Sunday , August 20 2017
Home / فیچر نیوز / اگر یہی ذہنیت رہی تو مجھے یہ ڈر ہے کہ اس صدی میں

اگر یہی ذہنیت رہی تو مجھے یہ ڈر ہے کہ اس صدی میں

ای احمد کے انتقال پر بھی مسلم دشمنی
کمزور بجٹ …یو پی میں پھر ہندوتوا ایجنڈہ

رشیدالدین
یکم فروری کو ایک سینئر پارلیمنٹرین کے اچانک انتقال سے نئی دہلی اور کیرالا میں فضاء سوگوار تھی لیکن پارلیمنٹ میں کچھ اور ہی منظر دکھائی دے رہا تھا ۔ وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر فینانس ارون جیٹلی عام بجٹ کی پیشکشی کیلئے پرجوش دکھائی دے رہے تھے ۔ حکومت میں شامل افراد اور بی جے پی ارکان کو اس بات کا کوئی احساس تک نہیں تھا کہ ایوان ایک سینئر پارلیمنٹرین سے محروم ہوچکا ہے۔ انسان بھلے ہی کتنا سنگ دل اور بے مروت کیوں نہ ہو، کسی کی موت پر وہ ضرور رنجیدہ ہوجاتا ہے کیونکہ اسے اپنی موت یاد آتی ہے لیکن یہاں منظر کچھ عجیب تھا۔ جیسے ہی صبح کی اولین ساعتوں میں مسلم لیگ کے رہنما اور کیرالا سے مسلسل ساتویں مرتبہ لوک سبھا کیلئے منتخب ای احمد کے انتقال کی اطلاع عام ہوئی ، عوام کو یقین تھا کہ لوک سبھا میں بجٹ کی پیشکشی ٹال دی جائے گی ۔ دستور اور پارلیمانی امور کے ماہرین کا احساس تھا کہ قواعد کے اعتبار سے سیٹنگ ممبر کے انتقال پر ایوان کی کارروائی ملتوی کرنا ضروری ہے لیکن حکومت کیلئے تو یہ جیسے جشن کا دن تھا کیونکہ پہلی مرتبہ عام بجٹ اور ریلوے بجٹ کو یکجا کر کے پیش کیا گیا۔ ٹی وی چیانلس پر جب لوک سبھا کے بارے میں مباحث شروع ہوئے تو ارون جیٹلی نے ٹوئیٹ کر کے بتایا کہ بجٹ مقررہ وقت پر پیش ہوگا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مرکزی حکومت کو ایک سینئر پارلیمنٹرین کے احترام سے کوئی مطلب نہیں۔ وزیراعظم ، وزیر فینانس اور بی جے پی ارکان لوک سبھا میں کچھ اس طرح حاضر ہوئے جیسے کوئی عید کا دن ہو۔ رنگ برنگے لباس میں ملبوس ارکان کے چہرے پر اپنے دیرینہ رفیق کی جدائی کا رتی برابر احساس نہیں تھا ۔ پھر وہ گھڑی آگئی جب ارون جیٹلی بجٹ پیش کرنے کھڑے ہوئے تو وزیراعظم سمیت این ڈی اے کے تمام ارکان نے میزیں تھپتھپاکر  خیرمقدم کیا۔ آخر انہیں کس بات کی خوشی تھی کہ ای احمد کے انتقال کی بھی پرواہ نہیں کی گئی اور پارلیمانی جمہوریت اور روایات کو بے خاطر کردیا گیا۔ دہلی کے ایک گھر میں ای احمد کی میت کے ساتھ ماتم کا ماحول تھا تو قریب میں واقع پارلیمنٹ میں بی جے پی ارکان وقفہ وقفہ سے میزیں تھپتھپاکر اپنی خوشی کا اظہار کر رہے تھے ۔ ظاہر ہے کہ ان آوازوں سے ای احمد کے گھر والوں پر کیا گزری ہوگی۔ نریندر مودی کے تیور کچھ یوں تھے جیسے انہوں نے کوئی اہم میدان سر کرلیا ہو۔ کیا یہی ہے اچھے دن اور سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ کے 50 سالہ سیاسی کیریئر کے حامل شخص کو ان کے شایان شان خراج عقیدت پیش نہ کیا جائے۔ ارون جیٹلی نے بجٹ تقریر کے آغاز پر بسنت پنجمی کی مبارکباد پیش کی لیکن ای احمد کیلئے ایک جملہ ادا کرنا انہیں گوارا نہیں ہوا۔ بجٹ کی پیشکشی کو دستوری ذمہ داری قرار دینے والے یہ کیسے بھول گئے کہ جس شخص کا انتقال ہوا ، وہ بھی تو 35 برسوں سے قانون ساز ادارہ کا رکن تھا۔ کیرالا میں رکن اسمبلی اور ریاستی وزیر کے بعد وہ لوک سبھا کیلئے منتخب ہوئے اور مرکز میں وزارت خارجہ ، فروغ انسانی وسائل جیسے اہم قلمدانوں کی شان میں اضافہ کیا۔ بجٹ کی اہمیت سے انکار نہیں لیکن پارلیمنٹ کے قواعد اور روایات کا پاس و لحاظ بھی ہونا چاہئے ۔ حکومت چاہتی تو صبح خراج عقیدت پیش کر کے شام میں بجٹ رکھ سکتی تھی ۔ اگر ٹھیک 11 بجے بجٹ پیش نہ ہوتا تو کونسا آسمان ٹوٹنے والا تھا ۔ اگر ای احمد کی جگہ بی جے پی کے کسی سینئر قائد کی موت واقع ہوتی تو کیا اس وقت بھی بجٹ پیش ہوتا؟ ایک دن قبل صدر جمہوریہ پرنب مکرجی کے دونوں ایوانوں سے خطاب کے دوران ای احمد کے قلب پر حملہ ہوا اور اسی وقت ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی لیکن حکومت کے اشارہ پر ہاسپٹل میں انہیں وینٹیلیٹر پر رکھا گیا۔ جب علاج جاری تھا تو گھر والوں کو دیکھنے کی اجازت تک نہیں دی گئی۔ سونیا گاندھی اور راہول گاندھی کو بھی روک دیا گیا، جب معاملہ بگڑتا دکھائی دینے لگا رات دیر گئے انتقال کی توثیق کردی گئی ورنہ بجٹ کی پیشکشی کے بعد شاید اس کا اعلان کرنے کا منصوبہ تھا ۔ ای احمد کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیوں؟

مرکز میں جارحانہ فرقہ پرست طاقتوں کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے پارلیمنٹ کی روایات سے انحراف ہونے لگا ہے۔ ای احمد کا قصور بس اتنا تھا کہ وہ مسلمان ہیں اور کیرالا میں بی جے پی کے قدم جمانے میں اہم رکاوٹ تھے ۔ اگر اسی رتبہ کا قائد کسی اور ملک میں ہوتا تو ان کے انتقال پر ملک بھر میں قومی پرچم سرنگوں کردیا جاتا لیکن یہاں مودی حکومت کو صرف بجٹ کی فکر تھی ۔ بی جے پی میں سینئر بزرگ قائدین اپنی طبعی عمر کو پہنچ چکے ہیں۔ یوں بھی موت کیلئے عمر کوئی معنی نہیں بن سکتی۔ ایسے میں اگر ای احمد کی جگہ بی جے پی اور سنگھ پریوار کا اپنا کوئی گزر جاتا تو یقینی طور پر ملک بھر میں سوگ کا اعلان ہوتا۔ ای احمد کے معاملہ میں بی جے پی کے تاثر اور ہندوتوا کا چہرہ بے نقاب ہوچکا ہے۔ گزشتہ دنوں چیف منسٹر ٹاملناڈو جیہ للیتا کا انتقال ہوا تو صدر جمہوریہ ، وزیراعظم سمیت مرکزی حکومت عملاً چینائی منتقل ہوچکی تھی۔ جیہ للیتا اگرچہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں کسی بھی ایوان کی سیٹنگ نمبر نہیں تھیں پھر بھی دونوں ایوان ملتوی کردیئے گئے۔ مرکزی حکومت نے ملک بھر میں ایک روزہ سرکاری سوگ کا اعلان کرتے ہوئے سرکاری دفاتر پر قومی پرچم کو سرنگوں کردیا تھا ۔ مسلم قائدین کے بارے میں بی جے پی حکومت کی پالیسی مختلف ہے۔ کشمیر کے رہنما مفتی محمد سعید کا جب انتقال ہوا تو وزیراعظم نے دہلی ایرپورٹ پر خراج ادا کرنے کو اپنی ذمہ داری کی تکمیل سمجھا۔ اسی طرح ای احمد کو بھی رسمی انداز میں خراج ادا کر کے کچھ ہی دیر بعد بجٹ کی پیشکشی کا جشن منایا گیا ۔ حکومت اور بی جے پی کا یہ اقدام دراصل سنگھ پریوار کی پالیسی کا حصہ ہے تاکہ مسلمانوں کے حوصلوں کو پست کیا جائے۔ مسلمانوں کو دوسرے درجہ کا شہری بنانے کی سازش کے تحت ایک مسلم رہنما کو نظر انداز کیا گیا۔ حکومت کے رویہ کے خلاف کانگریس نے احتجاج کیا لیکن کیرالا سے تعلق رکھنے والے ارکان نے بجٹ تقریر کا بائیکاٹ کیا۔ بی جے پی دراصل سنگھ پریوار کے ایجنڈہ پر عمل کرتے ہوئے پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ میں ہندو رائے دہندوں کو لبھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ بی جے پی کو جان لینا چاہئے کہ ہندوستان کے عوام کی اکثریت نے حکومت کی اس حرکت کو پسند نہیں کیا ۔ ہندوؤں کی اکثریت بھی تنگ نظر نہیں بلکہ رواداری پر یقین رکھتی ہے۔ وہ بی جے پی کے جھانسہ میں آنے والے نہیں۔ نریندر مودی نے عرب اور اسلامی ممالک کا جو کامیاب دورہ کیا ، وہ ای احمد کی کاوشوں کی دین ہے ۔ یو پی اے دور حکومت میں مملکتی وزیر خارجہ کی حیثیت سے عرب اور اسلامی ممالک کے ہندوستان سے تعلقات کے استحکام میں ان کا اہم رول ہے۔ ان کی محنت کا پھل آج مودی حکومت کھا رہی ہے ۔ تاریخ شاہد ہے کہ مسلمانوں نے ہمیشہ ملک کو دیا ہے ، اس کے بدلے فوائد کی  امید نہیں کی۔

نریندر مودی حکومت کے تین برسوں میں چار مرتبہ عام بجٹ پیش کیا گیا۔ چوتھے بجٹ سے امید کی جارہی تھی کہ عام آدمی سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کی جائے گی لیکن ارون جیٹلی نے عوام کو مایوس کردیا ۔ بجٹ میں اچھے دن کہیں بھی دکھائی نہیں دیئے ۔ جس طرح جیٹلی کمزور ہوچکے ہیں، اسی طرح ان کا بجٹ بھی کمزور دکھائی دے رہا تھا ۔ ارون جیٹلی نے بجٹ کی ابتداء  کو کھڑے ہوکر پڑھا جبکہ باقی بجٹ تقریر بیٹھ کر مکمل کی ۔ آخر کی چند سطریں دوبارہ ٹھہر کر پڑھی گئیں۔ ان سے بہتر تو ضعیف العمر صدر جمہوریہ پرنب مکرجی رہے جنہوں نے مسلسل سوا گھنٹے تک کھڑے ہوکر دونوں ایوانوں سے خطاب کیا۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ جو وزیر فینانس بجٹ کا بوجھ سنبھال نہ سکے وہ کس طرح ملک کو سنبھال پائیں گے۔ عام بجٹ اور ریلوے بجٹ ملاکر جس انداز میں پیش کیا گیا، اس سے بجٹ کی اہمیت اور انفرادیت ختم ہوچکی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ بجٹ کی پیشکشی کے دن عام آدمی میں کوئی دلچسپی نہیں دیکھی گئی۔ ملک کو کیا حاصل ہوا اور عام آدمی کو کیا فائدہ پہنچا۔ کسی کو پتہ نہیں۔مختلف ریاستیں بجٹ سے انہیں حاصل ہونے والے حصے کے بارے میں بھی لاعلم ہیں۔ ایسا  محسوس ہورہا ہے کہ وزیراعظم نے 8 نومبر کو نوٹ بندی کی جو تقریر کی تھی وہی دراصل بجٹ تھا۔ مرکزی بجٹ سوائے اعداد و شمار کے کھیل کے کچھ نہیں۔ حکومت ہر سطح پر نقدی لین دین کو ختم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہیں لیکن اسے شاید اندازہ نہیں کہ مشین اور ٹکنالوجی کے استعمال سے روزگار کے مواقع کم اور بیروزگاری میں اضافہ ہوگا۔ ارون جیٹلی کے بجٹ میں جس طرح عام آدمی کو نظر انداز کیا گیا، اس سے ملکہ فرانس کی یاد تازہ ہوگئی۔ جب محل کے باہر بھوکے پیاسے لوگ جمع ہوگئے اور درباریوں نے بتایا کہ یہ لوگ دراصل بھوک کے باعث جمع ہوئے ہیں۔ ملکہ نے جواب دیا تھا کہ اگر کھانا میسر نہیں تو کیک کیوں نہیں کھاتے۔ کچھ یہی حال نریندر مودی حکومت کا عام آدمی کے ساتھ ہے۔ دوسری طرف گوا اور پنجاب میں رائے دہی مکمل ہوچکی ہے اور تین ریاستوں اترپردیش، اتراکھنڈ اور منی پور میں مہم جاری ہے ۔ گوا اور پنجاب چونکہ بی جے پی زیر اقتدار ریاستیں ہیں، لہذا مودی نے اپنی ساری طاقت جھونک دی تھی پھر بھی دونوں ریاستوں میں پارٹی کیلئے کامیابی کی راہ آسان نہیں۔ ملک کی بڑی ریاست اترپردیش میں کسی بھی طرح کامیابی حاصل کرنے بی جے پی نے ہندوتوا ایجنڈہ کو اختیار کرلیا ہے۔ مرکز میں حکومت کی کارکردگی ایسی نہیں جس کی بنیاد پر ووٹ حاصل ہوں ، لہذا انتخابی منشور میں رام مندر اور تین طلاق جیسے متنازعہ امور کو شامل کیا گیا۔ بی جے پی کیلئے ہندوتوا ایجنڈہ کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ امریکہ میں نومنتخب صدر ٹرمپ جس طرح مسلمانوں کے ساتھ سلوک کر رہے ہیں، ٹھیک اسی انداز میں بی جے پی قائدین اترپردیش میں بیان بازی پر اتر آئے ہیں۔ معراج فیض آبادی نے کیا خوب کہا ہے ؎
اگر یہی ذہنیت رہی تو مجھے یہ ڈر ہے کہ اس صدی میں
نہ کوئی عبدالحمید ہوگا نہ کوئی عبدالکلام ہوگا

TOPPOPULARRECENT