Sunday , September 24 2017
Home / مذہبی صفحہ / اہل کوفہ سے امام عالی مقام کا خطاب

اہل کوفہ سے امام عالی مقام کا خطاب

خدا ایسے لوگوں کو اچھا ٹھکانا نہیں بخشے گا۔ دیکھو! یہ لوگ شیطان کے پیرو بن گئے ہیں۔ رحمن سے سرکش ہو گئے ہیں۔ فساد ظاہر ہے، حدود الہی معطل ہیں۔ مال غنیمت پر ناجائز قبضہ ہے۔ خدا کے حرام کو حلال اور حلال کو حرام ٹھہرایا جا رہا ہے۔ میں ان کی سرکشی کو حق و عدل سے بدل دینے کا سب سے زیادہ حقدار ہوں۔ تمہارے بے شمار خطوط اور قاصد میرے پاس پیام بیعت لے کر پہنچے، تم عہد کرچکے ہو کہ تم مجھ سے بے وفائی نہ کرو گے اور نہ مجھے دشمنوں کے حوالے کرو گے۔ اگر تم اپنی اس بیعت پر قائم رہے تو یہ تمہارے لئے راہ ہدایت ہے، کیونکہ میں حسین بن علی رضی اللہ عنہ، رسول کا نواسہ ہوں۔ میری جان تمہاری جان کے ساتھ، میرے بال بچے تمہارے بال بچوں کے ساتھ ہیں۔ مجھے اپنا نمونہ بناؤ اور مجھ سے گردن نہ موڑو، لیکن اگر تم یہ نہ کرو، بلکہ اپنا عہد توڑدو اور اپنی گردن سے میری بیعت کا حلقہ نکال پھینکو تو یہ بھی تم سے بعید نہیں۔ تم میرے باپ، بھائی اور عم زاد مسلم کے ساتھ ایسا ہی کرچکے ہو۔ وہ فریب خوردہ ہے، جو تم پر بھروسہ کرے۔ لیکن یاد رکھو! تم نے اپنا ہی نقصان کیا ہے اور اب بھی اپنا ہی نقصان کرو گے۔ تم نے اپنا حصہ کھو دیا، اپنی قیمت بگاڑ دی۔ جو بدعہدی کرے گا، خود اپنے خلاف بدعہدی کرے گا۔ خدائے تعالی عنقریب مجھے تم سے بے نیاز کردے گا‘‘۔ (ابن جریر اور کامل)
دشمن کے سامنے امام عالی مقام کا پراثر خطاب
جب دشمن قریب آگیا تو آپ نے اونٹنی طلب کی، سوار ہوئے، قرآن پاک سامنے رکھا اور دشمن کی صفوں کے سامنے کھڑے ہوکر بلند آواز سے خطبہ دیا: ’’لوگو! میری بات سنو، جلدی نہ کرو، مجھے نصیحت کرنے دو، اپنا عذر بیان کرنے دو، اپنی آمد کی وجہ کہنے دو۔ اگر میرا عذر معقول ہو اور تم اسے قبول کرسکو اور میرے ساتھ انصاف کرو تو یہ تمہارے لئے خوش نصیبی کا باعث ہوگا اور تم میری مخالفت سے باز آجاؤ گے۔ لیکن اگر سننے کے بعد بھی تم میرا عذر قبول نہ کرو اور انصاف کرنے سے انکار کردو تو پھر مجھے کسی بات سے بھی انکار نہیں ہے۔ تم اور تمہارے سارے ساتھی اکٹھا ہوکر مجھ پر ٹوٹ پڑو، مجھے ذرا بھی مہلت نہ دو، میرا اعتماد ہر حال میں صرف پروردگار عالم پر ہے اور وہ نیکو کاروں کا حامی ہے‘‘۔
آپ کی اہل بیت نے یہ کلام سنا تو شدت تاثر سے بے اختیار ہو گئیں اور خیمہ سے آہ و بکا کی صدا بلند ہوئی۔ آپ نے اپنے بھائی عباس اور اپنے فرزند علی کو بھیجا، تاکہ انھیں خاموش کرائیں اور کہا ’’ابھی انھیں بہت رونا باقی ہے‘‘۔ پھر بے اختیار پکار اٹھے ’’خدا ابن عباس کی عمر دراز کرے‘‘۔ یعنی حضرت عبد اللہ بن عباس کی۔ راوی کہتا ہے کہ یہ جملہ اس لئے آپ کی زبان سے نکل گیا کہ مدینہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے عورتوں کو ساتھ لے جانے سے منع کیا تھا، مگر آپ نے اس پر توجہ نہیں کی تھی۔ اب ان کا جزع و فزع دیکھا تو حضرت عبد اللہ بن عباس کی یاد آگئی۔ پھر آپ نے از سرنو تقریر شروع کی۔
’’لوگو! میرا حسب و نسب یاد کرو، سوچو میں کون ہوں؟۔ پھر اپنے گریبانوں میں منہ ڈالو اور اپنے ضمیر کا محاسبہ کرو۔ خوب غور کرو کیا تمہارے لئے میرا قتل کرنا اور میری حرمت کا رشتہ توڑنا روا ہے؟۔ کیا میں تمہارے نبی کی لڑکی کا بیٹا اور ان کے عم زاد کا بیٹا نہیں ہوں۔ کیا سید الشہداء حضرت حمزہ میرے باپ کے چچا نہیں تھے۔ کیا ذوالجناحین جعفر الطیار میرے چچا نہیں تھے۔ کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ مشہور قول نہیں سنا کہ آپ میرے اور میرے بھائی کے حق میں فرماتے تھے ’’سیدا شباب اہل الجنۃ؟‘‘ (جنت میں نوعمروں کے سردار) اگر میرا یہ بیان سچا ہے اور ضرور سچا ہے کیونکہ واللہ میں نے ہوش سنبھالنے کے بعد سے لے کر آج تک کبھی جھوٹ نہیں بولا، تو بتلاؤ کیا تمھیں برہنہ تلواروں سے میرا استقبال کرنا چاہئے؟۔ اگر تم میری بات کا یقین نہیں کرتے تو تم میں ایسے لوگ موجود ہیں، جن سے تصدیق کرسکتے ہو۔ جابر بن عبد اللہ انصاری سے پوچھو، ابو سعید خدری سے پوچھو، سہیل بن سعد ساعدی سے پوچھو، زید بن ارقم سے پوچھو، انس بن مالک سے پوچھو، وہ تمھیں بتائیں گے کہ انھوں نے میرے اور میرے بھائی کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے یا نہیں؟۔ کیا یہ بات بھی تمھیں میرا خون بہانے سے نہیں روک سکتی؟۔ واللہ! اس وقت روئے زمین پر بجز میرے کسی نبی کی لڑکی کا بیٹا موجود نہیں۔ میں تمہارے نبی کا بلاواسطہ نواسہ ہوں! کیا تم مجھے اس لئے ہلاک کرنا چاہتے ہو کہ میں نے کسی کی جان لی ہے! کسی کا خون بہایا ہے، کسی کا مال چھینا ہے؟، کہو کیا بات ہے؟ آخر میرا قصور کیا ہے؟‘‘۔

TOPPOPULARRECENT