Tuesday , October 17 2017
Home / Top Stories / اگسٹا ویسٹ لینڈ سے مربوط افراد کو ’اہم عہدے ‘ دیئے گئے

اگسٹا ویسٹ لینڈ سے مربوط افراد کو ’اہم عہدے ‘ دیئے گئے

سبکدوشی کے بعد گورنر اور سفارت کار مقرر ‘ اسکام میں ملوث ہونے کا بالواسطہ ثبوت : منوہر پاریکر

نئی دہلی ۔ /8 مئی (سیاست ڈاٹ کام) اگسٹا ویسٹ لینڈ اسکام میں کانگریس ملوث ہونے کے الزامات کو مزید تقویت پہنچاتے ہوئے وزیر دفاع منوہر پاریکر نے آج کہا کہ داغدار وی وی آئی پی ہیلی کاپٹر معاملت سے جن کا بھی تعلق رہا ان سب کو سبکدوشی کے بعد ’’اچھے عہدے‘‘ دیئے گئے ۔ منوہر پاریکر نے پی ٹی آئی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ کئی افراد جن کا اگسٹا ویسٹ لینڈ سے تعلق رہا اور جو اس کے حصول و سربراہی کاموں سے منسلک رہے انہیں اچھے عہدے دیئے گئے ۔ وہ اس وقت اقتدار کے مزے لوٹ رہے تھے ۔ وہ اقتدار پر فائز ہونے والوں کے کافی قریب تھے ۔ وہ ان کے پسندیدہ رہے اور انہیں ایسی جگہ رکھا گیا کہ یہ معاملت جاری رہے ۔ انہوں نے کہا یہ بھی ایک بالواسطہ ثبوت ہے ۔ تاہم انہوں نے کہا کہ سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ ہی یہ فیصلہ کریں گے کہ متعلقہ افراد سے پوچھ تاچھ کی جائے یا نہیں ۔ منوہر پاریکر سے ان ریمارکس کے بارے میں وضاحت پوچھی گئی کہ اگسٹا ویسٹ لینڈ سے متعلق رکھنے والوں کو گورنر‘ سفارت کار اور ایسے ہی دوسرے عہدے دیئے گئے ۔ انہوں نے کہا آپ دیکھیں گے کہ اگسٹا ویسٹ لینڈ کے دنوں میں جن کا اس سے تعلق رہا وہ اچھے عہدوں پر فائز ہوئے ۔ کوئی گورنر بنادیا گیا کسی کو سفیر بنادیا گیا ۔ وہ ان سے کوئی سوال نہیں کررہے ہیں ۔ لیکن وہ دستوری اتھاریٹی بن چکے تھے ۔ انہیں اچھے عہدوں پر فائز کردیا تھا ۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ آپ سفیر کسے بناتے ہیں ؟ دستوری اتھاریٹی کسے بناتے ہیں ؟ صرف انہیں جن پر بھروسہ ہوتا ہے ۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان افراد پر انہیں بھروسہ تھا بصورت دیگر وہ ان عہدوں پر فائز نہ ہوتے ۔ کئی سرکردہ عہدیداران بشمول اس وقت کے قومی سلامتی مشیر ایم کے نارائنن (سابق گورنر مغربی بنگال) اس وقت کے ایس پی جی سربراہ بی وی وانچور سابق گورنر گوا موجودہ کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل اور سابق ڈیفنس سکریٹری ششی کانت شرما جو اس وقت بحیثیت جوائنٹ سکریٹری (فضائیہ) اس معاملہ میں ملوث رہے اور یہ تمام فیصلہ سازی کے عمل میں شامل تھے جس کے بعد ہی اگسٹا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹرس کا انتخاب کیا گیا ۔ سابق فضائیہ کے سربراہ این اے کے براونے جو اس وقت ناروے میں ہندوستانی سفیر ہیں ‘ ان الزامات کو بالکلیہ بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ۔ تین بڑی دفاعی معاملتوں اگسٹا ویسٹ لینڈ ‘ رافیل اور پلائیس طیاروں میں ’’وہ ‘‘ مشترکہ  ’’رابطہ‘‘ تھے ۔ براو نے کہا کہ ان معاملتوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں اور بحیثیت ہندوستانی فصائیہ سربراہ میعاد کے دوران ان میں ایک بھی معاملت پر دستخط نہیں ہوئے ۔

 

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اسکام کا جائزہ لے گی
نئی دہلی ۔ /8 مئی (سیاست ڈاٹ کام) سینئر کانگریس لیڈر کے وی تھامس کی زیرقیادت پارلیمنٹ کی جاریہ ہفتہ ازسرنو تشکیل شدہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی امکان ہے کہ متنازعہ اگسٹا ویسٹ لینڈ مقدمہ کا جائزہ لے گی ۔ اس مسئلہ نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر سیاسی طوفان کھڑا کردیا ہے ۔ کمیٹی توقع ہے کہ 2G اسکام ، کامن ویلتھ اسکام اور پبلک سیکٹر بینکس کے غیر کارکرد اثاثہ جات سے متعلق بعض پہلوؤں کا بھی جائزہ لے گی ۔ گزشتہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی میعاد /30 اپریل کو ختم ہوچکی اور ان امور کو پورا نہ کیا جاسکا تھا ۔ کمیٹی کے ایک رکن نے اپنی شناحت مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ پیانل امکان ہے کہ ہیلی کاپٹر اسکام کا جائزہ لے گا کیونکہ کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل نے ماضی میں اس تعلق سے اپنی رپورٹ میں بعض منفی ریمارکس کئے ہیں اور یہ رپورٹ پہلے ہی پارلیمنٹ میں دی جاچکی ہے ۔ صدرنشین کمیٹی کے وی تھامس سے اس سلسلہ میں جب ربط قائم کیا گیا تو انہوں نے محتاط طرز عمل اختیار کیا اور اگسٹا ویسٹ لینڈ مسئلہ پر راست جواب دینے گریز کیا ۔

 

آگسٹا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر سودا درمیانی آدمی کے ڈرائیورکا اعتراف
نئی دہلی ۔8مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) تحقیقاتی کنندوں کو بعض اہم سراغ حاصل ہوئے ہیں جو ہندوستانی روابط کے بارے میں ہے ۔ انہوں نے مبینہ دفاع کے درمیانی آدمی کرسچئن مائیکل کے بارے میں تحقیقات کی تھی ‘ اُن کے مقامی ڈرائیور سے تفتیش کی گئی تھی کہ 3600کروڑ روپئے مالیتی ہیلی کاپٹرس کے سلسلہ میں غیر قانونی طور پر رقم منتقل کی گئی تھی یا نہیں ‘عہدیداروں کے بموجب مائیکل کے ڈرائیور نارائن بہادر سے انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے عملہ نے تفصیل سے گذشتہ چند دن کے دوران تفتیش کی اور اُس نے اعترافی بیان دیتے ہوئے اہم معلومات اپنے ہندوستانی روابط کے بارے میں بتایا ۔ کئی افراد نے دعویٰ کیا کہ ڈرائیور کو عالمی وائرفنڈ ٹرانسفر  طریقہ سے رقومات حال حال تک بھی وصول ہورہی تھیں اور اس سے تفتیش میں مدد مل سکتی ہے کہ مائیکل کی مزید سرگرمیاں اور تازہ کارروائیاں کیا ہیں ۔ مائیکل کے خلاف ای ڈی اور سی بی آئی دونوں نے انٹرپول ریڈ کارنر نوٹسیں گرفتاری کیلئے جاری کروائی ہیں ۔ ذرائع کے بموجب ڈرائیور مائیکل کو اس کے ہندوستان کے دوروں میں ساتھ لے جایاکرتا تھا ‘وہ اس سے چار سال تک قریبی روابط کے ساتھ سرگرم تھا ۔ اُس کے ہندوستانی اور غیر ملکی روابط کے بارے میں  اسے تمام معلومات حاصل ہیں ۔ بہادر سے محکموں نے قبل ازیں بھی تفتیش کی تھی جنہیں بعض اہم سراغ حال ہی میں دستیاب ہوئے ہیں جب کہ ای ڈی نے اسکے مکان کی تلاشی لی تھی اور سمجھا جاتاہے کہ بعض دستاویزات ‘ ٹیلی فون سیٹ اور دیگر چند چیزیں ضبط کی تھی جو اس اسکینڈل میںمائیکل کے کردار پر روشنی ڈال سکتی ہے ۔ہیلی کاپٹرس کے سودے کی تحقیقاتی سے تین مبینہ درمیانی آدمیوں کارلو بیروسا‘ گائیڈو مارشکے اور مائیکل کا پتہ چلاہے جنہوں نے آگسٹا ویسٹ لینڈ برطانیہ کو یہ سودا دلوایا تھا۔
آگسٹا ویسٹ لینڈ اطالوی کمپنی فن میکانیکا کی ضمنی کمپنی ہے ۔ تحقیقاتی محکمہ ان تینوں کے روابط کے بارے میں تحقیقات کررہی ہیں اور یہ بھی پتہ چلایا جارہا ہے کہ کتنی رشوت ادا کی گئی تھی جس کی وجہ سے کمپنی لاکھوں ڈالر مالیتی سودے کرنے میں کامیاب ہوگئی ۔ یکم جنوری 2014ء کو ہندوستان نے کمپنی کے ساتھ ربط منقطع کردیا تھا کیونکہ مبینہ طور پر اس نے معاہدہ کی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی تھی اور 423کروڑ روپئے بطور رشوت ادا کر کے یہ سودا حاصل کیا تھا ۔ دونوں تحقیقاتی محکموں انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ ( ای ڈی ) اور سنٹرل بیورو آف انوسٹیگیشن ( سی بی آئی ) نے علحدہ علحدہ مکتوبات روانہ کئے تھے ۔ مختلف ممالک سے تحقیقات میں پیشرفت کیلئے مدد طلب کی گئی تھی ۔ دونوں تحقیقاتی محکموں کی ایک مشترکہ ٹیم امکان ہے کہ جلد ہی بیرون ملک مقامات کاسفر کرے گی تاکہ رقومات کی منتقلی کے بارے میں تمام تفصیلات معلوم کی جاسکے ۔ وائرٹرانسفر اور نقد رقم کی منتقلی کے بارے میں بھی تفصیلات معلوم کی جاسکیں ۔ ہندوستان نے اس سودے کے بارے میں برسراقتدار بی جے پی اور اہم اپوزیشن کانگریس نے ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشیوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ۔ یہاں تک کہ صدر کانگریس سونیا گاندھی ‘ نائب صدر راہول گاندھی اور دیگر کانگریسی قائدین کو اس سلسلہ میں رشوت خوری کا مجرم قرار دینے کی کوشش کررہی ہے جب کہ کانگریس نے جوابی وار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سودے پر بات چیت کا آغاز یو پی اے دور حکومت میں نہیں بلکہ این ڈی اے دورحکومت میں ہوا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT