Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / ایریا سبھا و وارڈ کمیٹیوں کی تشکیل میں محتاط اقدامات متوقع

ایریا سبھا و وارڈ کمیٹیوں کی تشکیل میں محتاط اقدامات متوقع

ماضی کی غلطیوں کا اعادہ نہ کرنے حکومت سے نمائندگی کا فیصلہ
حیدرآباد ۔ /12 فبروری (سیاست نیوز) شہری سطح پر نظام ترقی کو بہتر بنانے کیلئے قوانین کے اعتبار سے کارپوریٹر کے علاوہ وارڈ کمیٹی ارکان نامزدگی کو ضروری قرار دیا گیا ہے ۔ لیکن گزشتہ بلدیہ کے دوران کارپوریٹرس کی جانب سے اپنے رفقاء اور قریبی رشتہ داروں کو ایریا سبھا اور وارڈ کمیٹی اراکین کے عہدوں پر فائز کرتے ہوئے من مانی چلائی گئی تھی لیکن اس مرتبہ ریاست میں برسراقتدار تلنگانہ راشٹرسمیتی حکومت کی جانب سے شفاف طرز حکمرانی کی فراہمی اور ترقیاتی کاموں کو دھاندلیوں سے پاک بنانے کے دعوؤں سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کی جانب سے اس مرتبہ ایریا سبھا اور وارڈ کمیٹیوں کے انتخاب کے سلسلسہ میں کافی احتیاط سے کام لیا جائے گا اور ان عہدوں کو سیاسی بازآبادکاریوں کا مرکز بننے نہیں دیا جائے گا ۔ شہر کے مختلف مقامات بالخصوص پرانے شہر سے تعلق رکھنے والے بیشتر کارپوریٹرس نے سیاسی قائدین کی ایماء پر محلہ جات میں جماعت کیلئے خدمات انجام دینے والے کارکنوں کو یہ عہدے فراہم کئے تھے جس کی وجہ سے عوام کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ ایریا سبھا اور وارڈ کمیٹی کو حاصل اختیارات کا اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ کارپوریٹر جب تک ایریا سبھا اور وارڈ کمیٹی سے کاموں کی منظوری حاصل نہیں کرتے اس وقت تک کاموں کی انجام دہی ممکن نہیں ہوتی ۔ اسی لئے ان کمیٹیوں میں علاقہ کی سرکردہ شخصیات بالخصوص بااثر افراد جیسے ائمہ مساجد ، ڈاکٹرس ، انجنیئرس ، صحافی یا پھر کسی ایسی شخصیت کو ان کمیٹیوں میں شامل کرنا چاہئیے جن کے کردار اور منصوبے عوام کو پسند ہوں ۔ رضاکارانہ تنظیم کووا کی جانب سے 2009 ء بلدی انتخابات کے بعد بڑے پیمانے پر مہم چلاتے ہوئے ایریا سبھا اور وارڈ کمیٹی کی تشکیل کی جدوجہد کی گئی تھی تاکہ عوامی حکومت عوام کے ہاتھوں میں برقرار رکھی جاسکے ۔ ان کوششوں کے ثمر آور نتائج برآمد ہوئے لیکن سیاسی چالبازیوں کے ذریعہ یہ عمل بھی رائیگاں ثابت ہوا ۔ مگر اس مرتبہ حکومت کی جانب سے سنجیدگی اختیار کی جاتی ہے اور ایریا سبھا کی تشکیل کیلئے موجود جی او ایم ایس نمبر 57 ، 2010 ء پر موثر عمل آوری کے ذریعہ قدآور شخصیات کو وارڈ کمیٹی یا ایریا سبھا میں شامل کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں شہر کی حالت کو تبدیل کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا جاسکتا ہے ۔ ڈاکٹر مظہر حسین ڈائرکٹر کووا نے بتایا کہ ان کی تنظیم کے علاوہ دیگر تنظیموں کی جانب سے اس بات کی کوشش کی جارہی ہے کہ شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی سرکردہ شخصیات کو ان کمیٹیوں میں شامل ہونے کیلئے رضامند کیا جائے تاکہ ترقیاتی کاموں میں نہ صرف شفافیت پیدا ہو بلکہ ان کے تجربات اور تجاویز کو حاصل کرتے ہوئے نئی راہ کا تعین کیا جاسکے ۔ مختلف تنظیموں کے سربراہوں نے اس سلسلے میں چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے علاوہ وزیر بلدی نظم و نسق مسٹر کے ٹی راما راؤ سے ملاقات کرتے ہوئے عملی اقدامات کا مطالبہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ایریا سبھا اور وارڈ کمیٹیوں کی تشکیل کیلئے تقریباً 10 تا 12 تنظیموں کی جانب سے حکومت کو نمائندگی روانہ کی جاچکی ہے جس میں غیرجانبدار اور سنجیدہ افراد پر مشتمل ایریا سبھا و وارڈ کمیٹی کی تشکیل کی جانب توجہ مبذول کروائی گئی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT