Wednesday , August 23 2017
Home / Top Stories / اہم اداروں کے مرکز حیدرآباد میں گندگی افسوسناک

اہم اداروں کے مرکز حیدرآباد میں گندگی افسوسناک

واٹر لکیج روک کر پینے کے پانی کی قلت دور کرنا ممکن ، ماہرین کے تاثرات
حیدرآباد ۔ 6 ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : واٹر پائپس پجرنے کا عمل روکا جائے تو 55 فیصد پانی ضائع ہونے سے بچایا جاسکتا ہے ۔ حیدرآباد وہ شہر ہے جہاں دنیا کے کسی بھی شہر سے زیادہ وسائل موجود ہیں ۔ جس سے استفادہ کیا جاسکتا ہے ۔ یہ بات ڈائرکٹر سنٹر فار انرجی ، ماحولیات شہری انتظام و انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ اڈمنسٹریٹیو اسٹاف کالج آف انڈیا پروفیسر وی سرینواس چاری نے بتائی ۔ فورم فار اے بیٹر حیدرآباد کے زیر اہتمام ایک اجلاس سے خطاب کر کے جو کل یوم عالمی ماحولیات کے موقع پر منعقد ہوا انہوں نے احساس ظاہر کیا کہ حیدرآباد شہر کا سب سے بڑا مسئلہ پینے کے پانی کا ہے جس کی آسانی سے یکسوئی ہوسکتی ہے ۔ 55 فیصد لکیج پر قابو پالیا گیا تو مسئلہ حل ہوسکتا ہے ۔ دستیاب پانی کا 55 فیصد فضول ضائع ہورہا ہے ۔ بارش کے پانی کا ذخیرہ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے سرینواس چاری نے کہا کہ بیشتر شہری اس کی اہمیت اور افادیت سے آگاہ نہیں ہیں ۔ رہائشی علاقوں میں پانی جمع کرنے کا انتظام ہونا چاہئے نئی نسل میں اس تعلق سے بیداری مہم کی ضرورت ہے جو مستقبل کے حیدرآباد کے محافظ ہیں ۔ شہر میں کچرے اور گندگی کے سنگین مسائل ہیں ۔ حیدرآباد ایسا شہر ہے جہاں شہرہ آفاق ادارے قائم ہیں لیکن موسیٰ ندی کو پاک صاف کرنے جیسے مسائل ہنوز حل نہیں کیے جاسکے ہیں ۔ انہوں نے رائے ظاہر کی کہ اس کام کے لیے ناروے کے ادارہ جات سے مدد لینے کی بجائے حیدرآباد میں قائم چند سرکردہ تحقیقی اداروں سے ربط قائم کیا جاسکتا ہے ۔ ممتاز فنکار پدم شری کے لکشما گوڑ نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی اور اپنے خطاب میں افسوس ظاہر کیا کہ ترقی کے نام پر حیدرآباد شہر کے صدیوں قدیم آثار و نشان مٹا دئیے گئے ۔ انہوں نے فلک بوس عمارتوں کی تعمیر کی خاطر ہیرٹیج کے انہدام کی مخالفت کی ۔ ڈاکٹر راکیش کے مشرا ڈائرکٹر سی سی ایم پی حیدرآباد نے اپنی تقریر میں سویزرلینڈ جیسے ممالک کی مثال دی جہاں عوام اپنے شہروں کی ترقی کے عمل میں شامل اور حصہ دار ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کوئی بھی مہم چلانے کے لیے سوشیل میڈیا کو اہم ذریعہ قرار دیا ۔ ویدکمار نے تفصیل سے بیان کیا کہ کس طرح سبزہ اور تالابوں کے حوالہ سے شہرت رکھنے والا حیدرآباد گذشتہ بیس برسوں میں کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل ہوگیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT