Saturday , April 29 2017
Home / Top Stories / ’’اہانت و گستاخی کے جھوٹے الزامات لگانے والے افراد کے دل بیمار‘‘

’’اہانت و گستاخی کے جھوٹے الزامات لگانے والے افراد کے دل بیمار‘‘

اسلام امن کا مذہب، عفو و درگذر لازمی جزو، امام مکہ شیخ صالح

اسلام آباد ۔ 17 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) مکہ معظمہ کے امام نے کہا ہیکہ اسلام امن کا مذہب ہے اور جو لوگ دوسروں پر مذہبی توہین و گستاخی کا جھوٹا الزام عائد کرتے ہیں، ان کے دل بیمار ہیں۔ انہیں اس ضمن میں سمجھانے اور تعلیم دینے کی ضرورت ہے۔ امام کعبہ شیخ صالح بن محمد ابراہیم نے جیو نیوز سے کہا کہ اسلام دراصل امن، عفورودرگذر اور رواداری کا مذہب ہے۔ عوام کو اس مذہب کے بارے میں پرامن طریقہ سے سمجھانے اور تعلیم دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو طرح کے لوگ ہیں جو دوسروں کو مذہب کی توہین اور گستاخی کیلئے موردالزام ٹھہراتے ہیں، ایک وہ ہیں جو ناخواندہ اور ان پڑھ ہوتے ہیں لیکن دوسرے وہ ہیں جو شخص فائدہ کیلئے مذہب کا غلط استعمال کیا کرتے ہیں۔ دوسری قسم کے افراد کو دین اسلام میں کوئی پناہ و راحت نہیں ملے گی۔ امام مکہ نے یہ بیان ایک ایسے وقت دیا ہے جس سے چند دن قبل پاکستان کے شہر مردان کی یونیورسٹی میں شعبہ صحافت کے ایک طالب علم مشعال خاں کو اہانت اسلام اور گستاخی کے لئے موردالزام ٹھہراتے ہوئے ایک جنونی ہجوم نے جس میں خود یونیورسٹی کے طلبہ بھی شامل تھے بری طرح مارپیٹ میں ہلاک کردیا تھا۔ شیخ صالح نے کہا کہ جو لوگ ناخواندہ ہیں اور دوسروں پر گستاخی کا الزام لگاتے ہیں، انہیں اسلام کی تعلیم دیتے ہوئے حقائق سے باخبر کیا جاسکتا ہے لیکن ایسے لوگ بھی ہیں جن کے دل بیمار ہوگئے ہیں اور وہ دانستہ طور پر اسلام کا بیجا استعمال کرتے ہیں۔ امام مکہ نے کہا کہ ’’ہم اسلام کے پیرو ہیں اور عفو و درگذار ہمارے مذہب کا لازمی جزو ہے۔ تاہم اگر کوئی ہمارے عقائد، اصولوں، تقدس اور اقدار پر حملہ کرتا ہے تو ہم اس سے اتفاق نہیں کرسکتے‘‘۔ امام کعبہ نے کہا کہ ’’یہ کسی قسم کی مروت یا رواداری نہیں ہے کہ کھلے عام گستاخی کرنے والوں کو ان دیکھا چھوڑ دیا جائے۔ ہمیں اپنے عقیدہ، اصولوں، تقدس یا اقدار کے تحفظ کیلئے سخت فیصلے بھی کرنا ہوگا۔ اسلام دراصل امن، عفو و درگذرا ور رواداری کا مذہب ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’علماء کی ذمہ داری ہیکہ وہ عوام کو اسلام کی تعلیم دیں۔ علماء کو چاہئے کہ وہ عوام کو دہشت گردی و انتہاء پسندی سے دور رہنے کی تعلیم دیں‘‘۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT