Tuesday , May 30 2017
Home / Top Stories / اگلا نشانہ سونا؟

اگلا نشانہ سونا؟

سونے کی لین دین کے بانڈس اور آن لائن تجارت زیرغور
حیدرآباد ۔ 26 نومبر (سیاست نیوز) بڑی کرنسی کو منسوخ کرنے کے بعد مرکز کا اگلا  نشانہ سونا ہے۔ ملک کے عوام اپنے سونے پر ڈیکلریشن دینے کیلئے تیار ہوجائیے بصورت دیگر انہیں کرنسی بحران کی طرح سونا بحران کا سامنا کرنا پڑیگا۔ حکومت نے سونے کی خریدوفروخت پر سخت نگاہ رکھی ہے۔ 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کی منسوخی کے بعد کالادھن رکھنے والوں نے بڑی تعداد میں سونا خرید لیا ہے۔ انٹلیجنس اور دیگر تحقیقاتی ایجنسیوں کی رپورٹ پر دو دن قبل مرکزی کابینہ کے اجلاس میں غوروخوض کیا گیا۔ ذرائع سے پتہ چلا کہ کابینہ میں سونا رکھنے والوں کے خلاف محاذ کھول دینے کا فیصلہ کیا گیا جس مقصد کیلئے بڑی کرنسی پر امتناع عائد کردی گئی تھی اس کے مثبت نتائج برآمد ہونے سے قبل ہی غیرمحسوب جائیداد رکھنے والوں نے اپنے کالادھن کو سونا خریدتے ہوئے سفید دھن میں تبدیل کردیا ہے۔ ایسے کئی گھرانے ہیں جن کے پاس کافی سونا ہے۔ کوئی بینک کے لاکرس میں محفوظ رکھے ہیں تو کوئی بیٹیوں کی شادیوں کی فکر میں سونا خرید چکے ہیں۔ ہندوستانی تہذیب و تمدن میں خواتین سونے وقیمتی زیورات کو اہمیت دیتی ہیں اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے اور سماج میں اپنے موقف کو پیش کرنے کی کوشش کرتی ہیں لیکن اب سونا رکھنا اہمیت سے زیادہ زحمت بن جائیگا کیونکہ حکومت سونے کی خریدی کے حدود متعین کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے اور اسکی عمل آوری کیلئے رہنمایانہ خطوط تیار کئے جارہے ہیں۔ مرکزی حکومت سونے کی لین دین کو بانڈس میں اور خریدی کو آن لائن مربوط کرنے کی تیاری کررہی ہے۔ حکومت ملک کے ہر شہری سے اپنے پاس موجود سونے کے بارے میں رضا کارانہ ڈیکلریشن دینے پر زور دے گی۔ اس کے بعد ہی اندازہ لگایا جاسکتا ہیکہ عوام کے پاس کتنا سونا ہے۔ مثال کے طور پر آپ کے پاس ایک کیلو سونا ہے، جس کا آپ اعلان کرچکے ہیں تو اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔ تاہم مستقبل میں اس پر ٹیکس وصول کرنے کے اندیشے ہیں اور یہی حکومت کی حکمت عملی ہے۔ ڈیکلریشن کے بعد حکومت ایک فرد اور خاندان کو اپنے پاس سونا خریدنے کی حد مقرر کرے گی۔ حکومت اس کو ای ٹی ایف کے ذریعہ سرکاری بانڈس سے خریدنے کی حوصلہ افزائی کرے گی۔ اس کے علاوہ اس کے پاس موجود سونے کو بینکوں میں رکھنے کی ہدایت دے گی۔ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ حد سے زیادہ سونا رکھنے کی صورت میں جرمانہ ادا کرنے عوام کو تیار رہنا پڑے گا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT