Wednesday , July 26 2017
Home / مذہبی صفحہ / ایران کا ایک مکار سپہ سالار ’’حرمزان ‘‘

ایران کا ایک مکار سپہ سالار ’’حرمزان ‘‘

حرمزان ایران کا ایک مکار سپہ سالار تھا جو مسلمانوں کو اکثر دھوکہ دیتا رہا ، آخرکار گرفتار ہوا تو خواہش ظاہر کی کہ مجھے مسلمانوں کے خلیفہ حضرت عمر فاروقؓ کے پاس بھیج دو میں اپنا فیصلہ خلیفہ کے پاس کرلونگا ۔ چنانچہ بڑے اہتمام کے ساتھ اس کو مدینہ بھیج دیا گیا ۔ شہر میں داخل ہونے سے پہلے اس نے اپنا لباس تبدیل کیا ، سر پر تاج رکھا سارے گہنے پہن کر چھم چھم کرتا ہوا داخل ہوا ۔ مدینہ کے رہنے والے دنیا کے اس عجوبے کو دیکھنے جمع ہوگئے ۔حرمزان نے پوچھا تمہارے خلیفہ کا قصر کہاں ہے ؟ بتلایا گیا کوئی قصر وغیرہ نہیں ہے ایک عام مسلمانوں جیسا گھر ہے ۔ پوچھا آپ کے خلیفہ کہاں ہے اور ان کا حفاظتی دستہ کہاں ہے ؟ بتلایا گیا کوئی حفاظتی دستہ وغیرہ کچھ نہیں ۔ وہ ایک درخت کے نیچے آرام کررہے ہیں۔ حرمزان نے کہا اے عمرؓ چونکہ تم انصاف کرتے ہوئے اور بے خوف سوتے ہو ۔ حضرت عمر ؓ بیدار ہوئے اور پوچھا یہ کون ہے ؟ اور اس کو کیوں لایا گیا ہے ؟ بتلایا گیا کہ یہ ایران کا ایک سپہ سالار ہے اورحرمزان اس کا نام ہے ۔ حرمزان نے فوراً پانی کی فرمایش کی ، حضرت عمرؓ نے کہا اس کو پانی پلاؤ ۔ جب وہ پانی کا پیالہ ہاتھ میں لے کر حضرت عمرؓ سے پوچھا اس پانی کے پینے تک تو آپ مجھے قتل نہیں کریں گے ۔ حضرت عمرؓ نے کہا نہیں تم پانی پی لو ۔ اس نے کٹورہ اُلٹ دیا پانی پھینک دیا اور کہا اب آپ مجھے قتل نہیں کرسکتے ۔ حضرت عمرؓ اس کی مکاری پر تعجب ہی کررہے تھے کہ اس نے کلمہ پڑھ کر اقرار کیا اور داخل اسلام ہوگیا ۔ حضرت عمرؓ بہت خوش ہوئے دو ہزار سالانہ وظیفہ مقرر کیا۔ لیکن جب حضرت عمرؓ مغیرہ بن شعبہ کے غلام ابولولو فیروز کے ہاتھوں زخمی ہوئے تو عبدالرحمن بن ابوبکر نے عبید بن عمرؓ سے کہا کل میں نے ابولولو فیروز کو حرمزان کو ، جیفرزے کو ایک جگہ بیٹھا ہوا دیکھا اور یہ دو دہاری خنجر ان کے پاس تھا ۔ حضرت عبید بن عمرؓ نے جذبات میں آکر جیفرزے کو ، حرمزان کو ، ابولولو کی بیٹی کو قتل کردیا ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT