Wednesday , October 18 2017
Home / Top Stories / ایران کے راستے اسلامک اسٹیٹ تک رسائی

ایران کے راستے اسلامک اسٹیٹ تک رسائی

کیرالا سے لاپتہ 17 افراد کے بارے میں نیا انکشاف
نئی دہلی۔15جولائی (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان نے کیرالا کے 17 باشندوں کا پتہ چلانے میں ایران سے تعاون کی خواہش کی ہے جو کہ گزشتہ ایک ماہ سے لاپتہ ہوگئے ہیں۔ شبہ کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ اسلامک اسٹیٹ (داعش) میں شمولیت اختیار کرلئے ہوں گے۔ ہندوستانی تحقیقاتی اداروں نے یہ انکشاف کیا ہے کہ 17 کیرالائی باشندے بشمول خواتین و بچے اچانک غائب ہونے سے قبل ٹورسٹ ویزا پر ایران گئے تھے۔ ایک سینئر انٹلی جنس آفیسر نے بتایا کہ ایرانی حکام سے ربط قائم کرکے یہ خواہش کی گئی ہے کہ لاپتہ افراد کی تلاشی میں تعاون کیا جائے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ یہ لوگ ایران کے گبعد کہاں چلے گئے۔ لاپتہ افراد میں 9 مرد، 4 خواتین اور ایک بچہ شامل ہے جس میں 30 سال کی عمر کے 3 خواتین حاملہ ہیں۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ لاپتہ افراد ایک ماہ قبل دو مختلف گروپ کی شکل میں ہندوستان سے روانہ ہوئے تھے۔ ایک گروپ مسقط اور دوسرا گروپ دبئی پہنچا تھا جہاں سے وہ تہران کے لئے روانہ ہوگئے چونکہ یہ لوگ ٹورسٹ ویزا پر افراد خاندان کے ساتھ روانہ ہوئے تھے جس کے باعث شک کے دائرے میں نہیں آسکے تاہم سرکاری ذرائع نے یہ اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ ایک گروپ ممکن ہے کہ افغانستان پہنچ گیا ہے جہاں پر اس کی سرحد ایران سے ملتی ہے اور صوبہ خراسان جاکر اسلامک اسٹیٹ میں شمولیت اختیار کرلی ہوگی۔ دوسرا امکان ہے کہ براہ عراق، شام میں داخل ہوگئے ہوں گے

جبکہ صوبہ خراسان اسلامک اسٹیٹ کے زیر کنٹرول سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کو یہ پیام موصول ہوجاتا کہ وہ، خلیفہ کے پاس پہنچ گئے ہیں جو کہ عسکریت پسندوں کے لئے محفوظ پناہ گاہ ہے۔ واضح رہے کہ تحریک طالبان کے منقسمہ گروپس نے 2015 ء میں ولایت خراساں اسلامک اسٹیٹ قائم کی ہے۔ کیرالا میں ضلع کسرگڑھ سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کو پیام ملا ہے کہ وہ اپنی منزل مقصود پر پہنچ گئے ہیں لیکن تفصیلات کا انکشاف نہیں کیا گیا۔ لاپتہ اافراد میں ایک شخص جو کہ مقامی اسکول کا منیجر ہے حال ہی میں اپنی اہلیہ کے ساتھ مشرف بہ اسلام ہوا تھا۔ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ انہیں ایران تک سفر کرنے کے لئے رقومات بھیجی گئی تھیں۔ لیکن محکمہ انٹلیجنس ، اس پہلو کا بھی جائزۃ لے رہا ہے اگر چکہ دیگر افراد نے بھی اسلامک اسٹیٹ میں شمولیت اختیار کی تھی لیکن ان کے بارے میں کوئی اطلاعات نہیں ہیں چونکہ ایران کے راستے داعش تک پہنچنے کا انکشاف ہوا جس کے پیش نظر ملک کے تمام طیرانگاہوں پر چوکسی اختیار کرلی گئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT