اس IAS  اکیڈیمی میں میرٹ کی بنیاد پر 15 بچوں کو داخلہ دیا جائے گا ۔جس کی کوئی فیس نہیں ہوگی۔ اکیڈیمی میں محنتی اور ذہین طلباء کو قابل اساتذہ کی نگرانی میں  IAS  امتحان کی تیاری کرائی جائے گی۔اس کے علاوہ انہیں جدید لائبریری سے استفادہ کرنے اور اُن کے طعام اور قیام کی پوری سہولت مہیا کرای جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس اکیڈیمی میں تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت پر بھی کافی توجہ دی جائے گی تاکہ یہاں سے نکلنے والے تربیت یافتہ طلباء کامیاب Bureaucrat کے ساتھ ساتھ ایک عملی مسلمان بھی بنے ۔اس موقع پر انہوں نے اسکالر شپ اورMUST(Muslim as Assets)پروگرام بھی شروع کرنے کا اعلان کیا۔اسکالر شپ پروگرام کے تحت امسال 2016 ء میں کامیاب ہونے والے طلباء کو 5 لاکھ روپیے اسکالر شپ دیا جائے گا۔جن میںامیر نعیم اللہ خان ایوارڈ ( 3   لاکھ  روپیے)  اے پی جے عبدالکلام ایوارڈ  (1  لاکھ  روپیے)اور غلام رسول ایوارڈ (20 ہزار روپیے) ۔امسال ذیشان احمد جلیلی کوامیر نعیم اللہ خان ایوارڈ کے تحت ( 3   لاکھ  روپیے) کا اسکالر شپ ، سیدہ فرحین قدسیہ کو اے پی جے عبدالکلام ایوارڈ کے تحت 1  لاکھ  روپیے کا اسکالر شپ ، اور چار طالبات  سیدہ نورا جبین ، شفقت فاطمہ،  حفصہ فاطمہ اور یُسرا فاطمہ کو غلام رسول ایوارڈ (20 ہزار روپیے) کے تحت فی کس 20 ہزار روپیے کا اسکالر شپ دیا جا رہا ہے۔MUST  (Muslim as Assets) پروگرام کے تحت طلباء کی صلاحیت کو اجاگر کرکے انہیں ملک کی تعمیر میں آگے بڑھنے میں مدد کی جائے گی۔  پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیرمین ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی عبدالطیف خان نے کہا کہ ملک کی تعمیر و ترقی میں تعلیم کا سب سے اہم رول ہے۔اسی مقصد کے تحت ایم ایس نے طلباء کو جامع تعلیم فراہم کرنے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے جو ریسرچ اور جدید تقاضوں پر مبنی ہے۔ تاکہ ہمارا ملک ایک طاقتور ملک بن کے ابھرے اور سارے عالم میں انسانیت کا علم بردار بنے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے بنا کوئی بھی ترقی ممکن نہیں ہے۔انہوں نے  2036ء  تک ملک میں 100 فی صد خواندگی عام کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر انسان میں عزائم ہو تو وہ و سائل نہ ہونے کے باوجود کامیابی سے ہمکنار ہو سکتا ہے۔انہوں نے آٹو ڈرائیور، کسان، امام وغیرہ کے ایسے کئی کامیاب بچوں کی مثالیں پیش کیں جنہوں نے بنا کسی وسائل کے اپنی محنت کے بل پر کامیابی حاصل کی ۔انہوں نے خود اپنی مثال پیش کی کہ کس طرح سخت مالی تنگی اور مناسب وسائل نہ ہونے کے باوجود تعلیم حاصل کرکے آج ایک مقام بنایا ہے۔

TOPPOPULARRECENT