Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / ایران کو برڈ فلو وائرس پھیلنے کا خطرہ لاحق

ایران کو برڈ فلو وائرس پھیلنے کا خطرہ لاحق

تہران ۔ 26 ۔ ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) حالیہ دنوں میں ایران نے ہزاروں مرغیوں کو تلف کردیا کیونکہ ملک کے سات صوبوں میں برڈ فلو کی وباء پھیلنے کی اطلاع نے حکومت کو فکر مند کردیا ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ برڈ فلو وائرس نے دنیا کے تقریباً ہر ملک کو متاثر ضرور کیا ہے ۔ البتہ یہ مختلف ممالک کے احتیاطی اقدامات پر مبنی ہے کہ وہ اس وائرس کو سنگین تصور کرتے ہوئے اس سے جلد سے جلد چھٹکارا پانے میں کامیاب رہے۔ ہندوستان میں بھی برڈ فلو نے کافی تباہی مچائی تھی لیکن حکومت کے بروقت اقدامات سے وائرس کو پھیلنے سے روک دیا گیا جبکہ اموات کی تعداد بھی محدود رہی۔ جہاں تک ایران کا تعلق ہے تو وسطی ایران کے میگھان ویسٹ لینڈ میں 1000 پرندے جن میں زیادہ تعداد بطخوں کی تھی ، مردہ پائے گئے تھے ۔ ماحولیات کا تحفظ کرنے والی ایک تنظیم نے ارنا خبر رساں ایجنسی کو یہ بات بتائی جس کے مطابق صوبہ قازوین میں 63000 مرغیاں اور آٹھ لاکھ انڈے اور صرف ایک دن قبل پیدا ہوئے چوزوں کو تلف کردیا گیا کیونکہ برڈ فلو وائرس H1N5 کے پھیل جانے سے ایران کو یہ خطرہ لاحق ہوگیا کہ صورتحال کہیں مزید سنگین نہ ہوجائے ۔اس طرح وسط نومبر سے اب تک ملک میں 725,000 پرندوں کو تلف کیا جاچکا ہے ۔ یہ اعداد و شمار ورلڈ آرگنائزیشن فار اینمل ہیلتھ کی جانب سے جاری کئے گئے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ ایران نے اب پرندوں کے شکار کے لئے بھی لائسنس بھی معطل کردیئے گئے ہیں تاکہ ہجرت کرنے والے پرندوں کے  ذریعہ انفیکشن کا سلسلہ روکا جاسکے ۔ علاوہ از یں عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ مقامی بازاروں سے پرندوں کی خریداری نہ کی جائے ۔ یاد رہے کہ مختلف ممالک میں برڈ فلو  سے ہوئی اموات کی تعداد زیادہ نہیں ہے تاہم اگر احتیاطی اقدامات نہ کئے جائیں تو وائرس ایک پرندے سے دوسرے پرندے کو منتقل ہوکر حالات کو سنگین بناسکتا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ احتیاطی اقدامات کے طور پر پرندوں کی اتنی بڑی تعداد کو تلف کردیا گیا تاکہ وائرس کے پھیلنے کے امکانات کو ہی ختم کردیا جائے ۔ بہرحال ہندوستان جیسے ترقی پذیر ملک میں برڈ فلو سے نمٹنے کے جو موثر اقدامات کئے گئے تھے اس سے دنیا کے سبھی ممالک کو تحریک ملی ہے کیونکہ جنگی خطوط پر اگر کوئی کام کیا جائے تو اس کی کامیابی یقینی ہوجاتی ہے ۔ جس طرح پولیو ڈراپس پلانے کا کام انتہائی دیانتداری سے انجام دیا جاتاہے جہاں ورکرس کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ کسی بھی گھر میں کوئی بھی چھوٹا بچہ پولیو خوراک سے محروم نہ رہے جبکہ پڑوسی ملک پاکستان میں پولیو سے متعلق بیداری پروگرامس کئے جانے کے باوجود بھی وہاں پولیو پر مکمل طور پر قابو نہیں پایا جاسکا۔ا یران کو فی الحال یہی تشویش لاحق ہے کہ برڈ فلو وائرس پرندوں سے انسان اور ایک انسان سے دوسرے انسان کو بھی منتقل ہوسکتا ہے جسکی روک تھام ضروری ہے ۔ ایران ایک ایسا ملک ہے جہاں کی وزارت صحت نے ہمیشہ موثر اقدامات کرتے ہوئے عوام کی صحت کا پو را پورا خیال رکھا ہے لیکن کبھی کبھی کچھ وبائیں اچانک پھوٹ پڑتی ہیں اور جب اموات کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے تو ہر ایک کے ہوش اڑ جاتے ہیں۔ اس وقت دنیا کی کوئی بھی حکومت ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھ سکتی اور اس وقت یہی سب کچھ ایران میں ہورہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT