Sunday , July 23 2017
Home / شہر کی خبریں / اہل خیر حضرات تعلیمی پسماندہ طلباء کی تعلیمی کفالت کے لیے پہل کریں

اہل خیر حضرات تعلیمی پسماندہ طلباء کی تعلیمی کفالت کے لیے پہل کریں

تعلیم سے ملت کی سربلندی ممکن ، سادات ایجوکیشن سوسائٹی کی تعلیمی کانفرنس
حیدرآباد ۔ 25 ۔ اپریل : ( راست ) : سادات ایجوکیشن اینڈ ویلفیر سوسائٹی کے زیر اہتمام تعلیمی کانفرنس بعنوان ’ تعلیمی پسماندگی کا تدارک تعلیمی متبنیٰ اسکیم پر عمل آوری ‘ مدینہ ایجوکیشن سنٹر نامپلی میں زیر صدارت جناب کے ایم عارف الدین نائب صدر سوسائٹی منعقد ہوا ۔ مولانا سید قبول پاشاہ قادری شطاری نے کہا کہ سقوط حیدرآباد کے بعد سے مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کا سلسلہ شروع ہوا ۔ جو اب بھی باقی ہے جس کے تدارک کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے ۔ اہل خیر حضرات تعلیمی پسماندہ طلباء وطالبات کی کفالت کے لیے پہل کریں تو مثبت نتائج برآمد ہوسکتے ہیں ۔ آپ نے سادات سوسائٹی کی خدمات کو قابل تحسین قرار دیا ۔ مولانا اکبر نظام الدین حسینی صابری امیر جامعہ نظامیہ نے بتایا کہ آج کے مسابقتی دور میں طلباء کو زیادہ محنت کرنی چاہئے ۔ ملت کی سربلندی نوجوان نسل کے اعلی تعلیم یافتہ ہونے سے مربوط ہے ۔ جناب کے ایم عارف الدنے نائب صدر نے کہا کہ انتظامیہ ، عدلیہ اور سیاست میں مسلمانوں کی نمائندگی بتدریج کم ہوتی جارہی ہے ۔ طلباء سیول سرویس کے لیے تیاری کریں اور انتظامیہ کا حصہ بنیں ۔ پروفیسر خواجہ معین الدین نے کہا کہ قرآن پاک سائنسی علوم کا سرچشمہ ہے لیکن مسلمان سائنسی علوم میں بہت پیچھے ہیں ۔ تعلیم کو حصول روزگار کا ذریعہ نہیں بنانا چاہئے ۔ رحیم اللہ خاں نیازی نے کہا کہ سیاسی حالت نہایت تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں اور مسلمانوں کی آواز صدا بہ صحرا ثابت ہورہی ہے ۔ ایسے حالات میں طلباء اعلی تعلیم حاصل کر کے ملت کو سربلند کرسکتے ہیں اور مستقبل کے چیلنجس کے لیے ہماری صفوں میں اتحاد ہونا چاہئے ۔ مولانا سید سمیع اللہ حسینی بندہ نوازی جنرل سکریٹری نے حاضرین کا خیر مقدم کرتے ہوئے سوسائٹی کا مستقبل کا لائحہ عمل بتاتے ہوئے کہا کہ میٹرک یا انٹر کامیاب طلباء وطالبات جو ترک تعلیم کرچکے ہوں ان کی تعلیمی کفالت کے لیے مہم شروع کی گئی ہے ۔ اس ضمن میں اساتذہ برادری کو تعلیمی فنڈ میں تعاون کرنا چاہئے ۔ علی الدین قادری ابوالعلائی نے کہا کہ 2007میں جسٹس سچر کمیٹی رپورٹ سے مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کا اندازہ ہوا ۔ لیکن آج بھی وہی صورت حال ہے ۔ مسلمانوں کی فکری رہبری کے لیے علماء ، اکابرین ، صحافی ، سیاسی و جماعتی قائدین کو متحدہ جدوجہد کرنی چاہئے ۔ جناب ناظم علی نے نظامت کے فرائض انجام دئیے ۔ جناب احمد بشیر فاروقی نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا ۔۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT