Sunday , September 24 2017
Home / آپ کے سوال / اگر میت مالدار نہ ہو تو فوت شدہ نمازوں اور روزوں کا فدیہ کس طرح ادا کیا جائے

اگر میت مالدار نہ ہو تو فوت شدہ نمازوں اور روزوں کا فدیہ کس طرح ادا کیا جائے

سوال :  مرحوم کے نماز اور روزوں کے فدیہ کے احکام مفصل بیان فرمائیں اور خصوصاً اس حالت میں کہ میت کے پاس کچھ بھی مال متروکہ نہیں تو ایسی صورت میں اس فوت شدہ نمازوں اور روزوں کا فدیہ کس طرح ادا کیا جائے یا ساقط کیا جائے؟
جواب :  شرعاً مرحوم کی فوت شدہ نمازوں میں سے ہر ایک فرض نماز و وتر اور ہر روزہ کے بدلے نصف صاع گہیوں جو صدقہ فطر (سواکینو) کی مقدار ہے ، صدقہ کیا جائے ۔ میت اگر مالدار نہیں ہے تو اس کے وارث کو چاہئے کہ نصف صاع گیہوں ایک نماز یا ایک روزے کے معاوضہ میں فقیر کو دے ، پھر فقیر اس گیہوں کو وارث کو واپس دیدے اور یہ وارث اس گیہوں کو دوسری نماز کے معاوضہ میں فقیر کو دے ، پھر اسی طرح تمام نماز و روزے ختم ہونے تک ہرا یک کیلئے اس گیہوں کو فقیر کو دے نا اور اس سے واپس لینا چاہئے ۔ اگر نصف صاع کے حساب سے کئی نمازوں کے گیہوں ایک دم دیکر واپس لیجائے تو بہت جلد تکمیل ہوجائے گی ۔ میت کے نادار ہونے کی حالت میں اگر اس کا کوئی وارث اپنی طرف سے گیہوں خرید کر اسقاط  کروائے تو جائز ہے اور نصف صاع گیہوں کے بدلے اس کی قیمت دینا افضل ہے کیونکہ قیمت سے فقیر کی کئی حاجتیں پوری ہوتی ہیں۔ در مختار مطبوعہ  برحاشیہ رد محتار مصری جلد 1 صفحہ 514 کتاب الصلاۃ میں ہے : (ولو مات و علیہ صلاۃ فائتۃ و اوصی بالکفارۃ یعطی لکل صلاۃ نصف صاع من بر) کالفطرۃ (و کذا حکم الوتر) و الصوم و انما یعطی (من ثلث مالہ) ولو لم یترک مالا یستقرض وارثہ نصف صاع و یدفعہ لفقیر ثم یدفعہ الفقیر للوارث ثم و ثم حتی یتم رد محتار میں ہے : (و قولہ نصف صاع من بر) ای او من دقیقہ اور سویقہ او صاع تمر اور زبیب او شعیر او قیمۃ و ھی افضل عندنا لاسراعھا بسد حاجۃ الفقیر (قولہ ولم یترک مالا الخ) ای اصلا او کان ما اوصی بہ لا یفی ۔ زاد فی المداد اولم یوص بشئی و اراد الولی التبرع ۔ الخ۔

خدمت خلق اور ہمارا معاشرہ
سوال :   آپ کے اس کالم میں شرعی مسائل اور اس کے احکام بیان کئے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلم سماج میں پھیلی ہوئی برائیوں کی نشاندہی کی جاکر اسلامی نقطہ نظر سے رہبری کی جاتی ہے۔ آج مسلمان میں بداخلاقی، مفاد پرستی ، خود غرصی ، کوٹ کوٹ کے بھر چکی ہے ۔ دوسروں کے کام آنا ، ہمدردی کرنا ، خیر خواہانہ جذبہ رکھنا ناپید ہے ۔ ایک دوسرے کی شکایت کرنا ، احترام کے  خلاف گفتگو کرنا، توہین کرنا عام ہوتے جارہا ہے ۔ ان حالات میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں مذکورہ احوال پر رہبری فرمائی جائے تو بہت بہتر ہے ؟
سید مطہر حسن جنیدی، عنبر پیٹ
جواب :   اسلام میں اکرام مومن کی کافی اہمیت ہے۔ دوسروں سے متعلق حسن ظن رکھنا اور اچھا سلوک کرنا اخلاقی فریضہ ہے ۔ دوسروں کیلئے آپؐ کے دل میں ہمیشہ ہمدردی اور مہربانی کے جذبات موجزن رہے ۔اس مسئلہ میں آپؐ کے نزدیک اپنے بیگانے ، آزاد اور غلام کی کوئی تمیز  نہ تھی ۔ آپؐ اکثر فرمایا کرتے تھے : ’’ میرے سامنے دوسروں کی ایسی باتیں نہ کیا کرو جنہیں سن کر میرے دل میں ان کے متعلق کوئی کدورت پیدا ہوجائے کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ میں سب سے صاف دل (سلیم الصدر) کے ساتھ ملوں ‘‘ (ابو داؤد : السنن ، 183:5 ، حدیث 4860 : الترمذی 71:5 ، حدیث 3896 ، مطبوعہ قاہرہ 1965 ء) ۔ ایک مرتبہ حضرت عبداللہؓ بن مسعود نے دو افراد کے متعلق آپؐ کو کوئی شکایت پہنچائی ۔ جسے سن کر آپؐ کا چہرہ سرخ ہوگیا اور آپؐ نے حضرت عبداللہؓ بن مسعود کو کنایۃً فرمایا کہ ’’ اس طرح کی باتیں مجھے نہ پہنچایا کرو ‘‘ (الترمذی ، محل مذکور ، البخاری ، 127:4 ) ۔ اس کے برعکس آپؐ اپنے پاس بیٹھنے والوں کو ترغیب دیا کرتے تھے کہ وہ دوسروںکے حق میں اچھی باتیں کیا کریں۔ ایک موقع پر فرمایا : ’’ لوگوں کی میرے سامنے سفارش کرو تاکہ تم اجر پاؤ اور اللہ ا پنے نبیؐ کی زبان پر جو چاہے فیصلہ جاری کردے (البخاری ، الادب ، مسلم (البر) ، 1026:4 ، حدیث 2627 ) ۔ یہی ہمدردی اور خیر خواہی کا جذبہ تھا کہ آپؐ فرمایا کرتے تھے کہ ’’ میں نے اللہ سے پختہ عہد لے رکھا ہے کہ اگر (ولو بالفرض) میری زبان سے کسی کے حق میں کوئی غیر مفید دعا یا جملہ نکل بھی جائے تو اللہ تعالیٰ متعلقہ فرد کو اس کے بدلے میں رحمت ، دل کی پاکیزگی اور روز قیامت میں قربت عطا فرمادے (مسلم ، 2000:4 ، حدیث 2600 تا 2604 ) ، آپؐ فرمایا کرتے تھے کہ ’’ اخلاق کی بلندی یہ نہیں کہ تم اس کے ساتھ نیکی کرو جو تمہارے ساتھ نیکی کرے اور اس کے ساتھ برائی کرو جو تمہارے ساتھ برائی کرے ، بلکہ صحیح اخلاق تو یہ ہے کہ ہر شخص سے نیک سلوک کرو خواہ وہ تم سے برے طریقہ ہی سے پیش آئے یا تم سے زیادتی کرے‘‘۔ اسی بناء پر آپؐ کے نزدیک نیکی کا مفہوم حسنِ خلق ، یعنی دوسروں سے اچھا برتاؤ تھا ۔ آپؐ کا ارشاد ہے ’’ البر حسن الخلق ‘‘ (مسلم ، 1980:4 ، حدیث 2552 ) ۔ آپ نے فرمایا:’’ ا کمل المؤمنین ایماناً احسنھم خلقا ‘‘ (الترمذی : السنن : 3 ، 469 ، حدیث 1162 ، ابو داؤد 6:5 ، حدیث 4682 )۔ ایمان کی تکمیل اخلاق اور طر ز معاشرت کی تکمیل کے بغیر نہیں ہوسکتی ، فرمایا ’’ ان خیارکم احسنکم اخلاقاً ‘‘ (البخاری ، 121:4 ، کتاب 78 ، باب 39 ) ، یعنی تم میں وہی بہتر ہے جس کا اخلاق دوسروں سے اچھا ہو ۔ ایک بار آپؐ نے فرمایا کہ ’’ اچھے اخلاق والے کو اچھے اخلاق کی وجہ سے روزے دار اور قائم اللیل کا درجہ مل جاتا ہے (ابو داؤد : السنن ، 141:5 ، حدیث 4798 ) آپؐ کے نزدیک حسن خلق سے مراد چہرے کی بشاشت ، بھلائی کا پھیلانا اور لوگوں سے تکلیف دہ امور کا دور کرنا ہے (الترمذی ، 363:4 ، حدیث 20005 ) ۔
صرف یہی نہیں بلکہ آپؐ اس جذبے کو پورے انسانی معاشرے میں رواں دواں دیکھنا چاہتے تھے، ارشاد ہے : تم اس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتے جب تک دوسروں کیلئے بھی وہی پسند نہ کرنے لگو جو خود اپنے لئے پسند کرتے ہو ‘‘ (مسلم ، 67:1 ، حدیث 45 ، احمد بن حنبل : مسند ، 272:3 ) ۔ ایک موقع پر فرمایا : ایک دوسرے سے نہ تو رو گردانی اختیار کرو اور نہ ایک دوسرے کے اندرونی معاملات کی خواہ مخواہ ٹوہ لگاؤ اور اے اللہ کے بندو ! سب بھائی بھائی ہوجاؤ ‘‘ (مسلم 1985:4 ، حدیث 2563 ، البخاری 128:4 ، کتاب الادب) ۔ یہی وجہ تھی کہ نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی آپؐ کے درِ دولت سے پوری طرح مستفید ہوتے رہے۔

قادیانی ہر حال میں کافر ہے
سوال :   میرے دوست کے بھائی جو نہایت دیندار ہیں، نماز ، روزے کے پابند ہیں حتی کہ تہجد گزار ہیں۔ تہجد کی نماز کبھی نہیں چھوڑتے ، وہ عام مساجد میں نماز ادا کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ بعد نماز فجر بلا ناغہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کی تصویر دیکھتے ہیں اور اس کے قصے اور واقعات سناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ ایک اچھے آدمی تھے ۔ اسلام کے مجاہد تھے اور میرے چچا کا کہنا ہے کہ نبوت کا سلسلہ اب بھی باقی ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی رسول ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین بھی مانتے ہیں۔ ایسے حالات میں ہمارے چچا کے لئے کیا حکم ہے ؟ کیا وہ دین اسلام میں باقی ہیں یا نہیں ؟ جبکہ وہ احکام اسلام پر سختی کے ساتھ کاربند رہتے ہیں۔ عام مسلمان اسقدر اہتمام نہیں کرتا جس قدر وہ اسلام کا اہتمام کرتے ہیں ؟
سید امتیاز علی، کالا پتھر
جواب :  فرقۂ احمدیہ کا بانی مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ ہے کہ وہ نبی ہے ۔ اس پر وحی الٰہی کا نزول ہوتا ہے اور وہ مسیح موعود ہے اور نبوت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم نہیں ہوئی بلکہ آپ کو نبوت کی مہر عطا کی گئی جس کو آپ چاہیں نبوت سے سرفراز فرماسکتے ہیں اور وہ قادیان کو مکہ مکرمہ اور مدینہ معظمہ کی طرح مقدس کہتا ہے ۔ اس کا دعویٰ ہے کہ قادیان ہی کو قرآن مجید میں ’’ مسجد اقصیٰ‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ اس کے مشرکانہ و کافرانہ دعوے اس کی مطبوعہ کتاب ’’ براہین احمدیہ‘‘ اور ’’ تبلیغ‘‘ نامی رسالہ میں صراحت کے ساتھ موجود ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے اور خلیفہ مرزا بشیرالدین کی کتاب ’’ آئینہ صداقت‘‘ میں اس کا یہ قول موجود ہے۔ ’’ جو مسلمان بھی مسیح موعود (یعنی اس کے والد مرزا غلام احمد قادیانی) کی بیعت میں داخل نہ ہو تو خواہ اس نے اس کا نام سنا ہو یا نہ سنا ہو ، وہ کافر اور اسلام سے خارج ہے۔ (کتاب مذکور ص : 35 ) قادیانی اخبار ’’ الفضل ‘‘ میں خود اس نے ا پنے باپ مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ قول نقل کیا ہے ’’ مسلمانوں سے ہمارا ہر چیز میں اختلاف ہے : اللہ ، رسول ، قرآن، نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ ، ان میں سے ہر چیز میں ان کے ساتھ ہمارا جوہری اختلاف ہے۔ (اخبار ’’ الفضل‘‘ 30 جولائی 1931 ء) اسی اخبار کی تیسری جلد میں یہ عبارت بھی ہے کہ ’’ بے شک مرزا ہی نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں‘‘ لہذا مذکورالصدر اقتباسات سے واضح ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی دین اسلام کا پیروکار نہیں بلکہ وہ ایک مدعی نبوت اور علحدہ دین کا بانی ہے اور سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکہ میں رکھنے کے لئے اسلام سے مشابہ احکام و تعلیمات کی دعوت دیتا ہے تاکہ عام مسلمان اس کے دام فریب میں آکر دین اسلام کی نعمت عظمی سے محروم ہوجائیں۔
اس لئے آپ حضرات کی ذمہ داری ہے کہ آپ عزیزوں کو سمجھائیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ گمراہی اور کفر ہے  اور مدعی نبوت کو حق جاننا بھی کفر ہے  اس لئے وہ تائب ہوکر صدق دل سے کامل طور پر اسلام میں داخل ہوجائیں۔ جب تک ایمان  سلامت نہ رہے، نماز ، روزہ اور شب بیداری سے کچھ نفع نہ ہوگا۔

قبل نماز جمعہمسجد میں سلام کرنا
سوال :  جمعہ کے دن لوگ خطبہ سے بہت پہلے مسجد میں جمع ہوجاتے ہیں اور قرآن مجید بالخصوص سورہ الکہف ، سورۃ یسین کی تلاوت کرتے ہیں اور دوسرے حضرات اوراد و وظائف میں مشغول رہتے ہیں۔ بعض حضرات مسجد کے اندرونی حصہ میں داخل ہوکر بلند آواز سے سلام کرتے ہیں ۔ کیا اس طرح سلام کرنا شرعی لحاظ سے کیا حکم رکھتا ہے ۔اس کے علاوہ اگر کوئی شخص سلام کردے تو کیا قرآن کی تلاوت میں مشغول افراد پر سلام کا جواب دینا ضروری ہے یا نہیں ؟
حافظ مطیع ال رحمن، ملک پیٹ
جواب :   یہ سلام کا وقت نہیں، جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہونے والے کو چاہئے کہ وہ سلام نہ کرے ۔ اگر وہ سلام کردے تو بیٹھنے والوں پر اس کے سلام کا جواب دینا  ضروری نہیں۔
عالمگیری جلد 5 کتاب الکراھۃ ص : 361 میں ہے : السلام تحیۃ الزائرین ، والذین جلسوا فی المسجد للقراء ۃ والتسبیح ولانتظار الصلوۃ ما جلسوافیہ لدخول الزائرین علیھم فلیس ھذا اوان السلام فلا یسلم علیھم و لھذا قالوا لو سلم علیھم الدخول وسعھم ان لا یجیبوہ کذا فی القنیۃ۔
انٹرنیٹ کے ذریعہ نکاح
سوال :  میرے لڑکے کا نکاح کیا انٹرنیٹ پر کرسکتے ہیں ؟ چونکہ وہ سعودی عرب میں ہے ۔ کیا شریعت ہے، کیا شرائط ہے ؟ کیا ایسا ہوسکتا ہے ؟ اگر نکاح ممکن ہے تو ہندوستان میں کس طرح کی تقاریب کرنی ہوگی ۔ استقبالیہ پھر وداعی کب ہوگی ۔ اس کا جواب تفصیل سے چاہتا ہوں۔ جواب سے مطمئن کریں گے تو نوازش ہوگی۔
نام …
جواب :  نکاح کے منعقد ہونے کے لئے عاقد و عاقدہ کا دو گواہوں کے روبرو ایک مجلس میں ایجاب و قبول کرنا ضروری ہے اور اگر عاقد محفل عقد میں نہ ہو تو عاقد کی طرف سے اس کا وکیل (جس کو عاقد اپنی طرف سے ایجاب و قبول کے لئے مقرر کرے) ایجاب و قبول کرے تو نکاح منعقد ہوگا۔ لڑکا آنے کے بعد وداعی و رخصتی کی جاسکتی ہے ۔ انٹرنیٹ کے ذریعہ ایجاب و قبول کیا جائے تو نکاح منعقد نہیں ہوتا کیونکہ عاقد اور عاقدہ کی مجلس ایک نہیں ہے۔ متعلقہ قاضی سے رجوع ہوں تو وہ وکالت کی تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT