Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / ایرہ گڈہ ہفتہ وار مارکٹ کو برخواست کرنے کی کوششوں پر انتباہ

ایرہ گڈہ ہفتہ وار مارکٹ کو برخواست کرنے کی کوششوں پر انتباہ

حکومت اور وزرا غریب عوام کو کاروبار سے بیدخل کرنے کوشاں : کانگریس لیڈر ششی دھر ریڈی
حیدرآباد۔ 28 فروری (سیاست نیوز) ’حکومت کے ذمہ دار وزراء، غریب عوام کو انکے کاروبار سے بے دخل کرکے ریاست میں بدامنی پھیلانے کے مرتکب بن رہے ہیں۔ صنعت نگر میں واقع ایرہ گڈہ مارکٹ کو برخاست کروانے کی کوشش کامیاب نہیں ہوسکتی اور کوئی طاقت اس مارکٹ کے مقام کو تبدیلی نہیں کرواسکتی جبکہ 200 سالہ قدیم اس مارکٹ کو برخاست نہ کرنے عدالت کا حکم موجود ہے‘۔ مسٹر ایم ششی دھر ریڈی سینئر کانگریس قائد نے آج ایرہ گڈہ مارکٹ کا دورہ کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کے وزیر ، عہدیداروں کو ہدایت دے کر اس قدیم مارکٹ کو برخاست کروانے کی کوشش کررہے ہیں۔ مسٹر ریڈی نے کہا کہ اگر یہ کوششیں جاری رہیں تو وہ توہین عدالت کا مقدمہ دائر کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ایرہ گڈہ مارکٹ میں ہفتہ وار تاجروں کے علاوہ خریداروں پر بھی اثرات مرتب ہونگے اسی لئے وہ گزشتہ ایک ہفتہ سے کمشنر بلدیہ و کمشنر پولیس کی توجہ اس جانب مبذول کروا رہے ہیں۔ قائد کانگریس نے آج ایرہ گڈہ مارکٹ پہنچ کر عوام اور چھوٹے تاجرین سے ملاقات کی۔ یہاں ان کا پرتپاک خیرمقدم کیا گیا۔ ششی دھر ریڈی نے کہا کہ ریاستی وزیر مسٹر ٹی سرینواس یادو کی ایماء پر یہ کارروائیاں ہورہی ہیں جو مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت اگر ان چھوٹے تاجرین کو اس مقام سے منتقل کرنا بھی چاہے تو ممکن نہیں ہے ۔ ششی دھر ریڈی نے کہا کہ عہدیداروں کو چاہئے کہ وہ وزیر کے احکام پر عمل سے قبل اس کے نتائج پر غور کریں چونکہ وزیر کے ہر حکم کی تعمیل عہدیداروں کیلئے ضروری نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت یا پولیس اگر اس معاملے میں عوام پر ظلم کرتے ہیں تو اسکے سنگین نتائج برآمد ہونگے۔ ششی دھر ریڈی کے ہمراہ سابق کارپوریٹر ایوب خان، سلیم خان، محمد مجید، بی نریندر، عباس شریف، رمیش، کرشنا یادو، راج کمار گوڑ، علا الدین، اکبر و دیگر موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ جب اس حلقہ کے رکن اسمبلی تھے، اس وقت بھی اس مارکٹ کو برخاست کروانے دباؤ ڈالا جاتا رہا لیکن کبھی انہوں نے اس دباؤ کو قبول نہیں کیا چونکہ یہ مسئلہ غریب عوام کے جذبات و ذریعہ معاش سے مربوط ہے اور 200 سال سے یہ بازار موجود ہے جسے ختم نہیں کروایا جاسکتا۔ انہوں نے اس مارکٹ کے معاملے میں کمشنر بلدیہ و کمشنر پولیس سے بات چیت کرتے ہوئے تاجرین کو ہراساں نہ کرنے کا مشورہ دیا۔

TOPPOPULARRECENT