Wednesday , May 24 2017
Home / دنیا / ایران سے امریکہ خائف،افواہیں پھیلانے کا الزام

ایران سے امریکہ خائف،افواہیں پھیلانے کا الزام

تہران۔10 فروری (سیاست ڈاٹ کام ) امریکی رپورٹس میں ایران کی جانب سے ایک اور میزائل تجربے کا دعویٰ کیا گیا ہے لیکن دوسری جانب ایرانی وزیر دفاع حسین دھقان نے شمالی شہر جیلان میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے دوسرے میزائل تجربے سے متعلق امریکی رپورٹس کو یکسر مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میزائل تجربے سے متعلق امریکی میڈیا کی طرف سے پھیلائی جانے والی افواہیں ایران سے امریکی خوف کا اظہار ہے۔ امریکی ٹی وی ’فاکس نیوز‘ نے ایک خبر نشر کی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران نے ایک اور بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔دوسرے دن  امریکی میڈیا میں آنے والی اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ  بیلسٹک میزائل کا تجربہ تو نہیں کیا گیا تاہم زمین سے فضاء میں کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کا تجربہ کیا گیا ہے۔گذشتہ دو ہفتوں کے دوران ایران نے امریکی پابندیوں کے جواب میں میزائل تجربات جاری رکھنے کی دھمکی دی تھی لیکن پہلی مرتبہ ایران کی جانب سے اعلانیہ میزائل تجربات نہ کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اس سے ایران کی امریکی پابندیوں کے بعد تبدیل ہوتی پالیسی صاف دکھائی دے رہی ہے۔ جب سے امریکی حکومت نے کئی ایرانی شخصیات اور اداروں کوبلیک لسٹ کیا ہے ایران کی دھمکیوں اور بیان بازی کی انداز بھی تبدیل ہوگیا ہے۔ایرانی وزیر دفاع حسین دھقان نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے دوسرے میزائل تجربے کی باتیں بے بنیاد ہیں اور دشمن کے ایران فوبیا کا حصہ ہیں۔ایرانی وزیر دفاع نے سپریم لیڈر کے اس بیان کو دہرایا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکی دھمکیوں کا جواب ایرانی عوام اسلامی انقلاب کی سالگرہ پر دیں گے۔آیت اللہ علی خامنہ ای عمونا سخت بیان بازی میں مشہور ہیں لیکن حال ہی میں انہوں نے جو خطاب کیا ہے اس میں امریکہ کے حوالے سے وہ شدت نہیں تھی جس کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا۔ حالانکہ نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرنپ نے دھمکی دی تھی کہ امریکہ کے پاس ایران سے نمٹنے کے لئے تمام راستہ کھلے ہیں۔ ایران کی جانب سے مسلسل میزائل تجرباتی علاقائی سلامتی کے لئے سنگین خطرہ ہیں اور امریکہ علاقائی سلامتی اور اتحادیوں اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے کوئی بھی اقدام کرسکتا ہے۔ایرانی سپریم لیڈر نے اپنے بیان میں موجودہ امریکی صدر کی بجائے سابق صدرباراک اوباما کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف پابندیوں کا فیصلہ سابق صدر اوباما کے دور میں ہوگیا تھا۔ انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا اور کہ ٹرمپ نے دنیا کے سامنے امریکہ کا اصل چہرہ بے نقاب کیا ہے۔ایرانی سپریم لیڈر امریکی سربراہان کو سخت ترین الفاظ میں مخاطب کرتے رہتے ہیں لیکن اس مرتبہ ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں ایرانی بیان بازی میں وہ شدت، سختی اور لہجے کی کرختگی نہیں پائی گئی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT