Friday , September 22 2017
Home / اے پی ڈائری / اگر وجود کو ہی گہن لگ جائے تو …

اگر وجود کو ہی گہن لگ جائے تو …

تلنگانہ ؍اے پی ڈائری      خیر اللہ بیگ
نئی ریاست تلنگانہ کے قیام کے بعد سے مرکزی حکومت نے ریاست کے معاملات میں ذرہ بھر بھی دلچسپی نہیں لی بلکہ اسے دَلدل سمجھ کر اس سے دور رہنے کی کوشش کی۔ اس کی کئی وجوہات ہیں جس میں اہم وجہ تلنگانہ کی ٹی آر ایس حکومت کا مرکز کی حکمراں پارٹی بی جے پی سے عدم اتحاد ہے۔ آندھرا پردیش کی حکمراں پارٹی تلگودیشم نے بی جے پی سے اتحاد کرکے مرکز سے دوستانہ تعلقات کو اہمیت دی لیکن چندرا بابو نائیڈو کی اس حکمت عملی کا نقصان یہ ہوا کہ تلنگانہ میں اس پارٹی کا وجود تقریباً ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ تلگودیشم کے تقریباً تمام بڑے قائدین نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی۔ تلگودیشم کی اس درگت کو دیکھنے کے بعد بھی ٹی آر ایس سربراہ کے چندر شیکھر راؤ دل ہی دل میں بی جے پی سے اتحاد اور قربت کی آرزو رکھتے ہیں۔ ہر دن کوئی نہ کوئی ایسی خبر آتی ہے کہ جس سے بی جے پی کے حق میں نرم گوشہ رکھنے کا اشارہ ملتا ہے، اس خوش فہمی کے باوجود تلنگانہ کے حصہ میں مرکزی حکومت کی وہ ہمدردی نہیں آئی جس کی کہ نئی ریاست تلنگانہ مستحق ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن میں پارٹی کی شاندار کامیابی کے بعد پورے جذبہ کے ساتھ دہلی پہونچے تھے اور وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کرتے ہوئے ریاست تلنگانہ کو خاطر خواہ خصوصی پیاکیج دینے کا مطالبہ کیا تھا لیکن مرکز نے کوئی جنبش نہیں کی اور دونوں تلنگانہ اور مرکز کے درمیان سرد مہری کی فضاء برقرار ہے۔ نئی ریاست تلنگانہ کے قیام کے بعد سے اقتدار کی آندھی کا جو سلسلہ نکل پڑا وہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے بعد نارائن کھیڑ ضمنی انتخابات میں شاندار کامیابی تک برقرار ہے۔ ٹی آر ایس نے میدک میں اُس اسمبلی نشست کو کانگریس سے چھین لیا جبکہ یہ حلقہ کانگریس کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔ کانگریس تو خیر قومی پارٹی ہے آج نہیں تو کل اقتدار کا دوبارہ مزہ چکھنے کو ملے گا۔

اصل سوال تلنگانہ میں تلگودیشم کے زوال کا ہے۔ اہم قادئین کا پارٹی سے علم بغاوت بہت افسوسناک عمل ہے۔ کل تک چندرا بابو نائیڈو سیاسی پارٹیوں کے بادشاہ گر تھے آج ، آج ان کی سیاسی ساکھ کو شدید دھکا پہونچا ہے۔اس سے واضخ ہوتا ہے کہ ملک اور ریاستوں کا رائے دہندہ ووٹ دینے کے معاملہ میں اپنے جمہوری حق سے بھرپور استفادہ کرتا ہے۔ رائے دہندوں کے حالیہ موقف کو دیکھتے ہوئے ہر پارٹی کو خود احتسابی کی فکر کرنی چاہیئے۔ حکمراں پارٹی کو آج کامیابی کا زعم ہے تو یہی زعم کل تک تلگودیشم کے صدر چندرا بابو نائیڈو کو بھی تھا، لیکن وقت نے کروٹ لی ہے اور ایسا وقت کسی بھی پارٹی کے لئے ہوسکتا ہے۔ تلنگانہ خطہ میں سلسلہ وار ناکامیوں کا جائزہ لیتے ہوئے تلگودیشم سربراہ چندرا بابو نائیڈو اور ان کے فرزند لوکیش کو نئی حکمت عملی بنانے کے لئے مجبور ہونا پڑے گا۔ نارائن کھیڑ اسمبلی حلقہ میں تلگودیشم کی بدترین ہزیمت اور ضمانت ضبط ہوجانا بہت بڑا دھکا ہے۔ لیکن ایسی تبدیلی سے ہر ایک پارٹی گزرتی ہے، اس لئے چندرا بابو نائیڈو کے فرزند لوکیش نے خود کو دلاسہ دیتے ہوئے کہا کہ تلگودیشم رائے ہندوں کے بھروسے سے محروم نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی پارٹی کی قیادت ناکام ہوئی ہے، ناکامی کی اصل وجہ کچھ نہ کچھ اور کہیں نہ کہیں غلطیاں ہوئی ہیں اور سب سے بڑی غلطی تلنگانہ تلگودیشم کے نام میں ہے۔ تلگو دیشم پارٹی کے نام کے ساتھ تلنگانہ جوڑنے کی مقامی رائے دہندوں کے لئے پرکشش بات نہیں رہی۔نجومیوں کا کہنا ہے کہ تلگودیشم پارٹی نام کے آگے کوئی بھی لفظ لکھنے سے اس کا مکمل خاتمہ ہوجائے گا۔ مثال کے طور پر سابق میں نند مری ہری کرشنا نے انا تلگودیشم بنائی تھی جو  بری طرح ناکام ہوئی۔ این ٹی آر تلگودیشم پارٹی کی بانی این لکشمی پاروتی کا بھی سیاسی وجود ناپید ہوکر رہ گیا ہے لہذا پارٹی کا نام صرف تلگودیشم ہی رہنا چاہیئے، اس کے آگے کچھ نہ لگایا جائے جیسا کہ تلنگانہ تلگودیشم پارٹی کا بہت بھاری نقصان ہوا ہے۔ لہذا چیف منسٹر آندھرا پردیش چندرا بابو نائیڈو نے تلگودیشم کا نام برقرار رکھتے ہوئے اس کے آگے تلنگانہ یا آندھرا پردیش لکھنے کی تجویز پر غور کرنا شروع کیا ہے۔

اب آئندہ تلگودیشم ( تلنگانہ ) اور تلگودیشم ( آندھرا پردیش ) کے نام سے مہم چلائی جائے گی لیکن بعض سیاسی پنڈتوں نے یہ بھی کہا ہے کہ پارٹیوں کے نام کے آگے اور پیچھے کچھ بھی لکھا جائے لیکن سیاسی تقدیر تو رائے دہندوں کے ہاتھوں سے لکھی جاتی ہے۔ سابق میں کانگریس کے نام کے ساتھ بھی کئی مرتبہ دیگر الفاظ لکھے گئے تھے۔ کانگریس اندرا، کئی دنوں تک سیاسی میدان میں اپنی قسمت آزماتی رہی بالآخر کانگریس کے آگے اور پیچھے اب کوئی دوسرا نام نہیں ہے۔ ناموں میں کیا رکھا ہے بلکہ کام ہی پارٹیوں کی اصلی شناخت ہوئی ہے۔ ایسا محسوس کرنے والوں کا وجود رائے دہندوں کے درمیان دیرپا رہتا ہے۔ آندھرا پردیش کی تقسیم کے بعد دو تلگوریاستوں کا وجود ایک خوش آئند تبدیلی تھی لیکن اس تبدیلی کا اثر دونوں ریاستوں کے عوام پر سب سے زیادہ دیکھا جارہا ہے۔ اس لئے تلگودیشم کو تلنگانہ میں ناکامی ہوئی ہے تو آندھرا پردیش کے طلباء نے تلنگانہ کے انجینئرنگ کالجس اور دیگر تعلیمی اداروں سے خود کو دور رکھنا شروع کیاہے۔ نئے تعلیمی سال کے آغاز کے بعد تلنگانہ ریاست کے خانگی انجینئرنگ کالجس میں صرف 576 آندھرا پردیش طلباء نے داخلہ لیا ہے جبکہ سال 2014-15 میں تقریباً 2000 طلباء تلنگانہ کے کالجوں میں تعلیم حاصل کررہے تھے۔ آندھرا پردیش کے طلباء اپنی خود کی ریاست میں موجود کالجوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔ یہ تبدیلی یعنی اپنی تعلیمی سہولتوں کے لئے ہے۔ اس سے دو ریاستوں کی تقسیم کو ذمہ دار نہیں سمجھا جانا چاہیئے۔ انتخابات اور ریاستوں کی تقسیم کے جواثرات دونوں تلگو ریاستوں کے عوام پر مرتب ہورہے ہیں اس کو فطری تبدیلی کہا جاتا ہے۔ لیکن پارٹیوں پر اس کامیابی کا جو خمار چڑھا ہے وہ خود احتسابی کی بھی دعوت دیتا ہے۔ اگر بے تحاشہ خود اعتمادی حاصل کرنے والی پارٹی اقتدار کے نشہ میں دھت ہوکر اپنے وعدوں اور منشور کو فراموش کردے گی تو سیاسی مستقبل کا تباہ ہونا غیر یقینی نہیں ہے۔

دولت کا نشہ، اقتدار کا یا شراب کا نشہ حد سے زیادہ بڑھ جائے تو بڑی سے بڑی طاقت حماقت میں آکر غلطیاں کرجاتی ہے۔ آپ نے اس بدنصیب چوہے کا قصہ تو سنا ہوگا جو شراب کے ڈرم میں گر گیا تھا۔ جب شراب کی بھٹی کے ملازم نے اُسے دُم سے پکڑ کر باہر پھینکا تو چوہے کی دنیا بدلی بدلی سی نظر آئی۔ وہ شراب کے ڈرم سے نکالے جانے کے بعد کچھ دیر بے سدھ پڑے رہنے کے بعد انگڑائی لے کر اُٹھا تو اسے طبیعت میں عجیب سی خان بہادری محسوس ہوئی، جیسے دل کی دھڑکن خالی ہو، جسم دھمال کرے۔ نشہ کسی بھی قسم کا ہو چوہوں کو شیر اور بہادر بنادیتا ہے۔ جنگل میں ایک بندر چھُپ چھُپ کر شیرنی کو چھیڑتا اور بے ہودے جملے کستا تھا۔ جنگل راج تھا، اس لئے یہ بندر اسکا پورا فائدہ اٹھاتا رہا، آخر کار شیر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور اس نے ملزم پکڑنے کیلئے دربار لگایا اور تمام جانوروں کو حاضر ہوکر شامل تفتیش ہونے کا حکم دیا۔ چوہا مونچھوں کو تاؤ دیتا اکڑ کر دربار میں جارہا تھا۔ بندر نے پوچھا کہ اکڑ کس بات پر رہے ہو؟ چوہے نے جواب دیا کہ شیرنی کو چھیڑنے کا شک مجھ پر کیا جارہا ہے؟۔ چوہے جب بھی کسی ڈرم سے بے آبرو ہوکر نکلتے ہیں تو اپنے سے بڑے دشمن اور کبھی تو اپنے موجودین کو بھی اسی طرح للکارتے ہوئے چوہا گردی کی وارداتیں کرتے ہیں۔ دہلی میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی واقعہ کے بعد کچھ گروپس کی یہی چوہا گردی ملک کو لاقانونیت کی جانب ڈھکیل رہی ہے۔ نئی ریاست تلنگانہ کی یونیورسٹیوں کو بھی طلباء کے خلاف محاذ آرائی کا مرکز بنادیا جارہا ہے۔ مرکز میں تیار کردہ پالیسیوں کو ریاستی حکومت کی نظروں کے سامنے نافذ کرتے ہوئے معاملات بگاڑ دیئے جائیں تو پھر آنے والے دنوں میں ٹی آر ایس ۔ بی جے پی اتحاد کی خبریں گشت کریں گی۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT