Friday , June 23 2017
Home / اداریہ / ایرانی پارلیمنٹ پر حملہ

ایرانی پارلیمنٹ پر حملہ

ایران میں بہ یک وقت دو مقامات پر حملہ اور فائرنگ کے واقعات نے خلیج عرب اور مشرق وسطی میں حالیہ ہونے والی تبدیلیوں کے زاویہ سے دیکھا جائے تو یہ تشویشناک اور کشیدگی کو ہوا دینے والی کارروائی سمجھی جائے گی اور ایران کی پارلیمنٹ پر حملہ آور ہونے والے گروپ کے دیگر ارکان نے پارلیمنٹ سے کئی میل دور واقع جنوبی ایران میں آیت اللہ خمینی کے مقبرہ کے قریب بھی حملہ کیا۔ ان دونوں حملوں کی نوعیت اور کیفیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایران میں تشدد کی نئی لہر کے ذریعہ ایک انتباہ کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے۔ یہ حملہ حالیہ ایران انتخابات میں بھاری اکثریت سے دوبارہ صدر منتخب ہونے والے حسن روحانی کے لیے بڑا چیلنج تو نہیں ہے مگر ان کے دوبارہ انتخاب کے بعد ہی ایران میں تشدد کا یہ پہلاعمل ہے تو صدر ایران کی حیثیت سے ان کے سامنے نئی سازش نمودار ہوئی ہے۔ روحانی کے 4 سالہ دور کا پہلا مرحلہ بھی اندرون ملک امن و امان کی صورتحال بھی کسی قدر ابتری سے گزرا تھا۔ ایران کے اصلاح پسند اور اعتدال پسند دونوں کی صدر حسن روحانی کو تائید حاصل ہے۔ اس کے باوجود ایران کی پارلیمنٹ پر حملہ کے پس پردہ عوامل کا پتہ چلانا ضروری ہے۔ امریکہ کے ساتھ تنازعہ کے باوجود حسن روحانی نے اپنے پہلے دور صدارت میں امریکہ اور 6 عالمی طاقتوں کے درمیان ایک معاہدہ کو قطعیت دی تھی۔ اس معاہدے کے تحت ایران کو اپنا متنازعہ نیوکلیئر پروگرام محدود کرنے کے عوض تحدیدات سے چھٹکارا ملا اور ایران عالمی سطح پر یکا و تنہا رہنے کی حد سے آزاد بھی ہوا۔ اس طرح کی اہم تبدیلیوں کے بعد حسن روحانی کی قیادت میں ایران کو دہشت گرد حملہ کا شکار ہونا پڑا ہے تو یہ حملہ آور اندرون ناراض گروپ سے تعلق رکھتے ہیں یا پھر خارجی طاقتوں کا حصہ ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا جو تماشہ آئے دن دکھایا جارہا ہے اس کا ردعمل صرف اسلامی ممالک میں ہی دکھائی دیتا ہے۔ اس حملے کی ذمہ داری بظاہر دولت اسلامیہ نے قبول کی اس کے دعوی میں اکثر کوئی صداقت نظر نہیں آتی وہ کوئی ثبوت فراہم کئے بغیر ہی حملے کے فوری بعد اپنی ذمہ داری قبول کرلینے کا دعوی کرتا ہے۔ ایران کے نہایت ہی سکیوریٹی والے علاقہ میں اس نوعیت کا حملہ تشویشناک بات ہے یا پھر یہ ایک مذاق کے طورپر کروائی گئی کارروائی ہے۔ حملہ آور یا تو حسن روحانی کے دوسرے دور کی قیادت کو مشکلات سے دوچار کرنا چاہتے ہیں یا پھر ایران کو دہشت گردی کے نشانہ پر رہنے کا انتباہ دینا چاہتے ہیں۔ یہ حملے ایک ایسے وقت بھی کئے گئے ہیں 6 عرب ملکوں نے قطر کی ایران اور شدت پسند تنظیموں سے قربت کے خلاف اپنے سفارتی تعلقات منقطع کرلئے ہیں۔ ایک طرف مخالف ایران اتحاد کو ٹوٹ پھوٹ کا شکار بنانے کی کوشش ہورہی ہے تو دوسری طرف خلیجی خطہ کو عدم استحکام کا شکار بنایا جارہا ہے۔ صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کے دورہ سعودی عرب کے ایک ہفتہ کے اندر ہی عالم عرب میں رونما ہونے والے واقعات کشیدہ ماحول  کا اشارہ کررہے ہیں۔ جب مشرق وسطی بحران اور عدم استحکام سے دوچار ہے تو اس خطہ کے ملکوں میں باہمی سفارتی یا میدانی تصادم تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ میں سیشن کی کارروائی جاری رہنے کے دوران حملہ آوروں کا عمارت تک رسائی حاصل کرنا بھی حیران کن بات ہے۔ اسپیکر علی لاری جانی نے ان حملوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کے اندر ایسا کچھ نہیں ہوا ہے جبکہ سکیوریٹی فورسس، حملہ آوروں سے باہر ہی نمٹ چکی ہے۔ جہاں تک آیت اللہ خمینی کے مقبرہ پر خاتون خودکش حملہ آور کو گرفتار کرلیا جانے کا سوال ہے تو اس سے تمام راز حاصل ہوسکتے ہیں۔ ایران ہمیشہ جہادی گروپس کے نشانہ پر رہا ہے مگر اس بار اندرون عمارتوں خاص کر پارلیمنٹ پر ایسے حملے نہیں ہونے تھے۔ شام اور عراق میں حکمرانوں کی حمایت کرتے ہوئے جنگ کا حصہ بنے ایران کو آج اس کی پارلیمنٹ پر حملہ کا شکار ہونا پڑا ہے تو یہ کارروائی ایران کے قلب میں کی گئی انتہائی کوشش ہوسکتی ہے۔ مغربی طاقتوں کے خلاف نبردآزما گروپس کے سامنے مشرق وسطی کے حالات اور عالم عرب کو غیر مستحکم کرنے والی سازشوں کا انبار ہے۔ ایران کے اندر حسن روحانی حکومت کا دوسرا دور اگر کمزوریوں اور بحرانوں سے دوچار کردیا جاتا ہے تو صدارتی انتخابات میں خامنہ ای کی شکست اور پارلیمنٹ پر حملہ کے واقعات موجودہ حکمرانی کی کمزوریوں کو عیاں کرکے نیا بحران پیدا کرنے کی کوشش بھی ثابت ہوسکتے ہیں تو اس سے ایران کو داخلی طور پر ہی دھکہ پہنچے گا اور حسن روحانی حکومت کو خطرہ لاحق رہے گا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT