Tuesday , August 22 2017
Home / دنیا / ایرانی مداخلت کے خلاف سعودی اور ترکی کا یکساں موقف

ایرانی مداخلت کے خلاف سعودی اور ترکی کا یکساں موقف

انقرہ ۔10 فروری (سیاست ڈاٹ کام ) سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ سعودی عرب۔ ترکی کوآرڈی نیشن کونسل کا پہلا اجلاس تعمیری اور مفید رہا۔انقرہ میں اپنے ترک ہم منصب کے ساتھ پریس کانفرنس میں الجبیر نے کہا کہ شام ، عراق اور خطے میں ایران کی مداخلتوں کے حوالے سے سعودی عرب اور ترکی کے مواقف میں مکمل مطابقت پائی جاتی ہے۔الجبیر کے مطابق مذکورہ کوآرڈی نیشن کونسل مختلف شعبوں میں تعلقات کو مضبوط بنانے پر کام کر رہی ہے جو دونوں بردار ملکوں اور ان کے عوام کے مفاد میں اہمیت کے حامل ہیں اور ہم خطے کی دو سب سے بڑی معیشتوں کے درمیان مزید تعاون کے خواہاں ہیں۔سعودی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعاون قائم ہے جس کو مضبوط بنانے کی کوشش کی جار ہی ہے تاکہ یہ بین الاقوامی امن و امان کے کام آ سکے۔ شام کے حوالے سے الجبیر نے کہا کہ ہم شام کی یک جہتی اور خود مختار کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے باور کروایا کہ سعودی عرب کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کو ایک “دہشت گرد تنظیم” شمار کرتا ہے اور اس کے مقابلے کے لئے ترکی کی حمایت کرتا ہے۔عادل الجبیر کے مطابق شام میں ایران اور حزب اللہ کی مداخلتوں نے وہاں امن کے حل کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ آستانہ بات چیت کے نتیجے میں فائر بندی مضبوط ہوگی۔ دوسری جانب ترک وزیر خارجہ مولود چاوش اوگلو نے کہا ہے کہ یہ ضروری ہے کہ ہم سب پر واضح کر دیں کہ ہمارا تعلق بہترین نوعیت کا ہے جس کا مطلب ہے کہ ہم ضروری فیصلے آپسی تعاون کے ساتھ کریں گے۔اوگلو نے مزید کہا کہ ہمارے مشترکہ مفادات ہیں ، اس واسطے ہم پر لازم ہے کہ بہتر طور پر باہمی ہم آہنگی پیدا کریں۔ اس اجلاس میں ہم نے جو فیصلے کئے ہیں وہ کافی اہم ہیں اور آئندہ اجلاسوں میں ہم ان سے مستفید ہوں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ صدر رجب طیب اردغان  سعودی عرب اور خلیجی ممالک کا دورہ کریں گے۔اوگلو نے بتایا کہ ترکی داعش کا مقابلہ کرنے کے لئے سعودی عرب اور امریکہ کے ساتھ تعاون کرے گا۔ تاہم انہوں نے واضح کر دیا کہ اس شدت پسند تنظیم سے نمٹنے کے لئے ان کا ملک ’’دہشت گرد تنظیموں‘‘ کی معاونت ہر گز نہیں حاصل کرے گا۔

TOPPOPULARRECENT