Saturday , July 22 2017
Home / دنیا / ایران کے نیوکلیئر معاہدہ کی تنسیخ پر سنگین نتائج

ایران کے نیوکلیئر معاہدہ کی تنسیخ پر سنگین نتائج

وائیٹ ہاؤز کا انتباہ، صدر اوباما ایک اور ماہ تک صدر برقرار ، امریکی کانگریس کا غور
واشنگٹن ۔ 16 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکی کانگریس کو ایران کے ساتھ نیوکلیئر معاہدہ کی تنسیخ کے ’’سنگین‘‘ نتائج پر غور کرنا ہوگا کیونکہ ایسی صورت میں امریکہ کیلئے مشکل ہوجائے گا کہ ہندوستان، چین اور جاپان کو قائل کرسکے کہ ایران پر امریکی تحدیدات کا تسلسل جائز ہے۔ وائیٹ ہاؤز نے امریکی کانگریس کو اس کا انتباہ دیا۔ وائیٹ ہاؤز کے معتمد ذرائع ابلاغ جوش ارنیسٹ نے کل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکی کانگریس معاہدہ کو منسوخ کردے جس کے تحت ایران کو نیوکلیئر ہتھیاروں کے حصول سے روک دیا گیا ہے۔ امریکی کانگریس کو نتائج سے نمٹنا ہوگا جو انتہائی سنگین ہوں گے۔ جوش ارنیسٹ نے کہا کہ وائیٹ ہاؤز بعض ارکان امریکی کانگریس کی غیرذمہ دارانہ کوششوں کی وجہ سے جو ایسے مسودہ قانون پیش کررہے ہیں جن سے ایران کے ساتھ نیوکلیئر معاہدہ کے مقصد کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ اگر یہ معاہدہ ناکام ہوجائے تو اس بات کا قوی امکان ہیکہ ایران اپنے ملک سے معائنہ کاروں کو نکال باہر کرے گا۔ یہ وہ معائنہ کار ہیں

جنہیں فی الحال اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ ایران کے نیوکلیئر پروگرام پر گہری نظر رکھیں اور دنیا کے کسی بھی نیوکلیئر پروگرام کی بہ نسبت ایران کے نیوکلیئر پروگرام کی نگرانی کرتے رہیں لیکن انہیں اس بات کا بھی اندازہ ہونا چاہئے کہ قانون سازیوں سے معاہدہ کی اہمیت ختم ہوجائے گی اور مخلوط اتحاد جو ہم نے قائم کیا ہے، منتشر ہوجائے گا۔ یہ امریکہ کیلئے انتہائی مشکل ہوگا کہ ہندوستان، چین اور جاپان جیسے ممالک سے تحدیدات کی عمل آوری میں مدد حاصل کرے۔ ہمیں ان ممالک کو قائل کروانے میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا کہ امریکی تحدیدات کا تسلسل ضروری ہے کیونکہ امریکی کانگریس کی جانب سے ایران کے ساتھ معاہدہ کی تنسیخ ایک غلطی ہوگی۔ صدر اوباما ایک اور مہینہ کیلئے صدر برقرار رہیں گے اس کے بعد امریکی کانگریس کو نتائج سے نمٹنا پڑے گا۔ اگر وہ غیرذمہ دارانہ قانون سازی پر عمل کرنا چاہیں اور معاہدہ کو منسوخ کردیں تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT