Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / اہم اوقافی اراضیات کے مقدمات کی یکسوئی میں مسائل پیدا ہونے کا امکان

اہم اوقافی اراضیات کے مقدمات کی یکسوئی میں مسائل پیدا ہونے کا امکان

بورڈ کے لیگل ڈپارٹمنٹ کی عدم توجہ ، سپریم کورٹ میں آئندہ ماہ سماعت
حیدرآباد۔/27 اپریل، ( سیاست نیوز) اہم اوقافی جائیدادوں کے عدالتوں میں زیر دوران مقدمات کے سلسلہ میں وقف بورڈ کے لیگل ڈپارٹمنٹ کی عدم توجہی کے باعث کئی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ درگاہ حضرت حسین شاہ ولی ؒ کے تحت منی کونڈہ میں واقع 1650 ایکر اوقافی اراضی کے مقدمہ کی سماعت سپریم کورٹ میں 4 مئی کو مقرر ہے تاہم وکلاء کے انتخاب کے سلسلہ میں وقف بورڈ نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بورڈ کی تشکیل سے قبل سپریم کورٹ کے وکلاء کو جو رقومات ادا کی گئی تھیں اس پر بورڈ کے ارکان نے اعتراض کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض وکلاء کے انتخاب پر بھی اعتراض کیا گیا جس کے بعد سے وکلاء اور وقف بورڈ کے درمیان کوئی رابطہ نہیں ہے۔ اگر وقف بورڈ موجودہ وکلاء کو برقرار رکھنا چاہے تو اسے مزید رقم جاری کرنی پڑے گی۔ بورڈ کی تشکیل سے قبل تقریباً 12لاکھ روپئے وکلاء کی فیس کے طور پر ادا کئے گئے تھے۔ 6 نامور وکلاء کی خدمات حاصل کرتے ہوئے انہیں مقدمہ کی سماعت کے موقع پر وقف بورڈ کا موقف پیش کرنے کیلئے تیار رکھا گیا تھا۔ دیکھنا یہ ہے کہ 4 مئی کو مقدمہ کی سماعت کے دوران وقف بورڈ کی جانب سے کون نمائندگی کریں گے۔ وقف بورڈ کو اس سماعت کی اہمیت کا اندازہ کرتے ہوئے فوری طور پر فیصلہ کرنا چاہیئے۔ اسی دوران عیدگاہ گٹلہ بیگم پیٹ کی اوقافی اراضی کے غیر مجاز قابضین نے اراضی پر اپنی دعویداری پیش کرنے کیلئے صدرنشین محمد سلیم سے ملاقات کی۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ ملاقات ایک تنازعہ کی شکل اختیار کرگئی اور بورڈ میں خدمات انجام دینے والے ایک سینئر لینڈ سرویئر نے اپنا استعفی پیش کردیا۔ غیر مجاز قابضین نے اراضی کے رجسٹریشن کے کاغذات پیش کرتے ہوئے اسے اپنی ذاتی اور خریدی ہوئی اراضی ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ اس بارے میں صدرنشین اور چیف ایکزیکیٹو آفیسر نے لینڈ سرویئر کو طلب کرتے ہوئے معلومات حاصل کی۔ سرویئر نے کہا کہ مکمل اراضی وقف ہے لہذا اراضی کی خریدی سے متعلق معاملت غیر قانونی ہے۔ اسی دوران بتایا جاتا ہے کہ ناجائز قابضین مزید دستاویزات لانے کیلئے صدر نشین کے چیمبر سے باہر گئے۔ کچھ دیر بعد صدرنشین نے لینڈ سرویئر کی غلط فہمی کے باعث سرزنش کردی جس سے دلبرداشتہ ہوکر سرویئر نے برسر موقع استعفی تحریری طور پر پیش کردیا۔ جس سرویئر کے بارے میں غلط فہمی پیدا ہوئی تھی ان کا تعلق محکمہ مال سے ہے اور انہوں نے وقف بورڈ میں خدمات انجام دیتے ہوئے شہر اور مضافاتی علاقوں میں کئی اہم اوقافی جائیدادوں کا سروے کیا۔ درگاہ حضرت جہانگیر پیراںؒ کے ترقیاتی پراجکٹ کی تیاری میں بھی ان کا اہم رول رہا ہے۔ بعد میں صدرنشین اور چیف ایکزیکیٹو آفیسر نے انہیں استعفی سے دستبرداری کیلئے آمادہ کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ بورڈ میں دیگر محکمہ جات سے تعلق رکھنے والے ریٹائرڈ ملازمین کے خلاف باقاعدہ مہم چلائی جارہی ہے حالانکہ یہ ملازمین غیر معمولی خدمات انجام دے رہے ہیں اور ان کی قابلیت اور صلاحیت کا وقف بورڈ میں کوئی بدل نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ صدرنشین محمد سلیم اور چیف ایکزیکیٹو آفیسر ایم اے منان فاروقی نے بعض ریٹائرڈ ملازمین کی خدمات ختم کرنے کے بارے میں بورڈ کے بعض ارکان کے مطالبہ کو مسترد کردیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT