Sunday , July 23 2017
Home / دنیا / ایرانی نیوکلیئرسمجھوتہ پرعمل آوری میں غیریقینی کے بادل

ایرانی نیوکلیئرسمجھوتہ پرعمل آوری میں غیریقینی کے بادل

بشارالاسدکو تہران کی تائید، معاہدہ پر نظرثانی کے مطالبات پر ٹرمپ انتظامیہ کا غور

ویانا ۔ 25 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ایران اور دیگر عالمی طاقتوں نے اب 2015ء میں ایران کے ساتھ کئے گئے نیوکلیئر معاہدہ پر نظرثانی کرنے کے بارے میں سوچنا شروع کردیا ہے کیونکہ امریکہ کے موجودہ  صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد اس تاریخی معاہدہ کے مستقبل پر غیریقینی کے بادل چھائے ہیں۔ معمول کے سہ ماہی اجلاس میں یہ توقع کی جارہی تھی جیسا کہ امریکہ نے بھی اس کی توثیق کی ہے، کہ روس، امریکہ، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے ساتھ ہوئے معاہدہ پر ایران پوری دیانتداری کے ساتھ نہیں عمل کررہا ہے۔  معاہدہ کی سب سے اہم شق یہ تھی کہ ایران اپنی نیوکلیئر سرگرمیوں کو مغربی ممالک اور اقوام متحدہ کی جانب سے عائد کردہ تحدیدات کو برخاست کروانے کے عوض ترک کردے۔ تاہم نئے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ نیوکلیئر معاہدہ پر نظرثانی کرنے کیلئے90 دنوں کی مہلت یہ کہہ کر دی ہیکہ ایران جس طرح دیگر ممالک میں اپنی ’’موجودگی کا احساس‘‘ دلارہا ہے اس سے نیوکلیئر معاہدہ کی روح مجروح ہورہی ہے اور ایران اس معاہدہ پر پوری دیانتداری کے ساتھ عمل آوری نہیں کررہا ہے۔ یاد رہیکہ ٹرمپ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ دراصل شام کے صدر بشارالاسد کے تئیں ایران کا جھکاؤ ہے۔ ایران نہ صرف بشارالاسد کا بلکہ یمن میں باغیوں کا ، عراق اور لبنان میں ملیشیا کا اور خود اپنے بالسٹک میزائیل کا زبردست حامی ہے۔ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان مارک ٹونر نے بھی پیر کے روز بیان دیا تھا کہ ایران کے ساتھ کئے گئے نیوکلیئر معاہدہ پر نظرثانی ضروری ہے کیونکہ ایران اس وقت عالمی سطح پر جو رول ادا کررہا ہے وہ نیوکلیئر معاہدہ پر نظرثانی کا متقاضی ہے۔ دوسری طرف امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن نے بھی گذشتہ ہفتہ ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں کے کئے گئے نیوکلیئر معاہدہ پر نظرثانی کرنے کی بات کہی تھی۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ایک بار پھر ضروری ہیکہ ایران نے اپنی یورانیم افزودگی والے ’’سنیٹر یفیوجس‘‘ میں 19000 سے کٹوتی کرکے 5000 کردی تھی جو توانائی کی پیداوار کیلئے کافی تصور کی جارہی تھی۔

صدر ونیزویلا کے خلاف مظاہرے ،23 افر اد ہلاک
کراکس ۔ 25 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ونیزویلا میں ایک بار پھر تشدد بھڑک اٹھنے سے دو افراد ہلاک ہوگئے اور اس طرح گذشتہ تین ہفتوں سے ملک کے صدر نکولس مڈورو کے خلاف جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والوں کی جملہ تعداد 23 ہوگئی۔ اس موقع پر پبلک ڈیفنڈر طارق ولیم نے بتایا کہ زخمیوں کی بھی قابل لحاظ تعداد ہے جن میں کئی ایسے ہیں جو اس وقت زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلاء ہیں۔
گذشتہ روز مڈورو مخالف احتجاجیوں نے کئی اہم سڑکوں پر ٹریفک روک دی تھی جبکہ مشرقی کراکس میں دو سرکاری ٹرکس کو نذرآتش کردیا گیا۔ ٹرک کو نذرآتش کرنے والے احتجاجی مظاہرین نقاب پہنے ہوئے تھے اور انہوں نے سڑک پر تیل گرادیا تھا۔ کئی مقامات پر پولیس کو احتجاجیوں کو منشتر کرنے کیلئے آنسو گیس کے شیلز داغنے پڑے کیونکہ احتجاجی پولیس اہلکاروں پر سنگباری کردیئے تھے۔ ونیزویلا میں جاری عوامی احتجاج پر لاطینی امریکی ممالک اور امریکہ نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT