Wednesday , September 20 2017
Home / دنیا / ایران پر تحدیدات کی برخاستگی کو امریکہ، یورپ کی منظوری

ایران پر تحدیدات کی برخاستگی کو امریکہ، یورپ کی منظوری

واشنگٹن ۔ 19 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ اور یورپی یونین نے رسمی طور پر ایران پر عائد تجارتی پابندیاں اٹھانے کی قانونی منظوری دے دی ہے۔ تاہم اس پر عمل درآمد ایران کی جانب سے نیوکلیئر معاہدے کی شرائط پوری کرنے کے ساتھ ہی شروع ہو سکے گا۔ خبر رساں ادارہ اے ایف پی کے مطابق اتوار کو ’منظوری کا دن‘ قرار دیا گیا جب امریکہ سمیت ایران سے معاہدہ کرنے والی چھ عالمی طاقتوں نے اس معاہدے کی رسمی طور پر توثیق کی۔ تاہم ایران جس کے ساتھ رواں سال جولائی میں عالمی طاقتوں نے معاہد ہ کیا تھا ان کا کہنا کہ یہ ایک طویل عمل ہے اور ممکن ہیکہ یہ رواں ہفتے ہی شروع ہو جائے۔ خیال رہیکہ معاہدے پر عمل درآمد کے بعد اگلا مرحلہ تب آئے گا جب بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی ٹیم اس بات کی توثیق کرے گی کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام میں نمایاں کمی کی ہے۔ ایران پابند ہیکہ وہ افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو تلف کرے، پلوٹونیم بنانے والے ری ایکٹر کو بند کرے اور ’سنٹری فیوج‘ ختم کرے۔ جب تک ایران اس سمجھوتے پر عمل درآمد نہیں کر لیتا تب تک پابندیاں اپنی جگہ برقرار رہیں گی اور غیر ملکی کمپنیاں ایران کے بینکوں اور تیل کی صنعتوں سے بھی رابطہ نہیں کر سکیں گی۔ آج ایران کے ساتھ نیوکلیئر معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی، روس اور امریکہ کے سفیر ویانا میں ملاقات کر رہے ہیں۔ اس ملاقات کا مقصد ایک کمیشن قائم کرنا ہے جو جوہری معاہدے پر عمل درآمد کے امور کی نگرانی کرے گا۔ اتوار کو جاری کردہ بیان میں امریکی صدر براک اوباما نے اس پیشرفت کو ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کیلئے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔ امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے کہا کہ ہیکہ ’اگر اس پر مکمل طور پر عمل درآمد ہو گیا تو یہ پہلی بار اندرونی معلومات فراہم کرے گا اور یہ ہمیشہ کیلئے ایران کے جوہری پروگرام کا احتساب ہو گا۔‘ ادھر ایران کی جوہری ایجنسی کے سربراہ علی اکبر صالحی نطنز اور فوردو کے علاقوں میں قائم ہزاروں سنٹری فیوجس کو تلف کرنے کیلئے صدرحسن روحانی کے حکم کے منتظر ہیں۔ اسی تناظر میں امریکی صدر اوباما کی جانب سے محکمہ جات خارجہ، خزانہ، اقتصادیات اور توانائی کو ہدایت نامہ جاری کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے، ’’میں آپ کو ہدایت کرتا ہوں کہ ایرانی جوہری معاہدے میں طے کردہ امریکی وعدوں پر عمل درآمد کیلئے تمام ضروری اقدامات کئے جائیں‘‘۔ یہ ہدایات نامے کی نقل وائٹ ہاؤس کے پریس کے شعبے نے ذرائع ابلاغ کو بھی مہیا کی ہے۔ اعلیٰ امریکی عہدیداروں نے تاہم نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں اداروں کو بتایا کہ صدر اوباما کے اس حکم نامے کے بعد بھی ایران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے کے باوجود تہران حکومت پر عائد پابندیاں اٹھانے کے عمل میں کم از کم دو ماہ لگ سکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT