Wednesday , August 23 2017
Home / Top Stories / ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی ‘ عراق کا پیشکش

ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی ‘ عراق کا پیشکش

تہران۔6جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) عراق نے آج پیشکش کیا کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہونے کے پیش نظر وہ اس کی یکسوئی کیلئے ثالثی کرنے کیلئے تیار ہے ۔ وزیر خارجہ عراق ابراہیم الجعفری نے تہران میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ثالثی کا پیشکش کیا ‘ تاہم شیخ نمر النمر کی سزائے موت کو ایک ’’جرم‘‘ بھی قرار دیا ۔وزیر خارجہ ایران احمد جواد ظریف سے بات چیت کے دوران جعفری نے کہا کہ عراق مشرق وسطی کے قلب میں ہے اور کشیدگی دور کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے ۔

بحرین میں ایران سے مربوط دہشت گرد شعبہ کا خاتمہ
دبئی سے موصولہ اطلاع کے بموجب بحرین نے آج کہا کہ اُس نے ایران سے مربوط ایک دہشت گرد شعبہ کو جو سعودی عرب میں حملوں کا منصوبہ بنارہا تھا ختم کردیا ۔ مبینہ طور پر اس شعبہ کے روابط ایران کے پاسداران انقلاب اور لبنان کی حزب اللہ سے تھے ۔ خبر رساں ادارہ بی این اے کے بموجب خفیہ دہشت گرد تنظیم کی شناخت کی گئی اور کئی افراد گرفتار کرلئے گئے  جبکہ دیگر فرار ہیں ۔ 33سالہ جڑواں بھائیوں علی اور محمد فقراوی کو اس تنظیم کے قائدین کی حیثیت سے شناخت کیا گیا ہے اور انہیں دیگر افراد کے ساتھ گرفتار کرلیا گیا ہے ۔ بحرین کی دہشت گرد گروپس کی فہرست میں الاشتعار بریگیڈ اور لبنان کی حزب اللہ شامل ہیں ۔

اردن میںسفیر ایران کی طلبی
جبوتی ۔ایران سفارتی تعلقات منقطع
عمان سے موصولہ اطلاع کے بموجب اردن نے ایران کے سفیر کو طلب کر کے ہفتہ کے دن ایران میں سعودی سفارت خانہ پر حملہ کے خلاف احتجاج کیا ۔ حکومت اردن نے ہفتہ کے حملوں کی شدت سے مذمت کی ۔ احتجاجیوں نے حملہ کے بعد سفارت خانہ کو اور سعودی قونصل خانہ کو مشہد میں نذرآتش کردیا تھا ۔ حکومت کے ترجمان نے کہا کہ سعودی سفارت خانہ اور قونصل خانہ پر یہ حملے بین الاقوامی کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ نیروبی سے موصولہ اطلاع کے بموجب جبوتی نے آج ایران سے اپنے سفارتی تعلقات منقطع کرلئے ۔ افریقہ کے اس چھوٹے سے ملک کی خلیج عدن میں اہم دفاعی محل وقوع ہے۔ یہاں پر دنیا کی اہم ترین آبی گذرگاہیں ہیں ۔ وزیرخارجہ محمد یوسف علی نے سفارتی تعلقات قطع کرنے کا اعلان کیا ۔

سزائے موت سعودی عرب کا
داخلی معاملہ  : اردغان صدر ترکی
انقرہ سے موصولہ اطلاع کے بموجب صدر ترکی رجب طیب اردغان نے آج سعودی عرب کی مذمت کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ نامور شیعہ عالم دین کی سزائے موت سعودی عرب کا داخلی معاملہ ہے اور وہ کسی ملک کے داخلی قانونی معاملہ میں مداخلت نہیں کرسکتے چاہے اُس کے فیصلہ سے متفق ہوں یا نہ ہوں ۔ اردغًان گذشتہ ماہ سعودی عرب کا دورہ کر کے ملک سلمان سے بات چیت کرچکے ہیں ۔ ترکی کے سعودی عرب سے تعلقات تاریخ کا ایک نیا موڑ ہیں ۔ترکی اور سعودی عرب سنی مسلم غالب آبادی والے ملک ہیں اور شام میں تنازعہ کے بارے میں دونوں کا نظریہ یکساں ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ خانہ جنگی کے خاتمہ کیلئے بشارالاسد کی اقتدار سے بیدخلی ضروری ہے۔

TOPPOPULARRECENT