Monday , August 21 2017
Home / دنیا / ایران اور سعودی عرب کے مابین لفظی جنگ عروج پر،کشیدگی میں اضافہ

ایران اور سعودی عرب کے مابین لفظی جنگ عروج پر،کشیدگی میں اضافہ

زمینی جنگ میں شرکت کیلئے حلیف عرب ممالک سے سعودی عرب کی اپیل پر ایران کا ردعمل
تہران،7فروری (سیاست ڈاٹ کام )ایران کے پاسداران انقلاب کے سربراہ محمد علی جعفری نے کہاہے کہ سعودی عرب میں اس حوالے سے جرات کا فقدان ہے کہ وہ اپنے زمینی دستوں کو منصوبہ بندی کے ساتھ شام بھیجے ۔ساتھ ہی انھوں نے خبردار کیا کہ اگر سعودی عرب نے ایسا کیا تو ان کی فورسز کو ختم کردیا جائے گا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق محمد علی جعفری کا یہ تند و تیز بیان، حریف ملک سعودی عرب کی جانب سے شام میں زمینی آپریشن میںشمولیت کے حوالے سے دیئے جانے والے بیان کے بعد ایران کی جانب سے پہلا سرکاری بیان ہے ۔واضح رہے کہ حال ہی میں سعودی عرب کی جانب سے بیان سامنے آیا تھا کہ اگر امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک شام میں داعش کے خلاف زمینی آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں، تو وہ بھی اپنی فوج بھیجنے کے لیے تیار ہے ۔محمد علی جعفری نے کہاکہ سعودی عرب نے یہ دعویٰ تو کردیا ہے لیکن میرا ایسا خیال نہیں ہے کہ وہ اتنے بہادر ہیں کہ ایسا کریں گے اور اگر ایسا ہوبھی گیا تو ان کو لازمی شکست سے دوچار ہونا پڑے گا، یہ خودکشی کے برابر ہوگا۔غور طلب ہے کہ داعش نے 2014 میں شام اور عراق کے بڑے رقبے پر قبضہ کرکے خود ساختہ خلافت قائم کرنے کا اعلان کیا تھا،

جس کے خلاف امریکہ کی قیادت میں کئی ممالک کی فوجی نے کارروائیاں شروع کیں، تاہم اب تک داعش پر قابو نہیں پایا جا سکا ہے ۔دوسری جانب امریکہ اور اس کے اتحادی، جن میں سعودی عرب، فرانس، برطانیہ اور جرمنی شامل ہیں، صدر بشار الاسد کے خلاف لڑنے والے  باغیوں کی سرپرستی کر رہے ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ شامی صدر کو اپنے عہدے سے دستبردار ہوجانا چاہیے ۔یہاں یہ بھی بتاتے چلیں کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات میں گزشتہ کئی دہائیوں سے کشیدگی پائی جاتی ہے اور سعودی عرب کئی بار یہ الزام لگا چکا ہے کہ ایران، عرب ممالک کے معاملات میں مداخلت کررہا ہے ۔ان کے تعلقات میں مزید کشیدگی اس وقت آئی جب رواں برس  جنوری میں سعودی عرب میں ایک شیعہ نامور عالم نمر النمر کو موت کی سزا دیئے جانے کے بعد مظاہرین نے تہران میں واقع سعودی سفارت خانے اور شہر مشہد میں سعودی قونصل خانے پر دھاوا بول دیا تھا۔ان واقعات کے بعد پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے دونوں ملکوں کے مابین کشیدگی ختم کرانے کی کوششیں کی تھی اور اس کے لئے وہ دونوں ملکوںکے سربراہان سے ملاقات بھی کی تھی اور رشتوں میں در آئی تلخیوں کو دور کرنے کی اپیل کی تھی لیکن حالیہ واقعات سے ایسا لگتا ہے کہ ان کی کوششیں رائیگاں جا رہی ہیں اور دونوں ملکوں کے مابین تعلقات ایک بار پھر کشیدہ ہو رہی ہیں۔ ادھر شامی وزیر خارجہ ولید معلم نے پریس کانفرنس میں کہا اگر کسی ملک نے جارحیت کی تو مزاحمت کرینگے ۔ حملہ آوروں کی تابوتوں میں نعشیں واپس جائیں گی۔

TOPPOPULARRECENT