Tuesday , October 24 2017
Home / Top Stories / ایران کی پارلیمنٹ اور آیت اللہ خمینی کی مزار پر خودکش حملہ ، 12ہلاک

ایران کی پارلیمنٹ اور آیت اللہ خمینی کی مزار پر خودکش حملہ ، 12ہلاک

دولت اسلامیہ نے ذمہ داری قبول کی ، ایران پہلی مرتبہ دہشت گردی کا نشانہ ، حملہ آوروں میں ایک خاتون بھی شامل

تہران۔ 7 جون (سیاست ڈاٹ کام) ایران میں دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے آج ایک ایسا حملہ کردیا جس نے ساری دنیا کو حیران کردیا۔ خودکش حملہ آوروں اور بندوق برداروں نے ایران کی پارلیمنٹ اور ملک کے بانی انقلاب کی مزار پر ہلہ بولتے ہوئے 12 افراد کو ہلاک کردیا۔ جبکہ درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے۔ ایران کی اثناء خبر رساں ایجنسی کے مطابق چار بندوق بردار ایران کی پارلیمنٹ کی عمارت میں رائفلز اور پستول لے کر گھس گئے اور اندھا دھند فائرنگ شروع کردی جس میں ایک سکیورٹی گارڈ اور ایک دیگر شخص ہلاک ہوگئے۔ پارلیمنٹ کی عمارت کی چوتھی منزل پر دریں اثناء ایک حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اُڑا لیا جبکہ پولیس کے ساتھ بھی کئی گھنٹوں تک فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا۔ شہر کے جنوبی علاقہ میں واقع آیت اللہ روح اللہ خمینی کے مزار کو بھی حملہ آوروں نے نہیں بخشا اور صبح کی اولین ساعتوں میں وہاں حملہ کردیا جس میں مزار کے اطراف موجود باغ کی نگرانی کرنے والا مالی ہلاک ہوگیا اور دیگر کئی لوگ زخمی ہوئے۔ مزار کے باہر کم و بیش دو حملہ آوروں نے جن میں سے ایک خاتون تھی، خود کو دھماکہ سے اُڑا لیا۔

اس دوران ایران کی ہنگامی حالات کی خدمات سے وابستہ ایجنسی نے بتایا کہ زخمیوں کو ہاسپٹل میں شریک کیا گیا ہے جن میں سے دو افراد زخموں سے جانبر نہ ہوسکے۔ دولت اسلامیہ نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کی ہے کیونکہ ان کی پروپگنڈہ ایجنسی عمق نے اس بات کی توثیق کی ہے کہ ایران کی پارلیمنٹ کی عمارت اور آیت اللہ روح اللہ خمینی کے مزار پر حملے کئے گئے ہیں اور یہ توثیق بھی کی گئی ہے کہ مزار کے قریب دو حملہ آوروں نے خود کو دھماکہ سے اُڑا لیا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ دلچسپ ہوگا کہ جس وقت حملے ہوئے اُس وقت پارلیمنٹ کا سیشن جاری تھا تاہم اس کے باوجود پارلیمانی کارروائی کو ترک نہیں کیا گیا جبکہ عمارت کے باہر سے فائرنگ کے تبادلے کی مسلسل آوازیں آرہی تھیں جبکہ کچھ کمانڈوز عمارت کی چھت پر پہنچ کر حملہ آوروں سے فائرنگ کا تبادلہ کررہے تھے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پارلیمنٹ کی عمارت پر حملہ کو اسپیکر علی لاریجانی نے یہ کہہ کر تن آسانی سے لیا کہ یہ کوئی سنگین معاملہ نہیں ہے اور ہماری سکیورٹی فورسیس حملہ آوروں سے نمٹ لے گیں۔ دوسری طرف فارس نیوز ایجنسی کے مطابق جس وقت آس پاس کے دفاتر سے فائرنگ کی آوازیں آنے میں شدت پیدا ہوگئی تو اس وقت پولیس کو بھی اپنی جوابی کارروائی میں شدت پیدا کرنی پڑی۔ سوشیل میڈیا پر گشت کرنے والی ایک تصویر میں بتایا گیا کہ پولیس، پارلیمنٹ اسٹاف کو کھڑکیوں کے ذریعہ باہر نکلنے میں مدد کررہی ہے۔ فارس نیوز ایجنسی نے خاتون خودکش حملہ آور کی تصویر بھی شائع کی ہے جو خودکو دھماکہ سے اُڑا رہی ہے۔ خمینی کا مزار پارلیمنٹ کی عمارت سے 20 کیلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ خمینی نے 1979ء میں ایران میں بادشاہت کے خاتمہ اور ایرانی انقلاب لانے میں اہم رول ادا کیا تھا۔ اس موقع پر ایران کے وزیر داخلہ عبدالرحمن فضلی نے بتایا کہ انہوں نے ملک کی سکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا۔ شیعہ اکثریت والے ملک ’’ایران‘‘ ،شام کی بشارالاسد حکومت اور عراق میں دولت اسلامیہ کے خلاف لڑائی میں اپنا مکمل تعاون پیش کرتا رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT